سری لنکا کرکٹ بورڈ پر پابندی کا خطرہ: آئی سی سی کے ساتھ اہم مذاکرات
سری لنکا کرکٹ بورڈ: ایک اور بحران اور آئی سی سی کی تشویش
سری لنکا کرکٹ (SLC) ایک بار پھر اپنی گورننس کے حوالے سے ایک بڑے بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ آئی سی سی کی جانب سے ممکنہ معطلی کا خطرہ اس وقت پیدا ہوا جب سری لنکا کی حکومت نے شممی سلوا کی زیر قیادت پرانی انتظامیہ کو ہٹا کر کمار سنگاکارا جیسے سابق کھلاڑیوں پر مشتمل ایک نئی ‘ٹرانسفارمیشن کمیٹی’ تشکیل دی۔
آئی سی سی کے قوانین اور حکومتی مداخلت
بین الاقوامی کرکٹ کونسل (ICC) کرکٹ بورڈز میں حکومتی مداخلت کے خلاف انتہائی سخت موقف رکھتی ہے۔ آئی سی سی کے آئین کے مطابق، کسی بھی رکن ملک کا کرکٹ بورڈ مکمل طور پر خود مختار ہونا چاہیے اور اس میں ریاست یا حکومت کی براہ راست مداخلت یا منتظمین کی تقرری کی ممانعت ہے۔ چونکہ سری لنکا کی وزارت کھیل نے پرانی انتظامیہ کو ہٹا کر اپنی مرضی کی کمیٹی تشکیل دی ہے، اس لیے آئی سی سی نے اس پیش رفت کا نوٹس لیا ہے۔
یہ صورتحال اس لیے بھی تشویشناک ہے کیونکہ سری لنکا کرکٹ ماضی میں بھی انہی وجوہات کی بنا پر پابندیوں کا شکار رہی ہے۔ سال 2023 میں اسی قسم کی حکومتی مداخلت پر بورڈ کو معطل کیا گیا تھا، جبکہ 2015 میں بھی آئی سی سی نے حکومتی مداخلت کی وجہ سے بورڈ کی فنڈنگ منجمد کر دی تھی۔
مذاکرات اور حکام کا موقف
اس صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے آئی سی سی کے ڈپٹی چیئرمین عمران خواجہ نے سری لنکا کا دورہ کیا ہے۔ سری لنکن کرکٹ بورڈ کے حکام کا کہنا ہے کہ آئی سی سی کے ساتھ ان کی بات چیت ‘خوشگوار اور تعمیری’ رہی ہے۔ بورڈ کا موقف ہے کہ وہ کرکٹ پر سیاسی کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہے، بلکہ ان کا بنیادی مقصد بورڈ کے فرسودہ آئین کو جدید بنانا اور گورننس کے معیارات کو بہتر بنانا ہے۔ سِداتھ ویٹیمونی، جو کہ نئی کمیٹی کا اہم حصہ ہیں، نے امید ظاہر کی ہے کہ آئی سی سی سری لنکا کو ایک مکمل رکن کے طور پر قبول رکھے گی، تاہم حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔
بھارت کے دورے اور ٹیسٹ سیریز پر اثرات
ایک طرف جہاں معطلی کی تلوار لٹک رہی ہے، دوسری طرف بورڈ حکام ہندوستان کے ساتھ سیریز کو حتمی شکل دینے میں بھی مصروف ہیں۔ بی سی سی آئی کے سیکرٹری دیواجیت سائیکا نے بھی آئی سی سی کے وفد کے ہمراہ سری لنکا کا دورہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق، دونوں بورڈز کے درمیان اگست کے وسط میں دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز پر اتفاق ہوا ہے جو کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (WTC) کا حصہ ہوگی۔
مزید برآں، سری لنکا کرکٹ کی جانب سے تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کی بھی خواہش ظاہر کی گئی ہے، جسے وہ پچھلے سال سائیکل ‘ڈٹوواہ’ سے متاثرہ افراد کے لیے فنڈ ریزنگ کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم، ہندوستانی ٹیم کا مصروف شیڈول اور ستمبر میں بنگلہ دیش کے متوقع دورے کی وجہ سے ان میچوں کا انعقاد ایک چیلنج بن گیا ہے۔
نتیجہ
آئی سی سی ابھی تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچی ہے، لیکن سری لنکا کرکٹ کے لیے خطرہ بدستور موجود ہے۔ اگر آئی سی سی کو حکومتی مداخلت کے ٹھوس ثبوت ملتے ہیں تو معطلی ناگزیر ہو سکتی ہے۔ سری لنکن کرکٹ بورڈ کے لیے اب ضروری ہے کہ وہ اپنی خودمختاری کو یقینی بنائے تاکہ کھیل اور کھلاڑیوں کا مستقبل محفوظ رہ سکے۔
