Cricket News

آئی پی ایل 2026: وراٹ کوہلی پی بی کے ایس کے خلاف انجری سے بال بال بچے

David R. Finch · · 1 min read
Share

آئی پی ایل 2026: وراٹ کوہلی کی میدان میں خوش قسمتی

آئی پی ایل 2026 کے جاری سیزن میں پنجاب کنگز اور رائل چیلنجرز بنگلورو کے درمیان کھیلے جانے والے میچ کے دوران شائقین کرکٹ اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہو گئے جب وراٹ کوہلی کے گھٹنے کی پرانی تکلیف پھر سے سر اٹھاتی دکھائی دی۔ 37 سالہ اسٹار بلے باز کو اس میچ کے دوران تکنیکی مسائل اور گراؤنڈ کی سطح کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

واقعہ کی تفصیل: وراٹ کوہلی کیسے پھسلے؟

میچ کی چوتھی اوور کی چوتھی گیند پر جب لوکی فرگوسن نے شارٹ پچ ڈلیوری کروائی، تو دیودت پڈیکل نے اسے نرمی سے کھیلا۔ نان اسٹرائیکر اینڈ پر موجود وراٹ کوہلی نے رن لینے کی کوشش کی لیکن جلد ہی اندازہ ہوا کہ رن ممکن نہیں ہے۔ واپس کریز کی جانب مڑتے ہوئے ان کے پیر پھسل گئے، جس سے ایک بار پھر ان کے کمزور گھٹنے کے حوالے سے خدشات پیدا ہو گئے۔ تاہم، خوش قسمتی سے وہ کسی بڑی چوٹ کا شکار ہوئے بغیر محفوظ رہے۔

Virat Kohli Escapes Injury, Devdutt Padikkal Smiles. Image Credits: JioHotstar

ابتدائی اطلاعات کے مطابق، وراٹ کوہلی کے جوتوں (اسپائیکس) نے اس لمحے ان کا ساتھ نہیں دیا، جس کی وجہ سے وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکے اور گر پڑے۔ یہ منظر شائقین کے لیے پریشان کن تھا کیونکہ کوہلی اس سیزن میں پہلے ہی گھٹنے کی تکلیف سے نبرد آزما رہے ہیں۔

اس سیزن میں گھٹنے کی انجری کا پس منظر

وراٹ کوہلی کے لیے یہ سیزن طبی اعتبار سے چیلنجنگ رہا ہے۔ ممبئی انڈینز کے خلاف وانکھیڑے اسٹیڈیم میں شاندار نصف سنچری اسکور کرنے کے باوجود، وہ گھٹنے کی تکلیف کے باعث فیلڈنگ کے لیے میدان میں نہیں اتر سکے تھے۔ اس کے بعد سے انہیں اکثر گھٹنے پر پٹی باندھے ہوئے پریکٹس کرتے دیکھا گیا ہے۔ لکھنؤ سپر جائنٹس کے خلاف میچ میں، انہوں نے اپنے کیریئر میں پہلی بار ‘امپیکٹ سب’ کے طور پر حصہ لیا، حالانکہ وہ ماضی میں اس اصول کے ناقد رہے ہیں۔

پنجاب کنگز کے خلاف شاندار فارم

انجری کے خدشات کے باوجود، وراٹ کوہلی نے اپنی بیٹنگ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ اس میچ میں آر سی بی نے ٹاس ہارنے کے بعد پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے شاندار آغاز کیا۔ جیکب بیتھل کے جلد آؤٹ ہونے کے بعد، کوہلی نے اپنی عمدہ فارم کو برقرار رکھا اور پنجاب کنگز کے باؤلرز کے خلاف جارحانہ انداز اپنایا۔

  • آر سی بی کی پوزیشن: 9.5 اوورز میں 101/2
  • وراٹ کوہلی کا اسکور: 38 رنز (25 گیندوں پر)
  • باؤنڈریز: 3 چوکے اور 2 چھکے

یہ کارکردگی اس بات کا ثبوت ہے کہ کوہلی نہ صرف انجری سے لڑ رہے ہیں بلکہ اورینج کیپ کی دوڑ میں بھی شامل ہیں۔ سائی سدرشن سے اورینج کیپ واپس حاصل کرنے کے لیے انہیں اس میچ میں مزید 70 رنز درکار تھے۔

نتیجہ

کرکٹ شائقین کے لیے یہ دیکھنا اطمینان بخش ہے کہ وراٹ کوہلی اس حادثے کے بعد بھی بیٹنگ جاری رکھنے میں کامیاب رہے۔ آر سی بی کے لیے ان کی فٹنس اور فارم باقی ماندہ ٹورنامنٹ کے لیے انتہائی اہم ہے۔ امید ہے کہ وہ ٹورنامنٹ کے بقیہ حصے میں مزید کوئی طبی مسئلہ محسوس کیے بغیر اپنی شاندار کارکردگی جاری رکھیں گے۔

David R. Finch

A former First-class cricketer from the Sheffield Shield, David R. Finch moved into journalism after an injury ended his playing career. Offering a dressing-room perspective, he provides sharp commentary on "team morale," "captaincy pressure," and "match-fixing scandals." He is best known for his podcast "The Long Room" and accurate match predictions based on "home/away stats" and historical data.