بابر اعظم کے خلاف حکمت عملی تیار ہے: مشفق الرحیم کا بیان
مشفق الرحیم کا بابر اعظم کے خلاف واضح لائحہ عمل
بنگلادیشی کرکٹ ٹیم کے سینئر وکٹ کیپر بلے باز مشفق الرحیم نے سلہیٹ میں ہونے والے دوسرے ٹیسٹ میچ سے قبل ایک اہم بیان دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بنگلادیشی ٹیم اس بات پر مکمل یقین رکھتی ہے کہ وہ پاکستان کے تجربہ کار بیٹر بابر اعظم کو پریشر میں لا سکتی ہے اور ان کی کارکردگی کو محدود کر سکتی ہے۔
بابر اعظم کی واپسی اور بنگلادیش کی تیاری
بابر اعظم کے دوسرے ٹیسٹ میں کھیلنے کی تصدیق کے بعد کرکٹ کے حلقوں میں جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ تاہم، مشفق الرحیم نے یاد دلایا کہ 2024 میں راولپنڈی میں ہونے والی سیریز کے دوران بھی بابر اعظم ٹیم کا حصہ تھے، جہاں بنگلادیش نے 2-0 سے تاریخی کامیابی حاصل کی تھی۔ اس سیریز کے دوران بابر اعظم چار اننگز میں صرف 64 رنز بنا سکے تھے اور نوجوان فاسٹ بولر ناہید رانا نے انہیں دو بار آؤٹ کیا تھا۔
مشفق الرحیم نے کہا، ‘بابر اعظم ایک عالمی معیار کے کھلاڑی ہیں اور ان کی موجودگی یقینی طور پر پاکستان کے لیے تقویت کا باعث ہے۔ لیکن ہم جانتے ہیں کہ انہیں کہاں اٹیک کرنا ہے اور ان کے خلاف کیا حکمت عملی اپنانی ہے۔ ہم اپنی منصوبہ بندی پر عمل درآمد کرنے کے لیے پر امید ہیں۔’
ٹیسٹ کرکٹ میں مستقل مزاجی
مشفق الرحیم نے موجودہ بنگلادیشی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ماضی کی نسبت اب ٹیم ٹیسٹ کرکٹ میں زیادہ مستقل مزاجی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، کھلاڑیوں کی بڑی تعداد میں ٹیسٹ میچز کھیلنے سے ٹیم کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ٹیم میں سات سے آٹھ ایسے کھلاڑی موجود ہیں جو مستقل کارکردگی دکھا رہے ہیں، جس سے پوری ٹیم کا معیار بلند ہوا ہے۔
کپتان نجم الحسین شانتو کی قیادت
مشفق الرحیم نے کپتان نجم الحسین شانتو کی قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ مثال قائم کر کے قیادت کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ شانتو کا قیادت کو مثبت انداز میں لینا ٹیم کے لیے بہت فائدہ مند ہے اور تمام کھلاڑی ان کی پیروی کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔
موسمی حالات اور ذہنی تیاری
سلہیٹ میں بارش کے امکانات کے باوجود مشفق الرحیم پر امید ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سلہیٹ کا ڈرینیج سسٹم عالمی معیار کا ہے، اس لیے اگر بارش میں وقفہ رہے تو نتیجہ نکلنے کا امکان موجود ہے۔ انہوں نے کھلاڑیوں کے لیے ‘سوئچ آن اور سوئچ آف’ کے تصور کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ایک پیشہ ور کرکٹر کے طور پر یہ ان کے معمول کا حصہ ہے کہ وہ میچ کی صورتحال کے مطابق اپنے ارتکاز کو برقرار رکھیں۔
ذاتی محنت اور عزم
مشفق الرحیم اپنی کامیابی کا سہرا اپنی سخت محنت اور نیٹ پریکٹس کو دیتے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ٹیم کی اجتماعی ٹریننگ کے علاوہ بھی وہ اکثر ایک سے دو گھنٹے اضافی پریکٹس کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی تکنیک اور اعتماد کو برقرار رکھ سکیں۔ ان کا یہ عزم ظاہر کرتا ہے کہ وہ کیوں اتنے طویل عرصے سے بنگلادیشی کرکٹ کا ایک ستون بنے ہوئے ہیں۔
بنگلادیشی ٹیم کا عزم ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف اپنی حالیہ فتوحات کے سلسلے کو برقرار رکھے اور سیریز میں کلین سویپ کے مشن کو مکمل کرے۔ مشفق الرحیم کے تجربے اور نوجوان کھلاڑیوں کے جوش کا امتزاج میزبان ٹیم کے لیے ایک مضبوط ہتھیار ثابت ہو رہا ہے۔
