ویرات کوہلی کا اعتراف: کیریئر کا وہ بھیانک دور جب کریز پر جاتے ہوئے ان کے پیر کانپتے تھے
کامیابی کے سکھر پر پہنچنے والے ویرات کوہلی کا سب سے بڑا ڈراؤنا خواب
ویرات کوہلی کا شمار دنیا کے ان چند کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی انتھک محنت اور بے پناہ صلاحیتوں کے بل بوتے پر کرکٹ کی دنیا پر حکمرانی کی ہے۔ تقریباً 18 سالہ شاندار پیشہ ورانہ کرکٹ کے سفر کے بعد، دہلی کا یہ لڑکا آج کروڑوں نوجوانوں کا رول ماڈل بن چکا ہے۔ لیکن اس شاندار کامیابی کے پیچھے کئی ایسے تلخ لمحات اور دردناک یادیں بھی چھپی ہیں جنہیں کوہلی آج بھی فراموش نہیں کر پائے۔ عام طور پر کرکٹ کے مداح یہ سمجھتے ہیں کہ سال 2023 کے ورلڈ کپ میں شکست یا پھر 2021 میں بھارتی ٹیم کی کپتانی سے ہٹایا جانا ویرات کوہلی کی زندگی کا سب سے مایوس کن دور رہا ہوگا، لیکن حقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ ویرات کوہلی نے حال ہی میں اپنے کیریئر کے اس سب سے بڑے ڈراؤنے خواب کا اعتراف کیا ہے جو آج 12 سال گزرنے کے بعد بھی ان کے ذہن پر نقش ہے۔
2014 کا دورہ انگلینڈ: ویرات کوہلی کی زندگی کا مشکل ترین مرحلہ
آر سی بی (RCB) انوویشن لیب میں گفتگو کرتے ہوئے، ویرات کوہلی نے اپنے دل کے راز کھولے اور بتایا کہ ان کے کرکٹ کیریئر کا سب سے مشکل دور سال 2014 کا تھا جب وہ ایک نوجوان کھلاڑی تھے اور ان میں وہ شیر جیسا جارحانہ مزاج اور خود اعتمادی نہیں تھی جو آج ان کی پہچان ہے۔ کوہلی نے کھلے دل سے اعتراف کیا کہ 2014 کا دورہ انگلینڈ ان کی زندگی کا سب سے زیادہ تکلیف دہ اور ذہنی طور پر تھکا دینے والا مرحلہ تھا۔ یہ دورہ انگلینڈ ایک کثیر فارمیٹ سیریز پر مشتمل تھا جس کے میچز ناٹنگھم، لارڈز، ساؤتھمپٹن، مانچسٹر، دی اوول، کارڈف، برمنگھم اور لیڈز جیسے تاریخی میدانوں میں کھیلے گئے تھے۔ ایک نوجوان اور ابھرتے ہوئے ویرات کوہلی کے لیے یہ سیریز غیر ملکی سرزمین پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کا ایک بہترین موقع تھی، لیکن بدقسمتی سے یہ ان کے لیے ایک بھیانک خواب ثابت ہوئی۔
ٹیسٹ سیریز میں عبرت ناک ناکامی اور جیمز اینڈرسن کا خوف
اس دورہ انگلینڈ کے دوران ٹیسٹ سیریز میں ویرات کوہلی کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔ انہوں نے 10 اننگز میں شرکت کی لیکن مجموعی طور پر صرف 134 رنز بنا سکے، جہاں ان کی بیٹنگ اوسط محض 13.40 رہی۔ انگلینڈ کے مایہ ناز گیند بازوں اسٹورٹ براڈ اور جیمز اینڈرسن نے ان کے لیے رنز بنانا نامکن بنا دیا تھا۔ خاص طور پر جیمز اینڈرسن نے کوہلی کی تکنیکی خامیوں کو نشانہ بنایا اور انہیں سیریز کے دوران بار بار جلدی آؤٹ کر کے شدید دباؤ میں ڈال دیا۔ ویرات کوہلی نے اس دور کے ذہنی دباؤ کو بیان کرتے ہوئے کہا: ‘2014 کا دورہ انگلینڈ میرے کرکٹ کیریئر کا سخت ترین دور تھا۔ میں خود کو پرامید اور پرعزم رکھنے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن ہر صبح جب میں بیدار ہوتا تو مجھے ایسا لگتا کہ میں آج پھر ناکام ہو جاؤں گا۔ میرے ذہن میں مسلسل یہ سوال گھومتا تھا کہ میں اس صورتحال کا سامنا کیسے کروں؟ آپ کے اندر کا مسابقتی کھلاڑی آپ سے کہتا ہے کہ آپ کو یہ کرنا ہے، لیکن حالات بالکل مختلف تھے۔ جب ٹیسٹ سیریز ختم ہوئی اور ون ڈے سیریز شروع ہونے والی تھی، تو میں نے اچھی تیاری کی تھی اور خود کو پراعتماد محسوس کر رہا تھا، لیکن سچ یہ ہے کہ جب میں کریز کی طرف بڑھ رہا تھا تو میرے پیر لرز رہے تھے۔’
ون ڈے سیریز میں بھی ناکامی کا تسلسل
ویرات کوہلی کا یہ سچا اعتراف ان کی اس وقت کی ذہنی حالت کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ ون ڈے فارمیٹ میں بھی ان کی قسمت نہ بدل سکی۔ چار میچوں کی اس سیریز میں وہ صرف 54 رنز بنا سکے اور ان کی اوسط 18.00 رہی۔ کرس ووکس، بین اسٹوکس اور جیمز اینڈرسن نے انہیں چار میں سے تین میچوں میں پویلین کی راہ دکھائی۔ ان کے لیے اس پورے دورے میں واحد تسلی بخش کارکردگی واحد ٹی 20 میچ میں سامنے آئی، جہاں بھارت کو 181 رنز کا ہدف حاصل کرنا تھا۔ اس میچ میں کوہلی نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے 66 رنز بنائے اور وہ ٹیم کے سب سے نمایاں اسکورر رہے، لیکن مڈل آرڈر کی مکمل ناکامی کی وجہ سے بھارتی ٹیم یہ میچ محض 3 رنز سے ہار گئی۔ تاہم، اس اننگز نے کوہلی کی ذہنی مضبوطی اور ان کے روایتی جارحانہ انداز کی واپسی کا اشارہ دے دیا تھا۔ کوہلی نے بتایا: ‘میں نے بولر کے رن اپ شروع کرنے سے پہلے خود سے ایک وعدہ کیا تھا کہ میں اپنے اوپر لگے اس دباؤ کو توڑنے کے لیے ہر گیند کو باؤنڈری سے باہر بھیجنے کی کوشش کروں گا۔ اگرچہ میں صفر پر آؤٹ ہو گیا لیکن میں نے گیند کو پوری طاقت سے ہٹ کیا تھا اور جب میں واپس جا رہا تھا تو مجھے ایک سکون کا احساس تھا۔’
2014 کی ناکامی سے عظیم بلے باز بننے تک کا سفر
اگرچہ 2014 کا دورہ انگلینڈ ویرات کوہلی کے لیے انتہائی مایوس کن ثابت ہوا، لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ سال ون ڈے کرکٹ میں ان کا بدترین سال نہیں تھا۔ اس سال کھیلے گئے 21 ون ڈے میچوں میں کوہلی کی بیٹنگ اوسط 58.56 رہی، جو ان کے پچھلے سالوں کے شاندار تسلسل (جس میں ان کی اوسط بالترتیب 54، 47 اور 68 تھی) کا تسلسل تھا۔ لیکن اس تلخ تجربے نے کوہلی کو ایک نیا عزم دیا جس کے بعد انہوں نے اپنی تکنیک اور ذہنی مضبوطی پر کام کیا۔ سال 2016 اور 2018 ویرات کوہلی کے کیریئر کے عروج کے سال ثابت ہوئے، جہاں انہوں نے بالترتیب 92.38 اور 133.56 کی ناقابل یقین اوسط سے رنز بنائے۔ انہوں نے دنیا کے سامنے یہ ثابت کیا کہ وہ کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں کیوں شمار ہوتے ہیں۔ آج ویرات کوہلی ون ڈے کرکٹ میں 14,700 سے زائد رنز بنا چکے ہیں اور ان کی یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ناکامی ہی دراصل کامیابی کا پہلا زینہ ہوتی ہے۔
