Report

Hasan, Tye fireworks deny Derbyshire as Yorkshire go two from two – حسن علی اور اینڈریو ٹائی کا طوفان، یارکشائر کی سنسنی خیز فتح

James H. Porterfield · · 1 min read
Share

ہیڈنگلے میں سنسنی خیز مقابلہ: یارکشائر کی یادگار فتح

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ اپنی غیر یقینی صورتحال اور آخری لمحات کے سنسنی خیز مقابلوں کی وجہ سے پوری دنیا میں جانی جاتی ہے۔ ایسا ہی ایک تاریخی اور سانس روک دینے والا مقابلہ ہیڈنگلے کے تاریخی میدان پر دیکھنے کو ملا، جہاں وائٹلٹی بلاسٹ کے ایک اہم میچ میں یارکشائر نے ڈربی شائر کے خلاف ایک ایسی جیت درج کی جو برسوں یاد رکھی جائے گی۔ ایک وقت ایسا تھا جب یارکشائر کے کٹر سے کٹر حامی بھی ناامید ہو چکے تھے، لیکن کرکٹ کے میدان میں جب تک آخری گیند نہ پھینک دی جائے، کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوتا ہے۔ حسن علی اور اینڈریو ٹائی نے مل کر اس مقولے کو سچ ثابت کر دکھایا اور ڈربی شائر کے منہ سے یقینی فتح چھین لی۔

ڈربی شائر کی شاندار بیٹنگ اور ریکارڈ پارٹنرشپ

میچ کا آغاز اس وقت ہوا جب ڈربی شائر نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ کسی حد تک درست ثابت ہوا کیونکہ انہوں نے مقررہ 20 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 194 رنز کا بڑا مجموعہ بورڈ پر سجایا۔ پاور پلے کے دوران ڈربی شائر نے تیز رفتاری سے رنز بنائے اور 57 رنز اسکور کیے۔ تاہم، اوپنر اینورین ڈونلڈ زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹک سکے اور اینڈریو ٹائی کی گیند پر حسن علی کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد کیلیب جیول نے 20 رنز بنائے لیکن وہ بھی میتھیو ریوس کی گیند پر کیچ آؤٹ ہو گئے۔ تجربہ کار بلے باز وین میڈسن صرف 2 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے، جس سے ڈربی شائر کا اسکور 63 رنز پر 3 وکٹیں ہو گیا۔

اس نازک مرحلے پر مارٹن اینڈرسن اور میتھیو مونٹگمری نے ٹیم کو سنبھالا۔ دونوں بلے بازوں نے یارکشائر کے باؤلنگ اٹیک کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور چوتھی وکٹ کے لیے 73 رنز کی ریکارڈ شراکت داری قائم کی۔ یہ شراکت داری یارکشائر کے خلاف ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ڈربی شائر کی چوتھی وکٹ کے لیے سب سے بڑی پارٹنرشپ بن گئی۔ مونٹگمری 35 رنز بنا کر جعفر چوہان کی گیند پر بولڈ ہوئے، لیکن دوسری طرف اینڈرسن نے اپنی شاندار بیٹنگ جاری رکھی۔ انہوں نے صرف 36 گیندوں پر اپنی نصف سنچری مکمل کی اور بالآخر 81 رنز کی ناقابل شکست انفرادی اننگز کھیلی، جو ان کے کیریئر کا بہترین اسکور بھی ہے۔

آخری اوورز میں روس وائٹلی نے جارحانہ انداز اپنایا۔ انہوں نے اینڈریو ٹائی کے آخری اوور میں دو فلک شگاف چھکے لگائے، جس کی مدد سے اس اوور میں 24 رنز بنے۔ اس دھواں دار بیٹنگ کی بدولت ڈربی شائر کا اسکور 194 رنز تک پہنچ گیا، جو کہ ہیڈنگلے کی پچ پر ایک انتہائی مضبوط اور دفاع کے قابل ہدف سمجھا جا رہا تھا۔ یارکشائر کی جانب سے جعفر چوہان سب سے کفایتی باؤلر رہے جنہوں نے 4 اوورز میں صرف 32 رنز دے کر ایک وکٹ حاصل کی۔

یارکشائر کا ہدف کا تعاقب اور مڈل آرڈر کا بکھرنا

195 رنز کے بڑے ہدف کے تعاقب میں یارکشائر کا آغاز انتہائی دھماکہ خیز رہا۔ اوپنر ایڈم لیتھ نے آتے ہی جارحانہ شاٹس کھیلے اور صرف 11 گیندوں پر 3 چھکوں اور 2 چوکوں کی مدد سے 31 رنز کی طوفانی اننگز کھیلی۔ لیکن عاکف جاوید نے انہیں مڈ وکیٹ پر کیچ آؤٹ کروا کر اس طوفان کو روکا۔ اس کے فوری بعد اسٹار بلے باز جونی بیرسٹو صرف 8 رنز بنا کر جیک مورلی کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے۔ جیمز وہارٹن بھی زیادہ دیر مزاحمت نہ کر سکے اور صرف 5 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔ پاور پلے کے اختتام پر یارکشائر کا اسکور 52 رنز پر 3 وکٹیں تھا اور وہ شدید دباؤ میں تھے۔

اس دوران معین علی نے ایک اینڈ سنبھالے رکھا اور اپنی کلاس کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے جیک مورلی کو ایک ہی اوور میں دو شاندار چھکے رسید کیے۔ تاہم، دوسرے اینڈ سے وکٹیں گرنے کا سلسلہ جاری رہا۔ ول لکسٹن صرف 5 رنز بنا کر مورلی کا شکار بنے۔ جب اننگز اپنے آدھے سفر پر پہنچی تو یارکشائر کو جیت کے لیے مزید 110 رنز درکار تھے اور ان کی 4 وکٹیں گر چکی تھیں۔ جیک مورلی کی جادوئی اسپن باؤلنگ نے یارکشائر کے مڈل آرڈر کو بے بس کر دیا۔ انہوں نے میتھیو ریوس کو 13 رنز پر آؤٹ کیا اور پھر جارج ہل کو صفر پر آؤٹ کر کے میچ پر ڈربی شائر کی گرفت مضبوط کر دی۔

معین علی نے ہمت نہ ہاری اور 33 گیندوں پر 5 چھکوں کی مدد سے اپنی شاندار نصف سنچری مکمل کی۔ لیکن جیسے ہی وہ مزید خطرناک ہونے لگے، امرت بسرا نے باؤنڈری لائن پر ان کا ایک شاندار کیچ پکڑ کر ان کی 51 رنز کی اننگز کا خاتمہ کر دیا۔ جب معین علی آؤٹ ہوئے تو یارکشائر کا اسکور 133 رنز پر 7 وکٹیں تھا اور انہیں آخری 5 اوورز میں جیت کے لیے 62 رنز درکار تھے۔ جب ڈوم بیس بھی جیک مورلی کی چوتھی وکٹ بن کر پویلین لوٹے تو یارکشائر کا اسکور 139 رنز پر 8 وکٹیں ہو چکا تھا اور میچ پوری طرح ڈربی شائر کے قبضے میں تھا۔

حسن علی اور اینڈریو ٹائی کا ناقابل یقین کارنامہ

جب یارکشائر کو 27 گیندوں پر 56 رنز درکار تھے اور اس کی صرف 2 وکٹیں باقی تھیں، تو اسٹیڈیم میں موجود تماشائی بھی یارکشائر کی شکست تسلیم کر چکے تھے۔ لیکن یہاں سے کرکٹ کی تاریخ کا ایک انوکھا باب شروع ہوا۔ پاکستان کے مایہ ناز آل راؤنڈر حسن علی اور آسٹریلیا کے اینڈریو ٹائی نے کریز پر قدم جمائے اور ڈربی شائر کے باؤلرز پر جوابی حملہ شروع کر دیا۔ اینڈریو ٹائی نے اپنی روایتی ہٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف 13 گیندوں پر 32 رنز بنائے جس میں کئی فلک شگاف چھکے شامل تھے۔

دوسری طرف حسن علی نے بھی اپنے جوہر دکھائے اور صرف 13 گیندوں پر 31 رنز کی ناقابل شکست اور انتہائی قیمتی اننگز کھیلی۔ دونوں کھلاڑیوں نے باؤنڈری کے چاروں طرف چوکوں اور چھکوں کی بارش کر دی۔ ڈربی شائر کے باؤلرز جو اب تک میچ پر حاوی تھے، اس اچانک حملے کے بعد اپنے حواس کھو بیٹھے۔ یارکشائر کو آخری 3 اوورز میں 32 رنز درکار تھے، جو کہ عام حالات میں ایک مشکل ہدف ہوتا ہے، لیکن حسن علی اور ٹائی نے اس ہدف کو بچوں کا کھیل بنا دیا۔ انہوں نے نہ صرف یہ رنز تیزی سے بنائے بلکہ میچ ختم ہونے سے 4 گیندیں قبل ہی اپنی ٹیم کو ایک ناقابل یقین اور سنسنی خیز فتح دلا دی۔

خلاصہ اور ٹورنامنٹ کی صورتحال

ڈربی شائر کے لیے یہ شکست انتہائی مایوس کن تھی کیونکہ انہوں نے میچ کے 95 فیصد حصے پر قابو پا رکھا تھا۔ خاص طور پر جیک مورلی کی محنت ضائع گئی جنہوں نے 44 رنز دے کر 4 اہم وکٹیں حاصل کیں اور دو شاندار کیچز بھی پکڑے تھے۔ دوسری طرف، یارکشائر نے اس فتح کے ساتھ ٹورنامنٹ میں اپنی مسلسل دوسری جیت درج کی ہے، جس سے ان کے اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔ حسن علی اور اینڈریو ٹائی کی اس لاجواب اننگز کو وائٹلٹی بلاسٹ کی تاریخ کی بہترین شراکت داریوں میں شمار کیا جائے گا، جس نے ہارے ہوئے میچ کو ایک یادگار جیت میں بدل دیا۔

James H. Porterfield

With over 15 years of experience covering major tournaments like the IPL, The Ashes, and the World Cup, James H. Porterfield is our lead tactical writer. A former data analyst for a County Championship club, he brings a metrics-driven perspective on player form and pitch behavior. He specializes in "cricket tactics," "player form guides," and "pitch reports," helping readers understand the strategic story behind every delivery.