Latest Cricket News

کرشنماچاری سری کانت نے رتھوراج گائیکواڑ کو “عام کرکٹر” قرار دے دیا – سی ایس کے کی مشکلات

David R. Finch · · 1 min read
Share

سابق بھارتی کپتان اور کرکٹ کے معروف مبصر، کرشنماچاری سری کانت، چنئی سپر کنگز (سی ایس کے) کے کپتان رتھوراج گائیکواڑ کی کارکردگی پر ایک بار پھر برس پڑے ہیں۔ سری کانت کی یہ سخت تنقید اس وقت سامنے آئی جب جمعہ کو لکنؤ میں لکنؤ سپر جائنٹس کے خلاف سی ایس کے کو ایک اہم شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس شکست نے دفاعی چیمپئن سی ایس کے کی پلے آف میں رسائی کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور انہیں اب اپنے اگلے دونوں لیگ میچز اچھے نیٹ رن ریٹ کے ساتھ جیتنا لازمی ہوگا تاکہ لگاتار تیسرے آئی پی ایل سیزن میں لیگ مرحلے سے باہر ہونے کی شرمندگی سے بچا جا سکے۔

سی ایس کے کی مشکلات اور سری کانت کی کڑی تنقید

سی ایس کے کے لیے یہ سیزن توقعات کے مطابق نہیں رہا، جہاں ٹیم مسلسل اپنے اوپنرز کی غیر مستحکم کارکردگی کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے۔ کرشنماچاری سری کانت نے اپنے یوٹیوب چینل پر گائیکواڑ اور ان کے اوپننگ پارٹنر سنجو سیمسن کی جوڑی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا، “سنجو اور رتھوراج کی اس پورے سیزن میں ایک بھی نمایاں شراکت نہیں رہی۔ اوپنرز کامیابی کی کنجی ہوتے ہیں۔ گائیکواڑ پورے سیزن میں عام کرکٹر رہے ہیں۔”

سری کانت نے مزید کہا، “سنجو نے پہلے اوور کے بعد چیزوں کو خراب کر دیا، اور رتھوراج گائیکواڑ نے بھی یہی کیا۔ لکنؤ کے باؤلرز نے انہیں کبھی بھی آسان گیندیں نہیں دیں، اور دونوں ہی بلے باز دباؤ میں آگئے۔ اگرچہ انگلیس نے زیادہ اسکور نہیں کیا، لیکن مارش کے ساتھ ان کی شراکت نے ایک واضح فرق پیدا کیا۔” یہ تبصرہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سری کانت سمجھتے ہیں کہ اوپننگ اسٹینڈز کی ناکامی نے سی ایس کے کی شکستوں میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

لکنؤ سپر جائنٹس کے خلاف میچ کا تفصیلی جائزہ

لکنؤ سپر جائنٹس، جو کہ آئی پی ایل 2026 کے پلے آف کی دوڑ سے پہلے ہی باہر ہو چکی تھی، اس میچ میں بغیر کسی دباؤ کے میدان میں اتری۔ سی ایس کے نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 186 رنز کا ہدف دیا، جسے لکنؤ نے باآسانی حاصل کر لیا۔

سی ایس کے کی اننگز: غیر مستحکم آغاز اور آخری اوور کا دھماکہ

سی ایس کے کی اننگز کا آغاز انتہائی خراب رہا۔ بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز آکاش سنگھ، جو اس سیزن میں اپنا پہلا میچ کھیل رہے تھے، نے پہلے آٹھ اوورز میں ہی سی ایس کے کے ٹاپ تھری بلے بازوں کو پویلین کی راہ دکھا دی۔ اس کے بعد کارٹک شرما اور ڈیوالڈ بریوس نے چوتھی وکٹ کے لیے 70 رنز کی شراکت قائم کرکے اننگز کو سنبھالا۔ شرما نے شاندار 71 رنز بنا کر اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ آخری چار اوورز میں شیوم دوبے اور پرشانت ویر نے ذمہ داری سنبھالی، لیکن انہیں حقیقی اثر دکھانے میں آخری اوور تک انتظار کرنا پڑا، جب انہوں نے 23 رنز بٹورے اور ٹیم کو ایک قابل دفاع ہدف تک پہنچایا۔ تاہم، یہ ہدف لکنؤ کے دھماکہ خیز اوپنرز کے سامنے ناکافی ثابت ہوا۔

لکنؤ کا کامیاب تعاقب: مچل مارش کا طوفان اور شراکت کی اہمیت

لکنؤ کے تعاقب کا آغاز مچل مارش نے کیا۔ انہوں نے ہدف کا تعاقب خود ہی کرنے کا عزم کر رکھا تھا۔ مارش نے فیلڈنگ کی پابندیوں کا بہترین استعمال کرتے ہوئے پاور پلے کے اندر ہی 21 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کر لی۔ وہ خاص طور پر انشول کمبوج پر سخت تھے، ہریانہ کے اس باؤلر کے پانچویں اوور میں 28 رنز لوٹے، جس میں لگاتار چار چھکے بھی شامل تھے۔ جوش انگلیس، اگرچہ غیر معمولی طور پر سست کھیل رہے تھے، نے مارش کے ساتھ ایک بہترین دوسری فڈل کھیلی، اور دونوں آسٹریلوی بلے بازوں نے پہلی وکٹ کے لیے 135 رنز کی اہم شراکت قائم کی۔ بدقسمتی سے، دونوں ہی تعاقب کے بارہویں اوور میں آؤٹ ہو گئے۔ انگلیس مکیش چودھری کی گیند پر آؤٹ ہوئے، اور اگلی ہی گیند پر مارش نان اسٹرائیکر اینڈ پر بہت زیادہ آگے نکلنے کی وجہ سے رن آؤٹ ہو گئے، انہوں نے 38 گیندوں پر 90 رنز کی شاندار اننگز کھیلی۔

اس وقت تک زیادہ تر نقصان ہو چکا تھا۔ لکنؤ کو 24 گیندوں میں 24 رنز درکار تھے، اور کمبوج کو دوبارہ باؤلنگ کے لیے لایا گیا، جہاں نکولس پورن نے انہیں لگاتار چار چھکے لگائے اور لکنؤ کو ایک تسلی بخش جیت دلائی۔ (اس واقعے کے بعد انشول کمبوج کو آئی پی ایل کی تاریخ کا بدترین باؤلر بھی قرار دیا گیا، ایک افسوسناک ریکارڈ ان کے نام ہو گیا۔)

گائیکواڑ کی کارکردگی اور قیادت پر سوالات

اس میچ میں رتھوراج گائیکواڑ نے 9 گیندوں پر صرف 13 رنز بنائے جبکہ ان کے اوپننگ پارٹنر سنجو سیمسن نے 20 گیندوں پر 20 رنز بنائے۔ یہ کارکردگی ایک ایسے اوپننگ جوڑی کے لیے کافی نہیں تھی جو اپنی ٹیم کو مستحکم آغاز فراہم کرے۔ سری کانت کے تبصرے، جو ایک سابق کپتان اور چیف سلیکٹر کی حیثیت سے آتے ہیں، گائیکواڑ کی قیادت اور بلے بازی پر اہم سوالات اٹھاتے ہیں۔ ایک کپتان کے طور پر گائیکواڑ پر ایم ایس دھونی جیسے لیجنڈری کپتان کی جگہ لینے کا دباؤ تھا، اور سیزن کے اس نازک موڑ پر ان کی کارکردگی مزید جانچ کا شکار ہے۔

پلے آف کی امیدیں اور آئندہ چیلنجز

سری کانت نے سی ایس کے کی پلے آف میں کوالیفائی کرنے کی امیدوں پر بھی تبصرہ کیا، “سی ایس کے ابھی تک پلے آف کی دوڑ سے باہر نہیں ہوئی ہے۔ ہر کسی نے سیزن کے آغاز میں پنجاب کنگز کی بہت تعریف کی تھی، لیکن وہ اب جدوجہد کر رہے ہیں اور ایک غیر یقینی صورتحال میں ہیں۔ راجستھان رائلز کو پنجاب کی گراوٹ اور سی ایس کے کی اس شکست سے سب سے زیادہ فائدہ ہوا ہے۔ سن رائزرز حیدرآباد بھی ایک خوفناک شکست سے گزری ہے، لہذا دونوں ٹیمیں اس میچ کو بہت دباؤ میں کھیلیں گی۔”

سی ایس کے کو پلے آف میں پہنچنے کے لیے اپنے اگلے دو میچز جیتنا ہوں گے اور اپنے نیٹ رن ریٹ کو بھی بہتر بنانا ہوگا۔ رتھوراج گائیکواڑ سے توقع کی جائے گی کہ وہ ان آئندہ دو میچز میں ایک مضبوط کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔ سی ایس کے اپنا اگلا میچ 18 مئی کو چنئی میں سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف کھیلے گی، اور پھر 21 مئی کو احمد آباد میں گجرات ٹائٹنز کا سامنا کرے گی۔ یہ دونوں میچز سی ایس کے کے لیے ‘کرو یا مرو’ کی حیثیت رکھتے ہیں، اور انہیں ہر شعبے میں اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

سی ایس کے کے لیے یہ ایک مشکل راستہ ہے، لیکن آئی پی ایل کی تاریخ شاہد ہے کہ ٹیمیں آخری لمحات میں بھی صورتحال کو پلٹ سکتی ہیں۔ تاہم، اس کے لیے اوپنرز کو مستحکم آغاز فراہم کرنا ہوگا، اور کپتان رتھوراج گائیکواڑ کو میدان پر اپنی بہترین بلے بازی اور قیادت کی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

David R. Finch

A former First-class cricketer from the Sheffield Shield, David R. Finch moved into journalism after an injury ended his playing career. Offering a dressing-room perspective, he provides sharp commentary on "team morale," "captaincy pressure," and "match-fixing scandals." He is best known for his podcast "The Long Room" and accurate match predictions based on "home/away stats" and historical data.