کرکٹ کا چوتھا فارمیٹ: ٹیسٹ ٹوئنٹی اور مکسڈ جینڈر کرکٹ کا نیا انقلاب
کرکٹ کا چوتھا فارمیٹ: ٹیسٹ ٹوئنٹی اور کھیل کی نئی جہت
کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ خود کو بدلتا رہا ہے۔ اب یہ کھیل نئے جغرافیائی خطوں تک پہنچنے اور شائقین کو کچھ نیا فراہم کرنے کے لیے ایک بار پھر تیار ہے۔ ‘ٹیسٹ ٹوئنٹی’ کے نام سے متعارف کروایا جانے والا یہ نیا فارمیٹ روایتی کرکٹ اور جدید دور کے جارحانہ انداز کا ایک بہترین امتزاج ثابت ہو سکتا ہے۔
اکتوبر 2025 میں پہلی بار سامنے آنے والے اس فارمیٹ نے 14 مئی 2026 کو ایک تاریخی اعلان کیا، جس کے تحت اسے دنیا کا پہلا باقاعدہ مکسڈ جینڈر (مخلوط صنف) کرکٹ ایکو سسٹم قرار دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد کھیل میں صنفی برابری کو فروغ دینا اور دونوں اصناف کے کھلاڑیوں کو ایک ہی چھت تلے مقابلہ کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
ٹیسٹ ٹوئنٹی فارمیٹ کیا ہے؟
ٹیسٹ ٹوئنٹی کا بنیادی مقصد ٹی ٹوئنٹی کی سنسنی خیزی کو ٹیسٹ کرکٹ کی پیچیدہ حکمت عملی کے ساتھ جوڑنا ہے۔ اس فارمیٹ کو بین الاقوامی کرکٹ کے چند عظیم ترین کھلاڑیوں کی حمایت حاصل ہے۔ ہربھجن سنگھ، اے بی ڈی ویلیئرز، سر کلائیو لائیڈ، اور میتھیو ہیڈن جیسے نامور ستارے اس کے مشاورتی بورڈ کا حصہ ہیں، جو اس کی اہمیت پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہیں۔
یہ فارمیٹ محض 20 اوورز کا کھیل نہیں ہے، بلکہ اس میں ایک میچ میں کل چار اننگز ہوں گی۔ ہر ٹیم دو اننگز کھیلے گی اور ہر اننگز 20 اوورز پر مشتمل ہوگی، یعنی ایک مکمل میچ میں مجموعی طور پر 80 اوورز کا کھیل ہوگا۔ یہ ڈھانچہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ شائقین ایک ہی دن میں ٹیسٹ کرکٹ کی روح اور ٹی ٹوئنٹی کی تیزی کا مزہ لے سکیں۔
کھیل کے قوانین اور طریقہ کار
ٹیسٹ ٹوئنٹی کو خاص طور پر 13 سے 19 سال کی عمر کے نوجوانوں (لڑکوں اور لڑکیوں) کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس کے قوانین درج ذیل ہیں:
- اننگز کا تسلسل: ٹیسٹ میچ کی طرح، اس میں بھی اسکور اگلی اننگز میں منتقل کیا جائے گا۔
- نتائج: میچ کا نتیجہ جیت، ہار، ٹائی یا ڈرا کی صورت میں نکل سکتا ہے۔
- ڈرا کی شرط: اگر میچ ڈرا کی طرف جا رہا ہو، تو آخری بیٹنگ کرنے والی ٹیم کو کھیل کے اختتام تک کم از کم پانچ وکٹیں بچانی ہوں گی، بصورت دیگر نتیجہ مختلف ہو سکتا ہے۔
- سپر اوور: اگر کھیل ڈرا ہو جائے تو فیصلے کے لیے سپر اوور کا سہارا لیا جائے گا۔
- پاور پلے: ہر ٹیم کو پورے میچ میں ایک پاور پلے ملے گا، جس کا فیصلہ کپتان کرے گا کہ اسے پہلی اننگز میں لینا ہے یا دوسری میں۔ پاور پلے کے 4 اوورز کے دوران صرف دو فیلڈرز 30 گز کے دائرے سے باہر رہ سکیں گے۔
مساوات کا قانون: مکسڈ جینڈر کرکٹ کا انقلاب
ٹیسٹ ٹوئنٹی نے صرف خواتین کو موجودہ ڈھانچے میں شامل نہیں کیا، بلکہ پورے ڈھانچے کو ہی نئے سرے سے تشکیل دیا ہے۔ یہ کھیلوں کی دنیا میں ایک اہم موڑ ہے جہاں مرد اور خواتین کھلاڑی ایک ہی فرنچائز، ایک ہی پوائنٹس ٹیبل، اور ایک ہی Badge کے لیے میدان میں اتریں گے۔
ہر ٹیم دو حصوں پر مشتمل ہوگی: ایک مردوں کی ٹیم اور ایک خواتین کی ٹیم۔ یہ دونوں ٹیمیں الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی مقصد کے لیے کھیلیں گی۔ ‘پیرٹی رول’ (مساوات کا قانون) کے تحت، کسی بھی ٹیم کی جیت اس وقت تک ممکن نہیں ہوگی جب تک کہ دونوں اصناف کے کھلاڑی میدان میں اپنا کردار ادا نہ کریں۔ یہ قانون کھیل کے معیار اور حفاظت کو برقرار رکھتے ہوئے برابری کی سطح فراہم کرتا ہے۔
کرکٹ لیجنڈز کی حمایت اور مستقبل کا لائحہ عمل
اے بی ڈی ویلیئرز اور ہربھجن سنگھ جیسے کھلاڑیوں نے اس فارمیٹ کو کرکٹ کے مستقبل کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس سے کھیل کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا اور نئے ٹیلنٹ کو سامنے آنے کا موقع ملے گا۔
ٹیسٹ ٹوئنٹی کے پہلے سیزن کا آغاز جنوری 2026 میں ہونا طے پایا ہے، جس میں چھ ٹیمیں حصہ لیں گی۔ یہ ٹیمیں دبئی، لندن، امریکہ اور بھارت کے شہروں کی نمائندگی کریں گی۔ کھلاڑیوں کے انتخاب کے لیے ایک جدید ‘AI ڈسکوری انجن’ استعمال کیا جائے گا، جو 1000 کھلاڑیوں کے پول میں سے بہترین ٹیلنٹ کا انتخاب کرے گا۔ اس کے بعد 300 کھلاڑیوں کو عالمی نیلامی (Global Auction) کے لیے منتخب کیا جائے گا۔ ہر فرنچائز کے 16 رکنی اسکواڈ میں آٹھ بھارتی اور آٹھ غیر ملکی کھلاڑی شامل ہوں گے۔
یہ نیا فارمیٹ نہ صرف کرکٹ کے شائقین کے لیے تفریح کا نیا ذریعہ بنے گا بلکہ عالمی سطح پر کھیلوں میں صنفی امتیاز کو ختم کرنے کی جانب ایک بڑا قدم ثابت ہوگا۔
