قاضی محمد عاشق الزمان: کینیڈین کرکٹ میں بنگلہ دیشی وکٹ کیپر کا راج
کرکٹ کا اٹوٹ رشتہ: قاضی محمد عاشق الزمان کا سفر
کھیلوں کی دنیا میں اکثر ایسے نام سامنے آتے ہیں جو پیشہ ورانہ کرکٹ کی چکا چوند سے دور، شوق اور جذبے کی بنیاد پر اپنی پہچان بناتے ہیں۔ قاضی محمد عاشق الزمان ایک ایسا ہی نام ہیں جنہوں نے ڈھاکہ کے گلی کوچوں سے نکل کر کینیڈا کے کرکٹ میدانوں میں اپنا لوہا منوایا ہے۔ 41 سال کی عمر میں بھی ان کا کرکٹ کے تئیں لگاؤ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر دل میں جذبہ ہو تو عمر محض ایک عدد بن کر رہ جاتی ہے۔
ڈھاکہ سے کینیڈا تک: کرکٹ کا سفر
عاشق الزمان کی کرکٹ کی بنیاد ڈھاکہ میں پڑی، جہاں انہوں نے سینٹ جوزف ہائی اسکول اور نوٹر ڈیم کالج جیسی نامور تعلیمی اداروں کی نمائندگی کی۔ یہ وہ دور تھا جب انہوں نے وکٹ کیپنگ اور بیٹنگ کی بنیادی تکنیک سیکھی۔ زندگی کے سفر میں جب کام، کیریئر اور خاندانی ذمہ داریاں آڑے آئیں تو کرکٹ ایک لمحے کے لیے پسِ پشت چلی گئی، لیکن ایک بنگالی کے دل سے کھیل کی محبت کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔
کینیڈا میں کامیابی کے نئے ریکارڈز
آج کینیڈا میں مقیم قاضی محمد عاشق الزمان ‘لاسٹ مین سٹینڈز’ (LMS) کرکٹ میں ایک جانا پہچانا نام بن چکے ہیں۔ 2022 سے کینیڈا کے نمبر 1 وکٹ کیپر کے طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھنا ان کی مستقل مزاجی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 58 میچوں میں 1,330 رنز بنانا، جس میں 7 نصف سنچریاں شامل ہیں، ان کی بیٹنگ کی صلاحیتوں کو ظاہر کرتا ہے۔
تاہم، ان کی اصل پہچان ان کے دستانے ہیں۔ وہ نہ صرف کینیڈا میں سرفہرست ہیں بلکہ دنیا کے ٹاپ 500 ایل ایم ایس وکٹ کیپرز میں بھی شامل ہیں۔ ان کی وکٹ کیپنگ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ انتہائی مستعد ہیں اور سٹمپ کے پیچھے سے اپنے تبصروں اور پرجوش اپیلوں کے ذریعے کھیل کا ماحول گرما دیتے ہیں۔ ان کے ساتھی کھلاڑی اکثر مذاق میں کہتے ہیں کہ عاشق ہر عام میچ کو ایسے کھیلتے ہیں جیسے یہ کوئی ورلڈ کپ کا سیمی فائنل ہو۔
خاندانی تعاون اور مستقبل کی امید
کسی بھی کھلاڑی کی کامیابی کے پیچھے اس کے خاندان کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ عاشق کے لیے ان کی اہلیہ انیتا ایک مضبوط سہارا ثابت ہوئی ہیں، جو ان کے مصروف ورک ویک اور ویک اینڈ کرکٹ کے دوران ہر ممکن تعاون کرتی ہیں۔ اب ان کی اگلی نسل بھی اس کھیل کی طرف متوجہ ہو رہی ہے؛ ان کا ڈھائی سالہ بیٹا، اریز، گھر میں بلا گھماتا نظر آتا ہے، جس سے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ یہ کرکٹ کا ورثہ اور وکٹ کیپنگ کا ڈرامہ اگلی نسل میں بھی منتقل ہو رہا ہے۔
نتیجہ: جذبہ عمر کا محتاج نہیں
قاضی محمد عاشق الزمان کی کہانی ان تمام لوگوں کے لیے مشعلِ راہ ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ شوق ختم ہو جاتے ہیں۔ یہ کہانی بتاتی ہے کہ کرکٹ صرف ایک کھیل نہیں بلکہ زندگی جینے کا ایک انداز ہے۔ چاہے آپ کسی بھی براعظم میں چلے جائیں، اگر آپ کے ہاتھ میں دستانے اور دل میں کرکٹ ہے، تو آپ کبھی ریٹائر نہیں ہوتے۔ ان کا سفر اس بات کی یاد دہانی ہے کہ زندگی کی مصروفیتوں کے باوجود، اپنے شوق کو زندہ رکھنا ہی اصل کامیابی ہے۔
اگر آپ کرکٹ کے دیوانے ہیں، تو قاضی محمد عاشق الزمان کا سفر آپ کو یہ سوچنے پر مجبور کر دے گا کہ کیا آپ بھی اپنے خوابوں کو اسی طرح زندہ رکھے ہوئے ہیں جیسے وہ اپنی وکٹ کیپنگ کے ذریعے کینیڈا کے میدانوں میں رکھے ہوئے ہیں۔
