میرپور ٹیسٹ میں شاندار کامیابی کے بعد بنگلہ دیشی کھلاڑیوں کی آئی سی سی رینکنگ میں بڑی چھلانگ
میرپور ٹیسٹ: بنگلہ دیشی کرکٹرز کی عالمی درجہ بندی میں شاندار پیش قدمی
میرپور کے میدان میں پاکستان کے خلاف 104 رنز کی شاندار فتح نے نہ صرف بنگلہ دیشی ٹیم کا حوصلہ بڑھایا ہے بلکہ آئی سی سی مینز ٹیسٹ رینکنگ میں بھی ان کے کھلاڑیوں کی پوزیشن کو مزید مستحکم کر دیا ہے۔ یہ کامیابی آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے موجودہ سائیکل میں بنگلہ دیش کی پہلی فتح ہے، جس میں بلے بازوں اور گیند بازوں دونوں نے اپنی ذمہ داریوں کو بخوبی نبھایا۔
کپتان نجم الحسن شانتو کی بلندی
بنگلہ دیشی ٹیم کے کپتان نجم الحسن شانتو نے اس میچ میں اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہوں نے پہلی اننگز میں 101 اور دوسری اننگز میں 87 رنز کی اننگز کھیل کر اپنی ٹیم کو مضبوط پوزیشن میں پہنچایا۔ اس شاندار کارکردگی پر انہیں ‘پلیئر آف دی میچ’ کے ایوارڈ سے نوازا گیا، جس کے نتیجے میں وہ آئی سی سی ٹیسٹ بیٹنگ رینکنگ میں 16 درجے ترقی پا کر کیریئر کے بہترین 23 ویں مشترکہ مقام پر پہنچ گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب وہ اس پوزیشن پر پاکستان کے سابق کپتان بابر اعظم کے ہم پلہ کھڑے ہیں۔
تجربہ کار کھلاڑیوں کی عمدہ کارکردگی
ٹیم کے تجربہ کار بلے بازوں مشفیق الرحیم اور مومن الحق نے بھی اپنی فارم کا مظاہرہ کرتے ہوئے درجہ بندی میں بہتری حاصل کی ہے۔ مشفیق الرحیم، جنہوں نے 71 اور 22 رنز کی اننگز کھیلیں، دو درجے ترقی کے ساتھ 26 ویں نمبر پر آ گئے ہیں۔ دوسری جانب مومن الحق، جنہوں نے بالترتیب 91 اور 56 رنز بنا کر ٹیم کے لیے اہم کردار ادا کیا، 12 درجے ترقی پا کر 35 ویں مشترکہ مقام پر براجمان ہو گئے ہیں۔
گیند بازی میں بنگلہ دیش کا نیا عروج
صرف بیٹنگ ہی نہیں، بلکہ بنگلہ دیشی گیند بازوں نے بھی اپنی کارکردگی سے سب کو متاثر کیا ہے۔ اسپنر تیج الاسلام نے دونوں اننگز میں دو دو وکٹیں حاصل کر کے اپنی رینکنگ میں تین درجے بہتری حاصل کی اور اب وہ 13 ویں نمبر پر موجود ہیں۔ فاسٹ باؤلر ناہید رانا نے دوسری اننگز میں 92 رنز کے عوض پانچ وکٹیں حاصل کر کے پانچ درجے ترقی کی اور 64 ویں نمبر پر پہنچ گئے۔ طویل وقفے کے بعد ٹیم میں واپسی کرنے والے ٹاسکن احمد نے چار وکٹیں حاصل کر کے دوبارہ 48 ویں نمبر پر جگہ بنا لی ہے۔
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی صورتحال
اس فتح کے ساتھ ہی بنگلہ دیش اب آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے پوائنٹس ٹیبل پر پاکستان سے آگے نکل گیا ہے۔ تین میچوں کے بعد، بنگلہ دیش کی ٹیم ایک جیت، ایک ڈرا اور ایک شکست کے ساتھ 44.44 فیصد پوائنٹس حاصل کر کے چھٹے نمبر پر موجود ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان کی ٹیم دو شکستوں کے بعد پوائنٹس ٹیبل پر بنگلہ دیش سے نیچے چلی گئی ہے۔ یہ لمحہ بنگلہ دیشی کرکٹ کے لیے ایک نئے دور کا آغاز معلوم ہوتا ہے جس میں ٹیم اپنی کارکردگی کو مستقل طور پر بہتر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
مستقبل کی توقعات
بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم کی اس کارکردگی نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ٹیسٹ کرکٹ میں کسی بھی بڑی ٹیم کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر ٹیم اسی تسلسل کے ساتھ کھیلتی رہی تو آنے والے وقتوں میں مزید کھلاڑیوں کے رینکنگ میں بہتری کے امکانات روشن ہیں۔ شائقین کرکٹ اب یہ دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں کہ کیا بنگلہ دیش اپنی اس فارم کو اگلے ٹیسٹ میچوں میں بھی برقرار رکھ پائے گا یا نہیں۔
