ارشدیپ سنگھ کی خراب فارم: امباتی رائیڈو اور مارک باؤچر کا اہم تجزیہ
پنجاب کنگز کی فتح کے باوجود ارشدیپ سنگھ کی فارم پر سوالیہ نشان
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) 2026 کا سیزن پنجاب کنگز (PBKS) کے بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز ارشدیپ سنگھ کے لیے اب تک کافی مایوس کن ثابت ہو رہا ہے۔ ارشدیپ سنگھ اس وقت اپنی بہترین فارم سے دور نظر آ رہے ہیں، اور ان کی یہ ناقص کارکردگی اس وقت بھی برقرار رہی جب پنجاب کنگز فتوحات حاصل کر رہی تھی اور اس وقت بھی جب ٹیم کو مسلسل شکستوں کا سامنا تھا۔ ہفتے کے روز جب پنجاب کنگز نے آخر کار اپنی مسلسل چھ میچوں کی ہار کا سلسلہ توڑا، تو اس اہم میچ میں بھی ارشدیپ سنگھ کا اسپیل انتہائی مایوس کن رہا۔ جہاں ایک طرف سابق بھارتی کرکٹر امباتی رائیڈو نے ان کی بولنگ لینتھ کی خامیوں کی نشان دہی کی، وہیں دوسری طرف پنجاب کنگز کے کوچ مارک باؤچر کا ماننا ہے کہ ارشدیپ سنگھ کی اس خراب فارم کی اصل وجہ شدید جسمانی اور ذہنی تھکن ہے۔
ہفتے کے روز لکھنؤ میں کھیلے گئے میچ میں لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کے بلے بازوں نے پنجاب کنگز کے خلاف 9.80 کے اوسط رن ریٹ سے رنز بنائے۔ اس دباؤ والے میچ میں ارشدیپ سنگھ کی بولنگ لائن اینڈ لینتھ بالکل پٹری سے اتری ہوئی دکھائی دی، انہوں نے 17.33 کے انتہائی مہنگے اکانومی ریٹ سے رنز لٹائے۔ صورتحال اس حد تک خراب تھی کہ کپتان نے انہیں ان کے کوٹے کا آخری اوور دینے کا خطرہ بھی مول نہیں لیا۔
امباتی رائیڈو کا تجزیہ: بولنگ لینتھ اور توانائی کی کمی کا مسئلہ
سابق بھارتی بلے باز امباتی رائیڈو نے کرک انفو ٹائم آؤٹ (ESPNcricinfo TimeOut) پر گفتگو کرتے ہوئے ارشدیپ سنگھ کی بولنگ تکنیک پر کھل کر بات کی۔ رائیڈو کا کہنا تھا کہ ‘میں سمجھتا ہوں کہ ارشدیپ سنگھ کے ساتھ اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ان کی بولنگ لینتھ کا ہے۔ وہ ایک ایسے گیند باز نہیں ہیں جنہیں مسلسل شارٹ پچ گیندیں کرنی چاہئیں۔ ڈیتھ اوورز (میچ کے آخری لمحات) میں انہیں لازمی طور پر یارکرز پھینکنے چاہئیں، اور نئی گیند کے ساتھ بھی جب بھی انہوں نے فلر لینتھ (آگے گیند) کی ہے، تو وہ زیادہ سود مند ثابت ہوئی ہے۔ پہلی گیند کو چھوڑ کر جو کور ڈرائیو کے لیے گئی تھی، میرے خیال میں ان کی فلر گیندوں پر اتنے رنز نہیں بنے جتنے شارٹ آف لینتھ یا شارٹ گیندوں پر بنے ہیں۔’
ائیڈو نے مزید کہا کہ ارشدیپ سنگھ کو اس بات کا خاص خیال رکھنا ہوگا کیونکہ اس وقت ان کے پاس ایک بہترین اور تیز باؤنسر پھینکنے کی صلاحیت نظر نہیں آ رہی۔ اس کی وجہ شاید ان کا تھکا ہوا جسم ہے یا پھر ان کے پاس اب وہ توانائی اور کاٹ (juice) نہیں رہی جو چند ماہ پہلے ہوا کرتی تھی۔ لیکن اگر وہ اس کمی کا سامنا کر رہے ہیں، تو انہیں اس کی تلافی کرنے کے لیے اپنی گیندوں کو آگے پھینکنا ہوگا اور فلر لینتھ پر انحصار کرنا ہوگا۔
مارک باؤچر کا موقف: مسلسل کرکٹ اور تھکن کا عنصر
دوسری جانب پنجاب کنگز کے ہیڈ کوچ مارک باؤچر نے ارشدیپ سنگھ کا دفاع کرتے ہوئے تھکن کو ان کی اس کارکردگی کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا ہے۔ باؤچر کا کہنا تھا کہ ‘میرا خیال ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد سے مسلسل کرکٹ کھیلنے کی وجہ سے وہ کافی تھک چکے ہیں، اور پھر آئی پی ایل کا یہ پورا مہینہ انہیں مسلسل کھیلنا پڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس وقت اس حال میں دکھائی دے رہے ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس کا تعلق ان کی مہارت یا ٹیلنٹ سے ہے۔ ایک خاص وقت پر آ کر تھکن کھلاڑیوں پر اثر انداز ضرور ہوتی ہے، اور یہ ایک قدرتی عمل ہے۔’
مارک باؤچر نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ارشدیپ سنگھ کو آرام دینا پنجاب کنگز کے لیے کیوں ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے کہا، ‘ہاں، میں تسلیم کرتا ہوں کہ وہ شاید تھوڑے تھکے ہوئے ہیں۔ لیکن ان کے بارے میں ایک بات واضح ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ انہیں ہر میچ کھیلنا ہی کھیلنا ہے۔ وہ کوئی غیر ملکی کھلاڑی نہیں ہیں جہاں آپ کے پاس متبادل کے طور پر بہت سے دوسرے اختیارات موجود ہوں اور آپ کھلاڑیوں کو آرام دے سکیں۔ انہیں ٹیم کی ضرورت کے تحت میدان میں اترنا ہی پڑتا ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں انہیں اپنی بنیادی مہارتوں پر بھروسہ کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ نئی گیند کے ساتھ گیند کو دونوں طرف سوئنگ کرنے کی بہت زیادہ کوشش کر رہے ہیں، جو شاید ان کے حق میں نہیں جا رہی۔’
اعداد و شمار کا تقابل: ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ بمقابلہ آئی پی ایل 2026
اگر ہم ارشدیپ سنگھ کے حالیہ ماضی کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو واضح فرق نظر آتا ہے۔ رواں سال کے شروع میں منعقدہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں ارشدیپ سنگھ، جسپریت بمراہ کے بعد بھارت کے دوسرے اہم ترین فاسٹ بولر کے طور پر ابھرے تھے۔ بھارت نے یہ ورلڈ کپ جیتا اور ارشدیپ نے اس تاریخی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ٹورنامنٹ کے 8 میچوں میں 8.46 کے مناسب اکانومی ریٹ سے 9 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
تاہم، آئی پی ایل 2026 کے اس سیزن میں ان کے اعداد و شمار انتہائی مایوس کن ہیں۔ انہوں نے اب تک 14 میچوں میں 14 وکٹیں حاصل کی ہیں لیکن ان کا اکانومی ریٹ 10.20 تک جا پہنچا ہے۔ وہ رواں سیزن کے ان دو گیند بازوں میں شامل ہیں جنہوں نے مجموعی طور پر 500 سے زائد رنز لٹائے ہیں۔ چنئی سپر کنگز (CSK) کے انشل کمبوج دوسرے ایسے گیند باز ہیں جنہوں نے 500 سے زائد رنز دیے ہیں، لیکن ان کے پاس اپنی کارکردگی کو ثابت کرنے کے لیے 21 وکٹیں بھی موجود ہیں، جبکہ ارشدیپ کے پاس صرف 14 وکٹیں ہیں۔
پنجاب کنگز کا مستقبل اور ارشدیپ کے پاس واپسی کا آخری موقع
چاہے تھکن ہو یا تکنیکی مسائل، جیسا کہ مارک باؤچر نے اشارہ کیا، اگر پنجاب کنگز کو ٹورنامنٹ میں اگلا میچ کھیلنے کا موقع ملتا ہے تو ارشدیپ سنگھ لازمی طور پر پلیئنگ الیون کا حصہ ہوں گے۔ پنجاب کنگز کا اگلے مرحلے میں پہنچنا اتوار کی رات ہونے والے دیگر میچوں کے نتائج پر منحصر ہے۔ اگر پنجاب کنگز کو ایک اور میچ کھیلنے کا موقع ملتا ہے، تو ارشدیپ سنگھ کے پاس اس ناکام سیزن کے داغ دھونے اور اپنی فارم کو دوبارہ بحال کرنے کا کم از کم ایک آخری موقع ضرور ہوگا تاکہ وہ ایک بار پھر ثابت کر سکیں کہ وہ بھارتی کرکٹ کے بہترین بولرز میں کیوں شمار ہوتے ہیں۔
