BSPA اسپورٹس ایوارڈز 2025: حمزہ چوہدری اور رشاد حسین چھا گئے
BSPA اسپورٹس ایوارڈز 2025: کھیلوں کے ستاروں کا شاندار اعزاز
بنگلہ دیش اسپورٹس پریس ایسوسی ایشن (BSPA) کی جانب سے منعقد کردہ ‘کول-بی ایس پی اے اسپورٹس ایوارڈز 2025’ ایک ایسی شاندار تقریب ثابت ہوئی جس میں ملک کے بہترین کھلاڑیوں، کوچز اور منتظمین کی خدمات کا اعتراف کیا گیا۔ یہ تقریب ڈھاکا کے پین پیسفک سونارگاؤں ہوٹل میں منعقد کی گئی، جہاں کھیلوں کے میدان کے ہیروز کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔
حمزہ چوہدری کا راج
اس سال کے ایوارڈز کا سب سے نمایاں نام فٹ بالر حمزہ چوہدری رہا۔ انہوں نے نہ صرف ‘اسپورٹس پرسن آف دی ایئر 2025’ کا باوقار اعزاز اپنے نام کیا بلکہ ‘پاپولر چوائس ایوارڈ’ اور ‘فٹ بالر آف دی ایئر’ کا خطاب بھی جیتا۔ حمزہ نے خواتین فٹ بالر ریتوپرنا چکما اور ہاکی پلیئر امیر الاسلام کو پیچھے چھوڑتے ہوئے یہ کامیابی حاصل کی۔ اپنی کامیابی پر اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے اپنے اہل خانہ، کوچز اور مداحوں کا شکریہ ادا کیا۔
دیگر نمایاں فاتحین
کرکٹ کی دنیا میں رشاد حسین نے ‘کرکٹر آف دی ایئر’ کا اعزاز حاصل کر کے اپنی شاندار کارکردگی کا لوہا منوایا۔ اس کے علاوہ مختلف کھیلوں کے بہترین کھلاڑیوں کو بھی انعامات سے نوازا گیا۔ ایوارڈز کی مکمل فہرست درج ذیل ہے:
- اسپورٹس پرسن آف دی ایئر: حمزہ چوہدری
- کرکٹر آف دی ایئر: رشاد حسین
- فٹ بالر آف دی ایئر: حمزہ چوہدری اور ریتوپرنا چکما
- ہاکی پلیئر آف دی ایئر: امیر الاسلام
- آرچر آف دی ایئر: عبدالرحمن عالف
- ٹیبل ٹینس پلیئر: کھوئی کھوئی سائی مارما
- بیڈمنٹن پلیئر: الامین زمر
- ابھرتے ہوئے ایتھلیٹ: ریپن منڈول
- کوچ آف دی ایئر: پیٹر بٹلر
- امپائر آف دی ایئر: سلیم لکی
- آرگنائزر آف دی ایئر: قاضی راجیب الدین احمد چپل
- گراس روٹس اسپورٹس پرسنلٹی: عالمگیر کبیر
- اسپیشل آنر: شہناز پروین ملیکا
- بہترین اسپانسر: پرائم بینک پی ایل سی
- سب سے متحرک فیڈریشن: بنگلہ دیش کبڈی فیڈریشن
تقریب کے اہم مہمان اور تاثرات
تقریب کی صدارت BSPA کے صدر رضوان الزماں راجیب نے کی، جبکہ وزیر مملکت برائے امورِ نوجوانان و کھیل امین الحق نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ وزیر موصوف نے اپنے خطاب میں کہا کہ BSPA اسپورٹس ایوارڈز کی روایت طویل عرصے سے قائم ہے اور یہ ایوارڈز کھیلوں کے شعبے میں ترقی کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنے پرانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے ایک فٹ بالر کے طور پر اس تقریب میں شریک ہوتے تھے اور آج وزیر کی حیثیت سے یہاں موجود ہیں۔
اس تقریب کے روح رواں اور اسپانسرز کی جانب سے بھی اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ بنگلہ دیشی کھیلوں کے معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے صحافت اور کھلاڑیوں کا باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ BSPA کے صدر نے اسپورٹس جرنلزم انسٹی ٹیوٹ کے قیام کی ضرورت پر زور دیا تاکہ کھیلوں کی کوریج کو عالمی معیار کے مطابق ڈھالا جا سکے۔ 1964 میں شروع ہونے والی یہ روایت آج بھی بنگلہ دیشی کھیلوں کی تاریخ کا ایک اہم حصہ بنی ہوئی ہے، جس میں ہر سال نئے ستارے سامنے آتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہیں۔ یہ ایوارڈز نہ صرف موجودہ کھلاڑیوں کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث ہیں بلکہ نئی نسل کے لیے ایک مشعلِ راہ بھی ہیں۔
