بھارت بمقابلہ افغانستان: گوتم گمبھیر اور اجیت اگرکر کی ممکنہ بڑی تبدیلیاں
بھارت بمقابلہ افغانستان: سلیکشن کمیٹی کا اہم اجلاس
اجیت اگرکر کی قیادت میں بھارتی سلیکشن کمیٹی جلد ہی افغانستان کے خلاف واحد ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچوں کی سیریز کے لیے اسکواڈ کا اعلان کرنے والی ہے۔ یہ سیریز جون کے مہینے میں منعقد ہوگی، جس کے اہم مقامات میں نئی چندی گڑھ، دھرم شالہ، لکھنؤ اور چنئی شامل ہیں۔
گوتم گمبھیر اور اجیت اگرکر کے لیے یہ انتخاب کافی اہم ہے کیونکہ ٹیم کو سری لنکا اور نیوزی لینڈ کے مشکل دوروں کے لیے خود کو تیار کرنا ہے۔ مینجمنٹ کا ماننا ہے کہ تجربہ کار کھلاڑی ہی مختلف کنڈیشنز میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔
جسپریت بمراہ کا ورک لوڈ مینجمنٹ
ایک بڑا سوال جسپریت بمراہ کی دستیابی کے حوالے سے ہے۔ آئی پی ایل کے تھکا دینے والے سیزن کے بعد، ٹیم مینجمنٹ انہیں ہر میچ کھلانے کے حق میں نہیں ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بمراہ یا تو صرف ٹیسٹ میچ کھیلیں گے یا پھر ون ڈے سیریز کا حصہ ہوں گے۔ یہ توازن ٹیم کے اہم ترین فاسٹ بولر کو انجری سے بچانے کے لیے ناگزیر ہے۔
اکشر پٹیل کا مستقبل خطرے میں
اس سیریز کا سب سے بڑا سرپرائز اکشر پٹیل کی اسکواڈ سے ممکنہ ڈراپ ہونے کی خبر ہے۔ اطلاعات کے مطابق، گوتم گمبھیر اور اجیت اگرکر اسپن بولنگ یونٹ میں اکشر پٹیل سے آگے دیکھ رہے ہیں۔ رویندرا جڈیجہ، کلدیپ یادیو اور واشنگٹن سندر اس وقت ٹیم کے لیے ترجیحی انتخاب بنے ہوئے ہیں۔
یہ پیشرفت جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز میں بدترین شکست کے بعد سامنے آئی ہے۔ 408 رنز کی تاریخی شکست کے بعد سلیکٹرز ٹیم میں نئے خون اور زیادہ اثر انگیز کارکردگی کے خواہشمند ہیں۔
اکشر پٹیل کی کارکردگی پر سوالات
اگرچہ اکشر پٹیل نے پہلے ٹیسٹ میں 42 رنز بنائے اور دو وکٹیں حاصل کیں، لیکن ان کی کارکردگی ماہرین کو متاثر کرنے میں ناکام رہی۔ دوسرے ٹیسٹ میں انہیں ٹیم سے باہر کر دیا گیا تھا تاکہ ایک اضافی فاسٹ بولر کو ٹیم میں شامل کیا جا سکے۔ ان کا بیٹ کے ساتھ ناکام ہونا اور اہم مواقع پر وکٹیں گنوانا ان کی ٹیم میں جگہ برقرار رکھنے کے لیے رکاوٹ بن رہا ہے۔
نوجوان ٹیلنٹ کی آمد
سلیکٹرز اب مستقبل کی جانب دیکھ رہے ہیں۔ نوجوان اسپنر مانو سوتھر کو اکشر پٹیل کے متبادل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی دکھانے والے فاسٹ بولر گرنور برار کو بھی پہلی بار قومی ٹیم میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ بی سی سی آئی کا بنیادی مقصد ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ اور 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے ایک مضبوط اور متحرک ٹیم کی تعمیر ہے۔
آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ کیا تجربہ کار کھلاڑی اپنی جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا پھر نئے کھلاڑیوں کو خود کو ثابت کرنے کا موقع ملے گا۔ بھارتی شائقین کو امید ہے کہ سلیکٹرز کا یہ سخت فیصلہ ٹیم کو دوبارہ کامیابیوں کی راہ پر گامزن کرے گا۔
