رمیز راجہ کی بابر اعظم پر تنقید: دوسرے ٹیسٹ میں ناقص شاٹ پر برہمی
بابر اعظم کی کارکردگی اور رمیز راجہ کا سخت تبصرہ
پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان جاری دوسرے ٹیسٹ میچ میں ایک بار پھر پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ شدید تنقید کی زد میں ہے۔ سابق کرکٹر رمیز راجہ نے بابر اعظم کی وکٹ گرنے کے انداز پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے ایک ‘بڑی غلطی’ قرار دیا ہے۔ بابر اعظم، جو طویل عرصے سے پاکستان کی بیٹنگ کا مرکزی ستون سمجھے جاتے ہیں، ایک اچھی اننگز کھیلنے کے باوجود اپنی وکٹ گنوا بیٹھے، جس نے پوری ٹیم کو مشکلات میں ڈال دیا۔
پیس میں تبدیلی کو سمجھنے میں ناکامی
رمیز راجہ کا ماننا ہے کہ بابر اعظم جیسے تجربہ کار بلے باز کو باؤلنگ کی رفتار میں تبدیلی کو سمجھنے میں مشکل پیش نہیں آنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ 149 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے آنے والی گیندوں کو کھیل سکتے ہیں تو آپ کو یہ اندازہ ہونا چاہیے کہ باؤلر اب رفتار کم کرے گا۔ تاہم، بابر اعظم اس موقع پر غیر محتاط نظر آئے اور ناہید رانا کی سست گیند پر ایک غلط شاٹ کھیل کر آؤٹ ہوئے۔
رمیز راجہ نے اپنے تجزیے میں کہا: ‘آپ نے پوری سیشن کی محنت کو ضائع کر دیا ہے۔ آپ اتنے عرصے سے انٹرنیشنل کرکٹ کھیل رہے ہیں، آپ کو یہ علم ہونا چاہیے تھا کہ باؤلر رفتار میں تبدیلی کرے گا، لیکن آپ کے پاس اس کے لیے کوئی منصوبہ نہیں تھا۔ رفتار بابر کی طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی، اور حریف ٹیمیں اب اس کمزوری سے بخوبی واقف ہیں۔’
پاکستان کی بیٹنگ مشکلات اور ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ
پاکستان کی ٹیم اس پوری سیریز میں بنگلہ دیش کے اسکور کے برابر پہنچنے میں بھی ناکام رہی ہے۔ ٹاپ آرڈر کی ناکامی نے ٹیم کو پہلے ہی سیریز میں نقصان پہنچایا ہے۔ یہ صورتحال ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (WTC) میں پاکستان کی پوزیشن کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔ پوائنٹس ٹیبل پر پاکستان آٹھویں نمبر پر کھسک چکا ہے، اور اس پر سست اوور ریٹ کی وجہ سے پوائنٹس کی کٹوتی بھی ہوئی ہے، جس کے بعد فائنل تک رسائی کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہو گئے ہیں۔
اننگز کا اختتام اور ٹیم کا کولیپس
بابر اعظم کے آؤٹ ہونے کے بعد پوری پاکستانی ٹیم ریت کی دیوار کی طرح گر گئی۔ مڈل آرڈر اور لوئر مڈل آرڈر کوئی مزاحمت پیش کرنے میں ناکام رہے۔ اگرچہ ساجد خان نے کچھ دیر وکٹ پر ٹھہر کر اسکور کو کچھ حد تک بڑھانے کی کوشش کی، لیکن پوری ٹیم صرف 232 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔ اس طرح پاکستان کو پہلی اننگز میں 46 رنز کا خسارہ اٹھانا پڑا۔
مستقبل کے لیے سبق
پاکستان کے کپتان شان مسعود نے پہلے ٹیسٹ میں شکست کے بعد پیسرز کی ناکامی اور کم رفتار کو اہم وجہ قرار دیا تھا۔ تاہم، دوسرے ٹیسٹ میں بلے بازوں کی غیر ذمہ داری نے ٹیم انتظامیہ کے لیے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر پاکستان کو مستقبل میں اپنی رینکنگ بہتر کرنی ہے تو بلے بازوں کو اپنی شاٹ سلیکشن اور دباؤ کے حالات میں خود کو قابو رکھنے پر مزید کام کرنا ہوگا۔
بابر اعظم جیسے اہم کھلاڑی کا آؤٹ ہونا صرف ایک وکٹ کا ضیاع نہیں بلکہ ٹیم کے مورال پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ باقی ماندہ میچ میں پاکستانی باؤلرز ٹیم کو کس حد تک واپس لا پاتے ہیں، تاہم بیٹنگ کی یہ کارکردگی یقیناً شائقین کرکٹ کے لیے مایوس کن ہے۔
