Harmanpreet: India looking for ‘clarity’ on best XI ahead of T20 World Cup – ہرمن پریت کور: ٹی 20 ورلڈ کپ سے قبل بھارتی ٹیم کو بہترین کمبی نیشن کی تلاش
ورلڈ کپ سے قبل امتحان: بھارتی ٹیم کا فوکس
انگلینڈ کے خلاف تین میچوں پر مشتمل ٹی 20 سیریز بھارتی ویمنز کرکٹ ٹیم کے لیے صرف ایک مقابلہ نہیں بلکہ آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ سے قبل اپنی بہترین کمبی نیشن تلاش کرنے کا حتمی موقع ہے۔ امانجوت کور اور کشوی گوتم جیسی اہم آل راؤنڈرز کی انجریز کے بعد بھارتی ٹیم مینجمنٹ کے سامنے چیلنجز موجود ہیں، لیکن کپتان ہرمن پریت کور پراعتماد ہیں۔
انجریز کا اثر اور نئے مواقع
امانجوت کور، جو کمر کی تکلیف سے دوچار ہیں، اور کشوی گوتم، جنہیں گھٹنے کی سرجری کے باعث ٹیم سے باہر ہونا پڑا، کی عدم موجودگی نے ٹیم کے توازن کو متاثر کیا ہے۔ تاہم، اس صورتحال نے بھارتی ٹیم کے لیے نئے کھلاڑیوں کو آزمانے کے دروازے کھول دیے ہیں۔ بھارتی سکواڈ میں رادھا یادو اور یستیکا بھاٹیہ کی واپسی ہوئی ہے، جبکہ بھارتی پھلمالی نچلے مڈل آرڈر میں اپنی جگہ بنانے کے لیے تیار ہیں۔
ہرمن پریت کور کا کہنا ہے کہ اس سیریز میں ٹیم کو دو اہم اہداف حاصل کرنے ہیں: پہلی بات تو یہ کہ جیت کا تسلسل برقرار رکھا جائے تاکہ کھلاڑیوں کا اعتماد بلند ہو، اور دوسری یہ کہ ورلڈ کپ کے لیے بہترین الیون کا تعین کیا جائے۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نہ صرف جیتنے کی کوشش کریں گے بلکہ اپنی کمبی نیشنز پر بھی کام کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی صورتحال کے لیے تیار رہ سکیں۔
رادھا یادو اور یستیکا بھاٹیہ کی واپسی
رادھا یادو، جو اپنی شاندار فیلڈنگ اور بائیں ہاتھ کی اسپن کے لیے جانی جاتی ہیں، طویل عرصے بعد ٹی 20 ٹیم میں واپس آئی ہیں۔ انہوں نے ویمنز پریمیئر لیگ (WPL) میں اپنی کارکردگی سے متاثر کیا تھا۔ اسی طرح یستیکا بھاٹیہ بھی دوبارہ ٹیم کا حصہ بن چکی ہیں۔ ہرمن پریت کے مطابق، ان کھلاڑیوں کو زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کرنا ہی ٹیم کی کامیابی کا کلید ہے۔
ورلڈ کپ کی امیدیں اور جذبات
اگر ہرمن پریت اپنی نظریں ورلڈ کپ پر مرکوز رکھیں تو یہ ان کے لیے ایک جذباتی لمحہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے 2009 میں اپنے ٹی 20 کیریئر کا آغاز انگلینڈ کی سرزمین پر ہی کیا تھا، اور اب وہ وہیں ورلڈ کپ ٹرافی اٹھانے کا خواب دیکھ رہی ہیں۔ کپتان کا ماننا ہے کہ مستقل مزاجی ہی وہ واحد عنصر ہے جو ٹیم کو نتائج تک پہنچا سکتی ہے۔
انگلینڈ کی تیاری
دوسری جانب انگلینڈ کی ٹیم بھی اپنی بیٹنگ لائن اپ میں استحکام لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ڈینی وائٹ-ہوج کی واپسی اور نیٹ سکیور-برنٹ کی انجری کے باوجود، انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز سے کافی کچھ سیکھا ہے۔ انگلش وکٹ کیپر بیٹر ایمی جونز نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ کے خلاف سخت مقابلے اور انڈیا کے خلاف یہ سیریز ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے بہترین ثابت ہوں گی۔
بھارت اور انگلینڈ کے درمیان یہ سیریز کرکٹ کے شائقین کے لیے انتہائی دلچسپ ہونے والی ہے۔ دونوں ٹیمیں اپنے کھلاڑیوں کے فارم اور کمبی نیشنز کو پرکھنے کے بعد اب ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی، جس کا مقصد ورلڈ کپ سے قبل اپنی خامیوں کو دور کرنا ہے۔
