Matheesha Pathirana’s Cost Per Ball For KKR In IPL 2026 – IPL 2026: متھیشا پتھیرانا کی کے کے آر کے لیے فی گیند قیمت نے سب کو حیران کر دیا
آئی پی ایل 2026: ایک مہنگا جوا اور مایوس کن اختتام
کولکتہ نائٹ رائیڈرز (KKR) کے لیے آئی پی ایل 2026 کا سیزن کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا۔ ٹیم کو سیزن کے دوران مسلسل انجریز کا سامنا رہا اور لیگ مرحلے کے آخری دن تک ان کی بقا کی جنگ جاری رہی۔ تاہم، اس پورے سیزن میں سب سے زیادہ مایوس کن پہلو سری لنکن پیسر متھیشا پتھیرانا کی شرکت اور ان کا غیر متوقع انجری کا شکار ہونا تھا۔
متھیشا پتھیرانا کی کے کے آر میں شمولیت
آئی پی ایل 2026 کی نیلامی میں، کے کے آر نے متھیشا پتھیرانا کو اپنی بولنگ اٹیک کا مرکزی حصہ بنانے کے لیے بھاری رقم خرچ کی۔ ہرشت رانا کی انجری اور مستفیض الرحمان کے معاملے کے بعد پتھیرانا کے کندھوں پر بڑی ذمہ داری تھی۔ کے کے آر کی انتظامیہ نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے انجرڈ ہونے کے باوجود ان پر اعتماد کیا اور کسی متبادل کھلاڑی کو شامل نہ کر کے ایک بڑا داؤ کھیلا۔
فی گیند قیمت کا حیران کن حساب
پتھیرانا کو کے کے آر نے 18 کروڑ روپے کے بھاری معاہدے پر سائن کیا تھا۔ اس کے علاوہ، ان کی واحد میچ کی فیس تقریباً 7.5 لاکھ روپے بنتی ہے۔ اس طرح، فرنچائز نے ان کے لیے کل 18 کروڑ 7 لاکھ 50 ہزار روپے خرچ کیے۔ پتھیرانا نے پورے سیزن میں صرف 8 گیندیں کروائیں، جس کا مطلب ہے کہ ان کی ایک گیند کی قیمت تقریباً 2.25 کروڑ روپے (2,25,93,750 روپے) بنتی ہے۔ یہ کسی بھی آئی پی ایل فرنچائز کے لیے ایک بہت بڑا مالی نقصان تھا۔
میدان میں کارکردگی اور انجری کا تسلسل
پتھیرانا نے سیزن کے 11 میچز مس کرنے کے بعد 16 مئی کو گجرات ٹائٹنز کے خلاف ڈیبیو کیا۔ ان کا پہلا اوور متاثر کن رہا جہاں انہوں نے صرف 7 رنز دیے۔ تاہم، دوسرے اوور میں 145.5 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کروانے کے بعد وہ دوبارہ ہیمسٹرنگ انجری کا شکار ہو گئے۔ وہ صرف 1.2 اوورز (8 گیندیں) کروانے کے بعد میدان چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور ان کا سیزن 9 رنز کے عوض صفر وکٹوں پر ختم ہو گیا۔
مستقبل کے امکانات
آئی پی ایل 2026 کے مایوس کن اختتام کے بعد، یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا کے کے آر اگلے سیزن میں پتھیرانا کو برقرار رکھے گی؟ ماہرین کا ماننا ہے کہ انجری کے مسلسل خطرات اور بھاری قیمت کو دیکھتے ہوئے، فرنچائز انہیں ریلیز کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے۔ تاہم، یہ فیصلہ مکمل طور پر اگلے چند مہینوں میں ان کی فٹنس کی بحالی پر منحصر ہوگا۔ کے کے آر انتظامیہ اب اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے نئے سیزن کے لیے دوبارہ منصوبہ بندی کرنے کی کوشش کرے گی۔
نتیجہ
کرکٹ میں سرمایہ کاری ہمیشہ خطرے سے خالی نہیں ہوتی، اور متھیشا پتھیرانا کا معاملہ اس کی ایک تلخ مثال ہے۔ 18 کروڑ روپے کی قیمت صرف 8 گیندوں کے لیے ادا کرنا کسی بھی ٹیم کے لیے ایک سبق ہے کہ فٹنس کھلاڑی کی اہلیت سے کہیں زیادہ اہم ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پتھیرانا اپنی کھوئی ہوئی فارم اور فٹنس کے ساتھ دوبارہ میدان میں واپسی کر پائیں گے یا ان کا یہ مہنگا معاہدہ تاریخ کا ایک حصہ بن کر رہ جائے گا۔
