بابر اعظم کا ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میں بڑا دھماکہ، اسٹیو اسمتھ کا عالمی ریکارڈ برابر کر دیا
بابر اعظم کی شاندار واپسی اور ریکارڈ ساز کارکردگی
پاکستان کرکٹ ٹیم کے اسٹار بلے باز بابر اعظم [Source: AFP] نے بنگلہ دیش کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ میں اپنی کلاس کا لوہا منوا لیا ہے۔ انجری کے باعث پہلے ٹیسٹ میچ میں شرکت نہ کر پانے والے بابر اعظم جب کریز پر آئے تو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ کبھی ٹیم سے دور رہے ہی نہیں تھے۔ جب پاکستان کی ٹیم بنگلہ دیش کے پہلی اننگز کے 278 رنز کے جواب میں مشکلات کا شکار تھی، تب سابق کپتان نے ایک بار پھر اپنا پسندیدہ کردار ادا کیا اور اس وقت ڈٹ گئے جب ٹیم کو ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔
اسٹیو اسمتھ کا ورلڈ ریکارڈ برابر
اس اننگز کے دوران بابر اعظم نے آئی سی سی ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (WTC) کی تاریخ کا ایک بڑا اعزاز اپنے نام کیا۔ انہوں نے اپنے ٹیسٹ کیریئر کی 31 ویں نصف سنچری اسکور کی، جو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی تاریخ میں ان کی 20 ویں ففٹی پلس اننگز تھی۔ اس سنگ میل کے ساتھ ہی وہ آسٹریلیا کے مایہ ناز بلے باز اسٹیو اسمتھ اور انگلینڈ کے زیک کرولی کے برابر آ گئے ہیں۔ یہ تینوں کھلاڑی اب ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کی تاریخ میں سب سے زیادہ نصف سنچریاں بنانے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں مشترکہ طور پر تیسرے نمبر پر براجمان ہیں۔
بابر اعظم کی ایلیٹ گروپ میں شمولیت
بابر اعظم نے یہ سنگ میل اپنے 39 ویں ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ میچ میں حاصل کیا، جو ان کے شاندار کیریئر میں ایک اور سنہری باب کا اضافہ ہے۔ اب اس فہرست میں صرف دو کھلاڑی بابر اعظم سے اوپر ہیں، جو ان کی مستقل مزاجی اور عالمی معیار کی بیٹنگ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کرکٹ مبصرین کا ماننا ہے کہ بابر اعظم جس فارم میں نظر آ رہے ہیں، وہ جلد ہی اس فہرست میں مزید ترقی کریں گے۔
پاکستانی اننگز کا جائزہ: کلاس اور مہارت کا امتزاج
پاکستان کی اننگز کا آغاز کافی مایوس کن رہا جب صرف 23 رنز کے مجموعی اسکور پر دونوں اوپنرز پویلین لوٹ گئے۔ ایسی نازک صورتحال میں بابر اعظم میدان میں اترے اور بنگلہ دیشی باؤلرز کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روک دیا۔ انہوں نے اپنی روایتی نفاست کے ساتھ بیٹنگ کی، جس میں ان کے مشہور زمانہ کور ڈرائیوز اور بہترین ٹائمنگ کا عکس نمایاں تھا۔
بابر اعظم 84 گیندوں پر 68 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جس میں 10 دلکش چوکے شامل تھے۔ ان کی اس اننگز میں گھبراہٹ کا نام و نشان تک نہ تھا، بلکہ انہوں نے انتہائی اطمینان کے ساتھ رنز بنا کر ٹیم کے اعتماد کو بحال کیا۔ بابر نے سلمان آغا کے ساتھ مل کر ایک اہم شراکت داری قائم کی، جس کی بدولت پاکستان کی ٹیم 38.6 اوورز میں 140 رنز پر 4 وکٹوں کے نقصان تک پہنچنے میں کامیاب رہی۔
بنگلہ دیش کی اننگز اور لیٹن داس کی مزاحمت
اس سے قبل، بنگلہ دیش نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا اور لیٹن داس کی شاندار سنچری کی بدولت 278 رنز بنائے۔ لیٹن داس نے اس وقت ٹیم کو سہارا دیا جب بنگلہ دیشی ٹیم صرف 110 رنز پر 5 وکٹیں گنوا چکی تھی۔ انہوں نے 159 گیندوں پر 126 رنز کی برق رفتار اننگز کھیلی، جس میں 16 چوکے اور 2 بلند و بالا چھکے شامل تھے۔
پاکستانی باؤلرز کا شاندار اسپیل
پاکستان کی جانب سے باؤلنگ میں خرم شہزاد سب سے نمایاں رہے جنہوں نے بنگلہ دیشی بلے بازوں کو اپنی سوئنگ اور رفتار سے پریشان رکھا اور 4 اہم وکٹیں حاصل کیں۔ ان کا ساتھ تجربہ کار فاسٹ باؤلر محمد عباس نے دیا، جنہوں نے نپی تلی باؤلنگ کرتے ہوئے 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ ان دونوں کی عمدہ باؤلنگ کی بدولت ہی پاکستان بنگلہ دیش کو ایک بڑے اسکور سے روکنے میں کامیاب رہا۔
میچ کی موجودہ صورتحال اور بابر کی اہمیت
اگرچہ بابر اعظم 68 رنز بنا کر آؤٹ ہو چکے ہیں، لیکن ان کی اس اننگز نے پاکستان کو میچ میں واپس لا کھڑا کیا ہے۔ پاکستان کو اب بھی بنگلہ دیش کی پہلی اننگز کا خسارہ کم کرنے کے لیے مزید رنز درکار ہیں۔ سلمان آغا کریز پر موجود ہیں اور پاکستان کی امیدیں اب نچلے نمبروں کے بلے بازوں پر وابستہ ہیں کہ وہ ٹیم کو پہلی اننگز میں برتری دلوا سکیں۔
ریکارڈز اپنی جگہ اہمیت رکھتے ہیں، لیکن بابر اعظم کا اصل ہدف پاکستان کو اس سیریز میں کامیابی دلوانا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ پاکستان کی بیٹنگ لائن کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ اگر پاکستان اس ٹیسٹ میچ میں اپنی گرفت مضبوط کرنے میں کامیاب ہوتا ہے، تو اس میں بابر اعظم کی اس اننگز کا کلیدی کردار ہوگا جس نے ٹیم کو ابتدائی جھٹکوں سے سنبھالا۔
