بھارت بمقابلہ افغانستان: عاقب نبی کی شاندار کارکردگی کے باوجود ٹیم میں شمولیت کیوں مشکل؟
بھارت بمقابلہ افغانستان: عاقب نبی کا معاملہ اور سلیکشن کی پیچیدگیاں
رنجی ٹرافی 2025/26 کا سیزن جموں و کشمیر کے فاسٹ بولر عاقب نبی کے لیے ایک یادگار سفر ثابت ہوا، جہاں انہوں نے اپنی شاندار بولنگ سے نہ صرف ٹیم کو پہلی بار ٹائٹل جتوایا بلکہ 10 میچوں میں 60 وکٹیں لے کر سب کو حیران کر دیا۔ تاہم، اب جب بھارت اور افغانستان کے درمیان سیریز قریب ہے، سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ کارکردگی انہیں قومی ٹیم میں جگہ دلانے کے لیے کافی ہوگی؟

بی سی سی آئی اور سلیکشن کے چیلنجز
آئی پی ایل 2026 کے بعد ہونے والی اس اہم سیریز کے لیے بھارتی سلیکٹرز ایک مضبوط ٹیسٹ اسکواڈ کی تشکیل میں مصروف ہیں۔ شبمن گل کی قیادت میں 15 رکنی اسکواڈ کے لیے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا جسپریت بمراہ کو آرام دیا جائے گا؟ اگر بمراہ ٹیم کا حصہ نہیں ہوتے، تو محمد سراج اور پرسدھ کرشنا کے ساتھ تیسرے فاسٹ بولر کا انتخاب ایک بڑا امتحان ہے۔
عاقب نبی اور گورنور برار: کیا یہ بمراہ کے متبادل ہیں؟
بی سی سی آئی مستقبل کے لیے فاسٹ بولرز کو تیار کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ گورنور برار کو طویل عرصے سے ایک پروجیکٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ عاقب نبی نے ڈومیسٹک کرکٹ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ 29 سالہ عاقب نبی نے 12.57 کی اوسط سے وکٹیں حاصل کیں، جو کسی بھی تیز گیند باز کے لیے ایک شاندار ریکارڈ ہے۔ تاہم، آئی پی ایل میں دہلی کیپٹلز کی جانب سے کھیلتے ہوئے وہ اپنی چھاپ چھوڑنے میں ناکام رہے، جہاں وہ چار میچوں میں ایک بھی وکٹ حاصل نہ کر سکے۔
رفتار ایک بڑی رکاوٹ؟
میڈیا رپورٹس اور سلیکشن کے ذرائع کے مطابق، عاقب نبی کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ ان کی گیند بازی کی رفتار ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگرچہ ان کی وکٹیں لینے کی صلاحیت مسلمہ ہے، لیکن ان کی رفتار بین الاقوامی ٹیسٹ کرکٹ کے معیار کے مطابق نہیں ہے۔ اسی وجہ سے، اگر وہ 15 رکنی اسکواڈ میں شامل بھی کر لیے جاتے ہیں، تب بھی ان کا ڈیبیو کرنا ایک دور کی کوڑی معلوم ہوتا ہے۔
ون ڈے اسکواڈ اور مستقبل کے فیصلے
ٹیسٹ کے علاوہ، ون ڈے اسکواڈ کی تشکیل میں بھی انتظامیہ کو مشکلات کا سامنا ہے۔ پرنس یادو اور کارتک تیاگی جیسے ابھرتے ہوئے کھلاڑی بھی میدان میں ہیں جو ون ڈے فارمیٹ کے لیے موزوں سمجھے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، ویرات کوہلی اور روہت شرما کے مستقبل کے حوالے سے بھی سخت فیصلے متوقع ہیں کیونکہ بی سی سی آئی کی نظریں 2027 کے ورلڈ کپ پر ہیں۔ ہاردک پانڈیا کی فٹنس اور رشبھ پنت کی ٹیم میں جگہ برقرار رکھنے کے حوالے سے بھی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
نتیجہ
یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ بی سی سی آئی کس حکمت عملی کو اپناتا ہے۔ کیا وہ ڈومیسٹک کارکردگی کو ترجیح دیں گے یا رفتار اور تجربے کو؟ عاقب نبی کا معاملہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارتی ڈومیسٹک کرکٹ میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں، لیکن بین الاقوامی سطح پر قدم جمانے کے لیے صرف وکٹیں کافی نہیں، بلکہ معیار اور رفتار کا درست توازن ضروری ہے۔
