Suresh Raina’s 87 Off 25: The IPL Knock That Lasted 30 Minutes But Lives On Fore – سریش رائنا کی 25 گیندوں پر 87 رنز کی تاریخی اننگز: ایک لازوال داستان
کرکٹ کی دنیا کا ایک ناقابل فراموش لمحہ
آئی پی ایل کی تاریخ میں کئی یادگار لمحات گزرے ہیں، لیکن سریش رائنا کی 2014 کے کوالیفائر 2 میں کنگز الیون پنجاب کے خلاف کھیلی گئی اننگز کا ذکر آج بھی ہر کرکٹ مداح کے لبوں پر ہوتا ہے۔ یہ اننگز محض 30 منٹ جاری رہی، لیکن اس کی شدت اور اثرات آج بھی آئی پی ایل کی بہترین کارکردگیوں میں شمار ہوتے ہیں۔
وانکھیڑے میں طوفان کی آمد
جب چنئی سپر کنگز (CSK) کو جیت کے لیے 227 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف ملا، تو شروعات بہت خراب رہی۔ فاف ڈو پلیسس کے پہلے ہی اوور میں آؤٹ ہونے کے بعد سریش رائنا میدان میں اترے۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ رائنا کا یہ طوفان پنجاب کے باؤلرز کو تہس نہس کر کے رکھ دے گا۔
باؤلنگ اٹیک کی دھجیاں
رائنا نے مچل جانسن، سندیپ شرما اور پرویندر اووانا جیسے تجربہ کار باؤلرز کو ایک لمحے کے لیے بھی سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔ صرف 16 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کرنے والے رائنا نے مجموعی طور پر 25 گیندوں کا سامنا کیا اور 87 رنز بنا ڈالے۔ اس دوران انہوں نے 12 چوکے اور 8 بلند و بالا چھکے لگائے۔ یہ دیکھنا حیران کن تھا کہ ان کی 25 گیندوں میں سے صرف 7 ایسی تھیں جو باؤنڈری لائن تک نہیں پہنچیں۔
اوپننگ پاور پلے اور رائنا کا تسلط
پاور پلے کے اختتام تک چنئی سپر کنگز 100 رنز تک پہنچ چکی تھی، جس میں رائنا کا حصہ اکیلے 87 رنز تھا۔ جارج بیلی کی ایک شاندار براہ راست تھرو (direct hit) پر رائنا رن آؤٹ ہوئے، لیکن تب تک وہ میچ کا پانسہ پلٹ چکے تھے۔
ایک المناک اختتام، مگر یادگار کارکردگی
بدقسمتی سے، رائنا کے آؤٹ ہونے کے بعد چنئی سپر کنگز کی بیٹنگ لائن لڑکھڑا گئی۔ پنجاب کے باؤلرز نے واپسی کی اور سی ایس کے کو جیت کے قریب پہنچ کر 24 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اگرچہ ٹیم ہار گئی، مگر اس شکست نے رائنا کی انفرادی کارکردگی کی اہمیت کو کم نہیں کیا۔
آج بھی کیوں ہے یہ اننگز خاص؟
عام طور پر ہارنے والی ٹیم کی اننگز وقت کی دھول میں کھو جاتی ہیں، لیکن رائنا کے 87 رنز ایک استثنا ہیں۔ کرکٹ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ کرس گیل کے پاس 25 گیندوں میں سب سے زیادہ رنز کا ریکارڈ موجود ہے، مگر رائنا کی وہ اننگز دباؤ کے ماحول، کوالیفائر میچ اور وانکھیڑے جیسے تاریخی اسٹیڈیم کی وجہ سے آج بھی ایک معیار سمجھی جاتی ہے۔
نتیجہ
ایک دہائی سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن سریش رائنا کی وہ 30 منٹ کی تباہ کاری آج بھی کرکٹ کے شائقین کے لیے ایک سبق کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ صرف رنز نہیں تھے، بلکہ ایک بیٹر کی جانب سے اپنی ٹیم کو مشکل حالات سے نکالنے کی بے مثال کوشش تھی۔ آج بھی جب ٹی 20 کرکٹ میں جارحانہ بیٹنگ کی بات ہوتی ہے تو رائنا کا یہ کارنامہ سرفہرست رہتا ہے۔
تصویر: سریش رائنا۔ [Source – AFP]
