ویرات کوہلی کا انکشاف: بی سی سی آئی کے روبوٹک کتے ‘چمپاک’ سے شدید ناراضگی
ویرات کوہلی کا بی سی سی آئی کے ‘چمپاک’ روبوٹ پر غصہ
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے میدانوں میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرکٹ شائقین کے لیے تو دلچسپ ہو سکتا ہے، لیکن کھلاڑیوں کے لیے یہ کبھی کبھار سر درد کا باعث بن جاتا ہے۔ حال ہی میں رائل چیلنجرز بنگلورو کے سابق کپتان ویرات کوہلی نے ایک ایسا انکشاف کیا ہے جس نے کرکٹ کی دنیا میں بحث چھیڑ دی ہے۔ کوہلی نے بی سی سی آئی کی جانب سے میدان میں متعارف کرائے گئے روبوٹک کتے ‘چمپاک’ پر اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔
آخر یہ ‘چمپاک’ کیا ہے؟
آئی پی ایل 2025 کے سیزن میں بی سی سی آئی اور براڈکاسٹرز نے ایک نیا روبوٹک کیمرہ متعارف کرایا تھا جسے ‘چمپاک’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک جدید ترین روبوٹک کتا ہے جو کیمروں سے لیس ہے اور میدان میں ہونے والی ہر سرگرمی کو قریب سے فلماتا ہے۔ wTVision کی جانب سے ڈیزائن کردہ یہ روبوٹ اپنے 3D پرنٹڈ شیل اور خاص گیمبل سسٹم کی بدولت کسی بھی ناہموار سطح پر مستحکم فوٹیج لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
کوہلی کیوں ناراض ہیں؟
آر سی بی پوڈ کاسٹ کے دوران بات کرتے ہوئے ویرات کوہلی نے کہا کہ کھلاڑیوں کی نجی گفتگو اور میدان میں ان کے لمحات کو اس طرح مسلسل ریکارڈ کرنا حد سے زیادہ ہے۔ کوہلی نے خاص طور پر اس واقعے کا ذکر کیا جب لکھنؤ سپر جائنٹس کے خلاف میچ کے بعد وہ اپنے دوست اور سابق کیوی کپتان کین ولیمسن سے بات کر رہے تھے۔
کوہلی نے بتایا، ‘میں کین ولیمسن کے ساتھ کچھ سنجیدہ بات کر رہا تھا، اور یہ روبوٹک چیز وہاں آ کر اپنے پنجے ہلا رہی تھی۔ میں سوچ رہا تھا کہ یہ ایسا کیوں کر رہا ہے؟ میں اپنے دوست سے بات کر رہا ہوں، لیکن ہر چیز کو کیمرے میں قید کیا جا رہا ہے۔’
کھلاڑیوں کی پرائیویسی کا مسئلہ
ویرات کوہلی کا ماننا ہے کہ براڈکاسٹرز اور انتظامیہ کو ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے وقت کھلاڑیوں کی ذہنی کیفیت اور پرائیویسی کا خیال رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا: ‘کیا کھلاڑی ہر وقت فلمائے جانے کے لیے تیار ہے؟ ان چیزوں کو مدنظر رکھنا بہت ضروری ہے۔’ کوہلی نے انکشاف کیا کہ انہیں خود روبوٹ کے آپریٹر کو کہہ کر اسے وہاں سے ہٹانا پڑا تاکہ وہ اپنے دوست سے سکون سے بات کر سکیں۔
دوستی بمقابلہ سوشل میڈیا کا شور
کوہلی نے اس بات پر بھی مایوسی کا اظہار کیا کہ آج کل میدان میں دو کھلاڑیوں کی آپس میں بات چیت کو بھی ایک بڑا ‘ایونٹ’ بنا دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کین ولیمسن کے ساتھ ان کی دوستی انڈر 19 کے دنوں سے ہے، لیکن اب اگر وہ میدان میں کسی سے بات کریں تو سوشل میڈیا پر اسے ایک نیا رخ دے دیا جاتا ہے۔
‘بیچارہ کین کچھ کہہ رہا ہے، لیکن میں اسے سن بھی نہیں سکتا کیونکہ ہمیں ہر وقت ریکارڈ کیا جا رہا ہوتا ہے۔ اگر میں کسی سے بات کروں تو وہ بڑی خبر بن جاتی ہے۔ یہ سب بہت زیادہ ہو رہا ہے،’ کوہلی نے اپنے جذبات کا کھل کر اظہار کیا۔
ٹیکنالوجی اور کرکٹ کا توازن
اگرچہ ٹیکنالوجی کرکٹ کی نشریات کو بہتر بنانے کے لیے اہم ہے، لیکن ویرات کوہلی کا یہ مؤقف قابل غور ہے کہ کیا ہم ٹیکنالوجی کی دوڑ میں انسانی پہلو کو نظر انداز کر رہے ہیں؟ کھلاڑی بھی انسان ہیں اور انہیں میدان میں چند لمحات سکون سے گزارنے کا حق حاصل ہے۔ بی سی سی آئی کو مستقبل میں ایسی ٹیکنالوجی متعارف کراتے وقت کھلاڑیوں کے ساتھ مشاورت کرنی چاہیے تاکہ میدان کا ماحول خوشگوار رہ سکے۔
یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ کرکٹ صرف اعداد و شمار اور ٹیکنالوجی کا کھیل نہیں ہے، بلکہ اس میں شامل انسانوں کے جذبات اور باہمی تعلقات بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے کہ میچ کے نتائج۔
