Why Vaibhav Sooryavanshi Still Doesn’t Deserve A Place In India’s T20I Squad – ویبھو سوریہ ونشی: کیا انڈین ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں شمولیت کے لیے ابھی جلدی ہے؟
آئی پی ایل 2026 کا نیا سپر اسٹار: ویبھو سوریہ ونشی
جب راجستھان رائلز نے 1.10 کروڑ روپے کی بھاری رقم خرچ کر کے ویبھو سوریہ ونشی کو اپنی ٹیم میں شامل کیا تھا تو بہت سے لوگوں نے اس فیصلے پر ہنسی اڑائی تھی۔ لیکن آج وہی لوگ اس نوجوان کھلاڑی کی صلاحیتوں کے معترف ہیں۔ ویبھو سوریہ ونشی نہ صرف راجستھان رائلز کی کامیابیوں کا مرکزی کردار بن چکے ہیں، بلکہ انہوں نے اپنی بیٹنگ سے کرکٹ کے ماہرین کو بھی متاثر کیا ہے۔
آئی پی ایل کا حیران کن سفر
ویبھو سوریہ ونشی کا آئی پی ایل سفر کسی فلمی کہانی سے کم نہیں۔ گزشتہ سیزن کے وسط میں ڈیبیو کرنے والے اس بائیں ہاتھ کے بلے باز نے بہت کم وقت میں اپنی شناخت بنائی۔ آئی پی ایل 2025 میں 7 میچوں میں 252 رنز بنا کر انہوں نے اپنے ارادے واضح کر دیے تھے۔ تاہم، آئی پی ایل 2026 کا سیزن ان کے لیے ایک بریک تھرو ثابت ہوا، جہاں انہوں نے 15 میچوں میں 242 کے شاندار اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 680 رنز بنا ڈالے۔
بی سی سی آئی کو جلدی کیوں نہیں کرنی چاہیے؟
اگرچہ ان کی فارم لاجواب ہے، لیکن ایک کرکٹ مبصر کی حیثیت سے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ آئی پی ایل سے کہیں زیادہ مختلف اور مشکل ہوتی ہے۔ یہاں تین اہم وجوہات ہیں جن کی بنا پر انہیں فی الحال انڈین ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ سے دور رکھا جانا بہتر ہے۔
1. مستحکم اوپننگ جوڑی
بھارتی ٹیم نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں شاندار کارکردگی دکھائی ہے، اور اس کامیابی میں سنجو سیمسن اور ابھیشیک شرما کی جوڑی کا کردار کلیدی رہا ہے۔ جب ایک جوڑی بہترین نتائج دے رہی ہو، تو اسے توڑنا ٹیم کے توازن کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ابھیشیک اور سیمسن کو مزید مواقع ملنے چاہئیں تاکہ وہ اپنی اس فارم کو برقرار رکھ سکیں۔
2. فیلڈنگ میں کمزوری
ویبھو بلاشبہ ایک تباہ کن بلے باز ہیں، لیکن فیلڈنگ کے شعبے میں وہ ابھی نامکمل ہیں۔ آئی پی ایل میں راجستھان رائلز ان کی اس کمزوری کو چھپانے کے لیے انہیں ‘امپیکٹ پلیئر’ کے طور پر استعمال کرتی ہے۔ لیکن بین الاقوامی کرکٹ میں ‘امپیکٹ پلیئر’ کا اصول نہیں ہوتا۔ وہاں ایک کمزور فیلڈر پوری ٹیم پر بھاری پڑ سکتا ہے۔ انہیں بین الاقوامی سطح پر آنے سے پہلے اپنی فیلڈنگ پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
3. کیا یہ فیصلہ قبل از وقت ہے؟
ویبھو کی عمر ابھی صرف 15 سال ہے۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں ایسے کئی کھلاڑی موجود ہیں جو برسوں سے سخت محنت کر رہے ہیں۔ کیا صرف ایک آئی پی ایل سیزن کی بنیاد پر ایک 15 سالہ لڑکے کو قومی ٹیم میں شامل کرنا مناسب ہے؟ بی سی سی آئی کو چاہیے کہ وہ کم از کم ایک سال مزید انتظار کرے اور دیکھے کہ آیا ویبھو اپنی فارم کو مستقل برقرار رکھ پاتے ہیں یا نہیں۔
نتیجہ
ویبھو سوریہ ونشی بلاشبہ بھارتی کرکٹ کا مستقبل ہیں اور ان کی صلاحیتوں پر کوئی شک نہیں۔ تاہم، جلد بازی میں انہیں بین الاقوامی پریشر میں ڈالنا ان کے کیریئر کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ انہیں ابھی مزید پختگی کی ضرورت ہے تاکہ وہ جب بھی انڈین ٹیم میں آئیں، تو مکمل تیاری کے ساتھ آئیں۔ کرکٹ بورڈ کا کام صرف ٹیلنٹ کو تلاش کرنا نہیں، بلکہ اسے صحیح وقت پر موقع دینا بھی ہے۔ فیڈریشن کی ذمہ داری ہے۔
