Ishan Kishan Controversy: CSK Fans Furious Over Instagram Post
ایشان کشن اور چنئی سپر کنگز کے شائقین کے درمیان تنازعہ
18 مئی کو چنئی کے چیپاک اسٹیڈیم میں کھیلے گئے آئی پی ایل 2026 کے اہم میچ میں سن رائزرز حیدرآباد نے چنئی سپر کنگز (CSK) کے پلے آف کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا۔ اس میچ میں ایشان کشن مرکزی کردار کے طور پر ابھرے، جنہوں نے 47 گیندوں پر 70 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر حیدرآباد کی فتح میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم، میچ کا اختتام صرف کرکٹ تک محدود نہیں رہا بلکہ کشن کے رویے نے شائقین کے جذبات کو بھڑکا دیا۔
کشن کا جارحانہ انداز اور ‘وسل پوڈو’ پر ردعمل
ایشان کشن نے اپنی نصف سنچری محض 37 گیندوں میں مکمل کی اور اپنی ٹیم کو فتح کے قریب پہنچایا۔ میچ کے بعد، انہیں چنئی سپر کنگز کے مشہور ‘وسل پوڈو’ (Whistle Podu) کلچر کا مذاق اڑاتے ہوئے دیکھا گیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں کشن کو اسٹیڈیم میں موجود شائقین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیکھا گیا، جس میں وہ انہیں میدان سے باہر جانے کا اشارہ کر رہے تھے۔ یہ رویہ چنئی کے مداحوں کو بالکل بھی پسند نہیں آیا اور انہوں نے اسے غیر ضروری اور توہین آمیز قرار دیا۔
انسٹاگرام پوسٹ جس نے آگ میں گھی کا کام کیا
میچ کے بعد، 19 مئی کی صبح ایشان کشن نے انسٹاگرام پر اپنی ٹیم کی جیت کا جشن مناتے ہوئے کچھ تصاویر شیئر کیں۔ لیکن تنازعہ اس وقت مزید بڑھ گیا جب انہوں نے کیپشن میں لکھا: ‘وسلوں سے زیادہ آواز اگر کسی چیز کی تھی تو وہ بلے کی تھی، پلے آف میں پہنچ گئے۔’ اس جملے کو چنئی کے شائقین نے براہ راست ان کے ‘وسل پوڈو’ ثقافت پر حملہ سمجھا۔
میچ کا خلاصہ: چیپاک میں حیدرآباد کا غلبہ
اگر میچ کے تکنیکی پہلوؤں پر نظر ڈالیں تو چنئی سپر کنگز کے لیے یہ ایک مایوس کن رات تھی۔ ایم ایس دھونی کی موجودگی کے باوجود، ٹیم سن رائزرز حیدرآباد کو روکنے میں ناکام رہی۔ چنئی کی جانب سے ڈوالڈ بریوس نے 27 گیندوں پر 44 رنز بنائے، لیکن ٹیم درمیانی اوورز میں مسلسل وکٹیں گنوانے کے باعث دباؤ کا شکار رہی۔ رتوراج گائیکواڈ، ارویل پٹیل اور سنجو سیمسن بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے۔
دوسری جانب، حیدرآباد کی بیٹنگ لائن اپ نے نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا۔ ہینرک کلاسن نے 26 گیندوں پر 47 رنز بنا کر کشن کا بھرپور ساتھ دیا، جس کی بدولت حیدرآباد نے پانچ وکٹوں سے فتح حاصل کر کے پلے آف کے لیے کوالیفائی کر لیا۔
مداحوں کا ردعمل
ایشان کشن کی انسٹاگرام پوسٹ پر کچھ ہی گھنٹوں میں لاکھوں لائیکس آئے اور کمنٹ سیکشن میں ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا گیا۔ جہاں حیدرآباد کے حامیوں نے کشن کے اعتماد اور کارکردگی کی تعریف کی، وہیں چنئی کے مداحوں نے کشن کے ‘غیر پیشہ ورانہ’ رویے پر تنقید کی۔ یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ آئی پی ایل میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ان کا عوامی رویہ بھی شائقین کے لیے کتنی اہمیت رکھتا ہے۔
نتیجہ
کرکٹ کے میدان پر جذبات کا اظہار فطری ہے، لیکن ایشان کشن کا یہ انداز آنے والے دنوں میں بھی موضوع بحث رہے گا۔ چاہے یہ جارحیت ان کے کھیل کا حصہ ہو یا محض ایک اشتعال انگیزی، اس نے یقینی طور پر چیپاک کے ماحول میں ایک تلخ یاد چھوڑ دی ہے۔
