ویبھو سوریاونشی پر لکھنؤ کی نظریں؟ سنیل گواسکر کا آئی پی ایل نیلامی پر بڑا تبصرہ
ویبھو سوریاونشی کا دھماکہ: 15 سالہ نوجوان نے جے پور میں تاریخ رقم کر دی
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) ہمیشہ سے ہی نئے اور نوجوان ٹیلنٹ کو سامنے لانے کا ایک بہترین ذریعہ رہی ہے، لیکن حال ہی میں جے پور کے سوائی مان سنگھ اسٹیڈیم میں جو کچھ دیکھنے کو ملا، اس نے دنیا بھر کے کرکٹ شائقین اور ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔ راجستھان رائلز کے محض 15 سالہ نوجوان بلے باز ویبھو سوریاونشی نے لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کے خلاف ایک ایسی ناقابل یقین اور طوفانی اننگز کھیلی جس نے نہ صرف ان کی ٹیم کو ایک شاندار فتح دلائی بلکہ حریف ٹیم کے مالک سنجیو گوئنکا اور ہندوستانی کرکٹ کے عظیم کھلاڑی سنیل گواسکر کو بھی اپنا مداح بنا لیا۔ اس شاندار کارکردگی کے بعد اب آئی پی ایل کی مستقبل کی نیلامیوں کے حوالے سے بھی دلچسپ قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔
لکھنؤ سپر جائنٹس کا بڑا ہدف اور سوریاونشی کی سنسنی خیز اننگز
راجستھان رائلز اور لکھنؤ سپر جائنٹس کے درمیان کھیلے گئے اس اہم میچ میں لکھنؤ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بورڈ پر 220 رنز کا ایک بڑا اور مشکل مجموعہ سجایا۔ جے پور کی پچ پر اس ہدف کا تعاقب کرنا آسان کام نہیں تھا، اور جب راجستھان رائلز کی اننگز شروع ہوئی تو ویبھو سوریاونشی کی شروعات انتہائی دھیمی رہی۔ انہوں نے اپنی پہلی 12 گیندوں پر صرف 11 رنز بنائے تھے، اور ایسا لگ رہا تھا کہ لکھنؤ کے گیند باز ان پر دباؤ بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا، اس کی توقع لکھنؤ کے کپتان یا گیند بازوں نے خواب میں بھی نہیں کی ہوگی۔ سوریاونشی نے اچانک اپنے کھیل کا انداز بدلا اور میدان کے چاروں اطراف چوکے اور چھکے برسانا شروع کر دیے۔ انہوں نے محض 38 گیندوں پر 93 رنز کی دھواں دھار اننگز کھیلی، جس میں 7 شاندار چوکے اور 10 فلک شگاف چھکے شامل تھے۔ ان کی اس برق رفتار اننگز کی بدولت راجستھان رائلز نے 5 گیندیں قبل ہی اس بڑے ہدف کو باآسانی عبور کر لیا اور پلے آف کی دوڑ میں خود کو مضبوط کر لیا۔
سنجیو گوئنکا کا جذباتی ردعمل اور احترام کا خوبصورت منظر
میچ ہارنے کے باوجود لکھنؤ سپر جائنٹس کے مالک سنجیو گوئنکا نوجوان ویبھو سوریاونشی کی کارکردگی سے اتنے متاثر ہوئے کہ وہ خود کو ان کی تعریف کرنے سے نہ روک سکے۔ میچ کے فوراً بعد گوئنکا نے میدان میں اس نوجوان کھلاڑی سے خصوصی ملاقات کی۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر شیئر کی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ویبھو سوریاونشی روایتی احترام کے طور پر سنجیو گوئنکا کے پیر چھو رہے ہیں، جس کے جواب میں گوئنکا نے انہیں گلے لگایا اور مستقبل کے لیے دعائیں دیں۔
گوئنکا نے اس ملاقات کے بعد کہا کہ پوری دنیا نے اب اس نوجوان کی شاندار صلاحیتوں کا لوہا مان لیا ہے اور اتنی کم عمری میں ہی ان کے کندھوں پر ہندوستانی کرکٹ کے مستقبل کو آگے لے جانے کی ایک بڑی ذمہ داری آ گئی ہے۔ یہ منظر سوشل میڈیا پر کرکٹ کے مداحوں کی توجہ کا مرکز بن گیا اور اسے کھیل کی حقیقی روح قرار دیا گیا۔
سنیل گواسکر کا دلچسپ تبصرہ: لکھنؤ کی جانب سے بڑی بولی کا اشارہ
اس خوبصورت ملاقات اور تصاویر پر ہندوستانی کرکٹ کے عظیم بلے باز اور سابق کپتان سنیل گواسکر نے ایک انتہائی دلچسپ اور معنی خیز تبصرہ کیا۔ انہوں نے سنجیو گوئنکا کی پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا، “میں جلد ہی تمہارے لیے بولی لگاؤں گا۔” گواسکر کے اس جملے کا مقصد دراصل سنجیو گوئنکا کو چھیڑنا اور یہ اشارہ دینا تھا کہ گوئنکا مستقبل میں ویبھو سوریاونشی کو ہر قیمت پر لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کی ٹیم میں شامل کرنا چاہیں گے۔
لیجنڈری کرکٹر کا یہ تبصرہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ویبھو سوریاونشی نے کرکٹ برادری پر کتنا گہرا اثر چھوڑا ہے۔ ان کا یہ انداز ظاہر کرتا ہے کہ وہ آنے والے وقت کے ایک بڑے سپر اسٹار ہیں جن پر مستقبل کی نیلامیوں میں فرنچائزز کروڑوں روپے کی بولیاں لگانے کے لیے تیار ہوں گی۔
کیا راجستھان رائلز ویبھو سوریاونشی کو چھوڑے گی؟
اگرچہ سنیل گواسکر نے لکھنؤ کی جانب سے بولی لگانے کی بات کی ہے، لیکن حقیقت پسندانہ طور پر دیکھا جائے تو ویبھو سوریاونشی کا مستقبل قریب میں کسی دوسری ٹیم میں جانا ناممکن دکھائی دیتا ہے۔ اگلے چند برسوں میں آئی پی ایل کا میگا آکشن ہونے والا ہے، جہاں تمام فرنچائزز کو صرف چند ہی کھلاڑیوں کو ریٹین (برقرار) رکھنے کی اجازت ہوگی۔
لیکن ویبھو سوریاونشی کی غیر معمولی کارکردگی اور ان کی بے پناہ صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے، راجستھان رائلز کی انتظامیہ انہیں کسی بھی قیمت پر اپنی ٹیم سے الگ نہیں ہونے دے گی۔ رائلز انہیں ایک خطیر رقم کے عوض اپنی ٹیم میں برقرار رکھنا چاہے گی، کیونکہ ایسے نایاب اور میچ ونر کھلاڑی روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ 15 سال کی عمر میں جس پختگی کا مظاہرہ انہوں نے کیا ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کے لیے آسمان ہی حد ہے۔ شائقینِ کرکٹ اب بے صبری سے انہیں انڈیا اے اور مستقبل میں سینئر قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے دیکھنے کے منتظر ہیں۔
راجستھان رائلز کی پلے آف کی راہ اب کتنی آسان ہے؟
لکھنؤ سپر جائنٹس کے خلاف اس شاندار اور یکطرفہ فتح کے بعد راجستھان رائلز نے پلے آف کی دوڑ میں اپنی پوزیشن کو انتہائی مضبوط کر لیا ہے۔ اس وقت رائل چیلنجرز بنگلور (RCB)، سن رائزرز حیدرآباد (SRH) اور گجرات ٹائٹنز (GT) پہلے ہی پلے آف کے لیے کوالیفائی کر چکی ہیں، اور اب صرف چوتھے اور آخری مقام کے لیے جنگ جاری ہے۔
راجستھان رائلز کے پاس فی الحال 14 پوائنٹس ہیں اور ان کا صرف ایک لیگ میچ باقی ہے۔ اگر رائلز اپنے آخری میچ میں ممبئی انڈینز (MI) کو شکست دے دیتی ہے، تو وہ کسی دوسری ٹیم کے نتائج پر انحصار کیے بغیر براہ راست پلے آف مرحلے میں پہنچ جائے گی۔ تاہم، اگر وہ یہ میچ ہار جاتے ہیں، تو انہیں دعا کرنی ہوگی کہ چنئی سپر کنگز (CSK) اور پنجاب کنگز (PBKS) اپنے آخری میچوں میں پوائنٹس گنوا دیں۔ فی الحال، راجستھان رائلز کی پوری توجہ ممبئی کے خلاف فتح حاصل کرنے اور اپنی تقدیر کا فیصلہ اپنے ہاتھوں سے کرنے پر مرکوز ہے۔
