IPL 2026: شبمن گل کی اپنی ٹیم پر کڑی تنقید، ناقص فیلڈنگ پر برہمی کا اظہار
شبمن گل کا سخت ردعمل: گجرات ٹائٹنز کی شکست کا ذمہ دار کون؟
کبھی کبھی ایک کپتان کو ڈریسنگ روم میں چلانے کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ چند بے باک اور سچ پر مبنی الفاظ ہی پوری ٹیم کو جگانے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ آئی پی ایل 2026 کے ایک ہائی اسکورنگ تھرلر میچ میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز (KKR) کے ہاتھوں 29 رنز سے شکست کے بعد گجرات ٹائٹنز (GT) کے کپتان شبمن گل نے بالکل یہی کیا۔
گجرات ٹائٹنز اس میچ میں یہ جانتے ہوئے اترے تھے کہ جیت انہیں پلے آف میں پہنچا دے گی، لیکن میدان پر ان کی فیلڈنگ انتہائی مایوس کن رہی۔ اس میچ میں ٹیم نے چار کیچز گرائے، جن میں سے تین تو انتہائی آسان تھے جنہیں پکڑنا کسی بھی پروفیشنل کھلاڑی کے لیے لازمی ہوتا ہے۔
گجرات ٹائٹنز کے لیے آئی پی ایل 2026 ایک اہم موڑ پر ہے، لیکن فیلڈنگ کی غلطیوں نے ان کے خوابوں کو وقتی طور پر ملتوی کر دیا ہے۔
کیچز چھوڑنا مہنگا پڑ گیا
گجرات کی ناقص فیلڈنگ کا سب سے زیادہ فائدہ فن ایلن نے اٹھایا۔ کیوی اوپنر کو دو بار زندگی ملی۔ پہلی بار جیسن ہولڈر مشکل کیچ نہ پکڑ سکے، لیکن اس کے بعد محمد سراج سے جو غلطی ہوئی وہ ناقابلِ معافی تھی۔ سراج، جو عام طور پر گجرات کے بہترین فیلڈرز میں شمار ہوتے ہیں، انہوں نے ایک انتہائی آسان کیچ چھوڑا جب ایلن 33 رنز پر تھے۔
فن ایلن نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور صرف 35 گیندوں پر 93 رنز کی دھواں دار اننگز کھیل ڈالی۔ اس کے علاوہ کیمرون گرین اور آنگرش رگھوونشی کو بھی زندگی ملی، جس کے نتیجے میں کولکتہ نے 247 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف کھڑا کر دیا، جو کہ گجرات ٹائٹنز کے خلاف آئی پی ایل کی تاریخ کا سب سے بڑا اسکور ہے۔
شبمن گل کا تجزیہ
میچ کے بعد شبمن گل نے کھل کر اپنی ٹیم کی ناکامی کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا: ‘اس طرح کے میچ میں تین آسان کیچز چھوڑنے کے بعد مجھے نہیں لگتا کہ ہم جیتنے کے مستحق تھے۔’ گل نے مزید کہا کہ پچ بیٹنگ کے لیے سازگار تھی اور ان کی ٹیم نے رنز بھی اچھے بنائے، لیکن فیلڈنگ کے معیار میں بہتری کی ضرورت تھی۔
پلے آف سے قبل ایک انتباہ
کپتان نے مایوسی کے باوجود حوصلہ نہیں ہارا۔ انہوں نے اسے ایک وقت پر ملنے والا سبق قرار دیا۔ گل کا ماننا ہے کہ ناک آؤٹ مرحلے میں ایسی غلطیوں سے بہتر ہے کہ یہ کمیاں ابھی سامنے آ جائیں تاکہ انہیں درست کیا جا سکے۔
اگرچہ اس شکست نے پلے آف میں پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ ڈالی ہے، تاہم گجرات ٹائٹنز ابھی بھی پوائنٹس ٹیبل پر 16 پوائنٹس کے ساتھ دوسرے نمبر پر موجود ہے۔ 21 مئی کو احمد آباد میں چنئی سپر کنگز کے خلاف ہونے والا میچ اب ٹائٹنز کے لیے اپنی ساکھ بحال کرنے کا بہترین موقع ہے۔ اگر گجرات اپنی فیلڈنگ پر کام کر لیتی ہے تو وہ ٹورنامنٹ کی مضبوط ترین ٹیموں میں سے ایک رہے گی۔
نتیجہ
کرکٹ میں فیلڈنگ ایک ایسا شعبہ ہے جو اکثر میچ کا پانسہ پلٹ دیتا ہے۔ شبمن گل کا یہ سخت موقف ٹیم میں ڈسپلن لانے کے لیے ضروری تھا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا گجرات ٹائٹنز اپنی غلطیوں سے سیکھ کر اگلے میچ میں ایک مضبوط واپسی کرتی ہے یا نہیں۔
