پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش: سلہٹ ٹیسٹ کے تیسرے روز کا کھیل، بنگلہ دیش نے 437 رنز کا ہدف دے دیا
سلہٹ ٹیسٹ: بنگلہ دیش کا پلڑا بھاری، پاکستان کو جیت کے لیے پہاڑ جیسا ہدف
سلہٹ میں جاری ٹیسٹ میچ کے تیسرے روز کھیل کا اختتام خراب روشنی کی وجہ سے مقررہ وقت سے پہلے کرنا پڑا۔ دن کے آخری لمحات میں پاکستان کی ٹیم نے صرف دو اوورز کا سامنا کیا، تاہم اس دوران کوئی بھی رن نہیں بن سکا۔ بنگلہ دیش کی جانب سے تسکین احمد اور شریف الاسلام نے گیند بازی کی اور دونوں ہی اوورز میڈن رہے۔
مشفق الرحیم کی شاندار اننگز
بنگلہ دیشی ٹیم نے دوسری اننگز میں مجموعی طور پر 390 رنز بنائے۔ ٹیم کی کامیابی میں تجربہ کار بلے باز مشفق الرحیم نے کلیدی کردار ادا کیا۔ انہوں نے 233 گیندوں پر 137 رنز کی شاندار اور ریکارڈ ساز اننگز کھیلی۔ مشفق الرحیم کی اس اننگز نے بنگلہ دیش کو ایک مستحکم پوزیشن پر پہنچایا اور پاکستان کے لیے ہدف کو انتہائی مشکل بنا دیا۔
اننگز کی اہم شراکت داریاں
دوسرے دن کے کھیل کے بعد بنگلہ دیش نے 110 رنز پر 3 وکٹیں گنوائی تھیں۔ تیسرے روز کے آغاز میں کپتان نجم الحسن شانتو جلد آؤٹ ہو گئے، لیکن اس کے بعد مشفق الرحیم اور لٹن داس کے درمیان 123 رنز کی اہم شراکت داری قائم ہوئی۔ لٹن داس نے پہلی اننگز کی طرح دوسری اننگز میں بھی ذمہ دارانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 92 گیندوں پر 69 رنز بنائے۔
لٹن داس کے آؤٹ ہونے کے بعد، مہدی حسن مرزا بھی زیادہ دیر کریز پر نہ ٹک سکے، لیکن مشفق الرحیم نے دم نہیں توڑا۔ انہوں نے تیج الاسلام کے ساتھ مل کر مزید 77 رنز جوڑے، جس سے بنگلہ دیش کی پوزیشن مزید مضبوط ہو گئی۔ تیج الاسلام 22 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، جبکہ مشفق الرحیم آخری کھلاڑی کے طور پر آؤٹ ہونے سے قبل اپنی ٹیم کو 390 کے مجموعی اسکور تک لے گئے۔
پاکستان کے سامنے مشکل چیلنج
بنگلہ دیش نے پہلی اننگز میں 46 رنز کی برتری حاصل کی تھی، اور اس دوسری اننگز کے بعد انہوں نے پاکستان کو جیت کے لیے 437 رنز کا ہدف دیا ہے۔ یہ ہدف نہ صرف بڑا ہے بلکہ سلہٹ کی پچ پر آخری دنوں میں بلے بازی کرنا مزید چیلنجنگ ہو سکتا ہے۔
کھیل کا اختتام
دن کے اختتام پر امپائروں نے خراب روشنی کے باعث مزید کھیل جاری رکھنا ناممکن قرار دے دیا۔ پاکستان کو ابھی طویل سفر طے کرنا ہے اور چوتھے دن کے کھیل میں پاکستانی بلے بازوں کو انتہائی صبر اور تکنیک کے ساتھ بیٹنگ کرنی ہوگی تاکہ وہ اس مشکل ہدف کے تعاقب میں اپنی امیدیں برقرار رکھ سکیں۔ سلہٹ ٹیسٹ اب ایک دلچسپ موڑ پر آچکا ہے جہاں ہر سیشن کی اپنی اہمیت ہوگی۔
