ویبھو سوریاونشی کا دھماکے دار بھارتی ڈیبیو: جون میں ممکن؟
بھارتی کرکٹ میں ایک نیا ستارہ طلوع ہو رہا ہے جس کا نام ویبھو سوریاونشی ہے۔ یہ نوجوان بلے باز اپنی بے خوف کارکردگی سے آئی پی ایل 2026 میں راجستھان رائلز (RR) کے لیے کھیل کر سب کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ ان کی دھماکہ خیز بلے بازی نے انہیں ہندوستانی کرکٹ میں سب سے بڑی نوجوان سنسنی بنا دیا ہے، اور اب انہیں جلد از جلد بھارتی قومی ٹیم میں شامل کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔
ویبھو سوریاونشی: آئی پی ایل 2026 میں ابھرتا ہوا ستارہ
ویبھو سوریاونشی نے اس سیزن میں اپنی بلے بازی سے دنیا بھر کے کرکٹ ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ بائیں ہاتھ کے اس بلے باز نے اپنی جارحانہ اور بے باک کرکٹ سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی صورتحال میں رنز بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب تک، آئی پی ایل 2026 کے 11 میچوں میں، ویبھو نے 236.56 کے حیران کن اسٹرائیک ریٹ سے 440 رنز بنائے ہیں۔ ان کی اننگز میں 40 چھکے بھی شامل ہیں، جو اس سیزن میں کسی بھی بلے باز کی جانب سے سب سے زیادہ ہیں۔ یہ اعداد و شمار ان کی طاقت اور جارحانہ انداز کی عکاسی کرتے ہیں، جو انہیں اس وقت لیگ کے خطرناک ترین بلے بازوں میں سے ایک بنا دیتے ہیں۔
آئی پی ایل میں ان کی یہ شاندار کارکردگی دراصل ان کی انڈر 19 ورلڈ کپ میں کامیاب مہم کا تسلسل ہے، جہاں انہوں نے رواں سال کے اوائل میں ہندوستان کی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ انڈر 19 کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے بعد، ویبھو نے بغیر کسی دباؤ کے اپنا کھیل آئی پی ایل جیسے بڑے پلیٹ فارم پر بھی پیش کیا ہے، اور ہر میچ کے ساتھ ان کے کھیل میں نکھار آتا جا رہا ہے۔
روی شاستری کی ویبھو سوریاونشی کو بھرپور حمایت
ویبھو سوریاونشی کی صلاحیتوں اور بے خوف انداز نے نہ صرف شائقین بلکہ کرکٹ کے تجربہ کاروں کو بھی متاثر کیا ہے۔ سابق ہندوستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ روی شاستری نے بھی ویبھو کی تعریفوں کے پل باندھ دیے ہیں اور انہیں قومی ٹیم میں فوری طور پر شامل کرنے کی بھرپور حمایت کی ہے۔ شاستری، جو خود ایک کامیاب کوچ رہے ہیں، محسوس کرتے ہیں کہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ ہی ویبھو جیسے نوجوان اور باصلاحیت کھلاڑی کو بین الاقوامی کرکٹ میں متعارف کرانے کا بہترین ذریعہ ہے۔
دی آئی سی سی ریویو پر سنجنا گنیسن سے گفتگو کرتے ہوئے روی شاستری نے کہا، “دروازہ تین چوتھائی کھلا ہو گا۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، کیونکہ اگر آپ کسی نوجوان کو جلد از جلد ٹیم میں شامل کرنا چاہتے ہیں، تو یہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کا کھیل ہے، اور وہ کسی بھی لحاظ سے کم نہیں ہیں۔ یہ لڑکا اس وقت عالمی کرکٹ کی بہت سی ٹیموں میں جگہ بنا سکتا ہے۔ بس جب آپ جوانی کی سرشاری اور جوش کو اس کے چہرے پر دیکھتے ہیں۔”
شاستری نے مزید زور دیا کہ ویبھو کی عمر کوئی معنی نہیں رکھتی جب اس کی صلاحیتوں کا اندازہ لگایا جائے۔ انہوں نے کہا، “بہت سے لوگ پوچھیں گے، کیا وہ 15 سال کا ہے؟ کیا وہ 16 سال کا ہے؟ کیا وہ 14 سال کا ہے؟ مجھے پرواہ نہیں ہے۔ میں صرف اس طریقے کو دیکھتا ہوں جس طرح وہ اس وقت بلے بازی کر رہا ہے اور جس طرح وہ اپنی عمر سے دو گنا یا شاید ڈھائی گنا زیادہ عمر کے تمام حریفوں کا مقابلہ کر رہا ہے۔ اس سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لہذا، مجھے لگتا ہے کہ وہ بہت، بہت زیادہ زیر غور ہے۔ اور جب آئرلینڈ کے دورے اور یہ سب کچھ اب ہو رہا ہے، تو میں اسے فوراً دیکھنا چاہوں گا۔”
روی شاستری کا ماننا ہے کہ ہندوستان کا جون میں ہونے والا آئرلینڈ کا دورہ ویبھو سوریاونشی کو ڈیبیو دینے کا بہترین موقع ہو سکتا ہے۔ یہ نہ صرف اسے بین الاقوامی کرکٹ کا تجربہ فراہم کرے گا بلکہ اسے 2028 میں ہونے والے اگلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے لیے تیار کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ ان کی عمر کو دیکھتے ہوئے، یہ انہیں ہندوستان کا اب تک کا سب سے کم عمر کھلاڑی بھی بنا سکتا ہے، جو ان کے کیریئر کے لیے ایک بڑا سنگ میل ہوگا۔
بین الاقوامی ماہرین اور مستقبل کے امکانات
ویبھو کی حملہ آور طرز اور کم عمری میں اعتماد نے بین الاقوامی کرکٹ ماہرین کو بھی بہت متاثر کیا ہے۔ بہت سے لوگ بھارتی سلیکٹرز پر زور دے رہے ہیں کہ اس نوجوان کو براہ راست ہندوستان کے ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ میں شامل کیا جائے۔ ان کی صلاحیت ایسی ہے کہ وہ کسی بھی پوزیشن پر بلے بازی کرتے ہوئے میچ کا رخ پلٹ سکتے ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ویبھو کو حال ہی میں سری لنکا کے دورے کے لیے اپنی پہلی انڈیا اے کال ملی ہے۔ وہ اگلے ماہ انڈیا اے کے ساتھ سری لنکا کا سفر کریں گے جہاں افغانستان کے ساتھ ایک سہ فریقی سیریز بھی کھیلی جائے گی۔ یہ ان کے لیے بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے اور سلیکٹرز کو متاثر کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ اگر وہ اپنی موجودہ فارم کو برقرار رکھتے ہیں، تو ان کا جلد ہی بھارتی ٹیم میں ڈیبیو یقینی نظر آتا ہے۔
ویبھو سوریاونشی کا عروج بھارتی کرکٹ کے مستقبل کے لیے ایک روشن اشارہ ہے۔ ان کی بے خوف اور جارحانہ کرکٹ انہیں ایک ایسے کھلاڑی کے طور پر نمایاں کرتی ہے جو جدید کرکٹ کے تقاضوں کو پورا کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ آئی پی ایل میں ان کی دھماکہ خیز کارکردگی، روی شاستری جیسے تجربہ کار کی حمایت، اور اب انڈیا اے ٹیم میں شمولیت – یہ سب اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ ویبھو سوریاونشی کا بھارتی جرسی میں ڈیبیو اب صرف وقت کی بات ہے۔ شائقین اور ماہرین سب ہی بے صبری سے اس نوجوان کرکٹر کو بین الاقوامی سطح پر اپنی چمک بکھیرتے دیکھنے کے منتظر ہیں۔
