بھارتی کرکٹ میں نسلی تعصب کا تنازعہ: ارشدیپ سنگھ اور لکشمن سیوارام کرشنن کا بیان
بھارتی کرکٹ میں نسلی تعصب کا نیا تنازعہ
آئی پی ایل 2026 کے دوران پنجاب کنگز کے فاسٹ بولر ارشدیپ سنگھ ایک بار پھر بڑی تنازعہ کی زد میں آ چکے ہیں۔ یہ معاملہ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ارشدیپ سنگھ کو ممبئی انڈینز کے نوجوان بلے باز تلک ورما کے ساتھ گفتگو کے دوران ان کی جلد کی رنگت پر غیر مناسب تبصرے کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ یہ واقعہ 14 مئی کو دھرم شالہ میں آئی پی ایل میچ سے قبل پیش آیا۔
واقعہ کی تفصیلات
وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ارشدیپ سنگھ، جو کہ ممبئی انڈینز کے کھلاڑی نمن دھیر کے ساتھ موجود تھے، تلک ورما کو مخاطب کر کے ان کی رنگت پر طنزیہ جملے کس رہے ہیں۔ ارشدیپ نے تلک کو ‘اندھیرے’ کہہ کر پکارا، جس سے یہ واضح تھا کہ ان کا اشارہ تلک کی گہری رنگت کی طرف تھا۔ ارشدیپ نے مزید یہ بھی کہا کہ انہیں سن اسکرین کا استعمال کرنا چاہیے تاکہ ان کی رنگت مزید گہری نہ ہو۔ اگرچہ تلک ورما نے اس صورتحال کو ہنسی میں ٹالنے کی کوشش کی، لیکن شائقین کرکٹ نے اس رویے کو انتہائی غیر مناسب قرار دیا ہے۔
لکشمن سیوارام کرشنن کی بی سی سی آئی کو تنبیہ
اس معاملے پر سابق بھارتی کرکٹر اور کمنٹیٹر لکشمن سیوارام کرشنن نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر وائرل کلپ کو شیئر کرتے ہوئے بی سی سی آئی کو خبردار کیا کہ وہ اس واقعے کو محض ‘دوستی کا مذاق’ سمجھ کر نظر انداز نہ کرے۔ سیوارام کرشنن کا کہنا ہے کہ نوجوان کھلاڑی اپنے کیریئر کے ابتدائی مراحل میں ہونے کے باعث آواز اٹھانے سے ڈرتے ہیں، اس لیے بورڈ کو خود کارروائی کرنی چاہیے۔
سابقہ کرکٹرز کو بے نقاب کرنے کا مطالبہ
سب سے حیران کن بات سیوارام کرشنن کی وہ دھمکی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ اگر بی سی سی آئی ارشدیپ سنگھ کے خلاف نسلی تعصب پر کارروائی کرتی ہے، تو وہ ان سابقہ بھارتی کرکٹرز کے نام بھی عوامی کریں گے جنہوں نے ان کے اپنے دور میں ان کے ساتھ نسلی امتیاز برتا تھا۔ انہوں نے زور دیا کہ ارشدیپ سنگھ پر اس سیزن کے لیے پابندی عائد کی جانی چاہیے۔
کیا بھارتی کرکٹ میں نسلی تعصب ایک سنگین مسئلہ ہے؟
سوشل میڈیا پر شائقین کی جانب سے اس واقعے پر ملے جلے ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ کا ماننا ہے کہ کھلاڑیوں کے درمیان ہونے والی ایسی گفتگو کو زیادہ اہمیت نہیں دی جانی چاہیے، جبکہ اکثریت کا یہ مطالبہ ہے کہ جدید کرکٹ میں نسلی امتیاز جیسی کسی بھی حرکت کے لیے کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بی سی سی آئی اس معاملے پر خاموشی اختیار کرتی ہے تو یہ آنے والے وقت میں مزید تنازعات کو جنم دے سکتا ہے۔
نتیجہ
ارشدیپ سنگھ کا یہ رویہ نہ صرف ان کی پیشہ ورانہ ساکھ کے لیے سوالیہ نشان ہے بلکہ یہ بھارتی کرکٹ بورڈ کی اخلاقی ذمہ داریوں کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ کیا بی سی سی آئی اس معاملے پر کوئی ٹھوس قدم اٹھائے گی یا یہ معاملہ بھی وقت گزرنے کے ساتھ ٹھنڈا پڑ جائے گا؟ یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن لکشمن سیوارام کرشنن کی تنبیہ نے بورڈ کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔
