News

جosh انگلِس: ایل ایس جی کی تاریکی میں ایک روشنی کی کہانی – آئی پی ایل 2026

Michael Chen-O'Brien · · 1 min read
Share

جosh انگلِس: لاکھو سپر جائنٹس کی تاریکی میں ایک منفرد چمک

آئی پی ایل 2026 کا سیزن لاکھو سپر جائنٹس (ایل ایس جی) کے لیے مایوس کن ثابت ہوا۔ ٹیم کو آخری پوزیشن پر ختم کرنا پڑا، اور یہ تیسرا لگاتار ناکام سیزن تھا۔ مگر اس تاریکی میں ایک چمکتی ہوئی شخصیت تھی: جosh انگلِس۔ ان کی ورسٹائل بلے بازی اور ٹیم کے لیے بروقت اور مؤثر کارکردگی نے تمام تر توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔

ایل ایس جی کے لیے ایک مثبت نوٹ

ٹام موڈی، ایل ایس جی کے عالمی کرکٹ ڈائریکٹر، نے کہا، “ایک ساتھ بال اور بلے دونوں کی اچھی کارکردگی دکھانا ہمیشہ ایک چیلنج ہوتا ہے۔” مگر جہاں ٹیم کے دیگر کھلاڑی ناکام رہے، وہیں انگلِس نے 5 میچوں میں صرف 266 رنز بنائے، جس میں 3 نصف سنچریاں شامل تھیں۔ ان کا اسٹرائیک ریٹ 186.01 تھا، جو سیزن میں ٹیم کے دیگر بیٹسمین سے کہیں بہتر تھا۔

ان کے رنز کی تعداد صرف مچل مارش (563) اور رشیبھ پانٹ (312) کے بعد تیسرے نمبر پر تھی، اور یہ ایڈئن مارکرم (231 رنز، 11 میچ) اور نکولس پورین (234 رنز، 14 میچ) جیسے کھلاڑیوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیتی تھی۔

انگلِس کی ورسٹائل بلے بازی

ایمبیٹی رائیوڈو نے ESPNcricinfo TimeOut میں کہا، “انگلِس اتنے ورسٹائل ہیں: وہ سست گیندوں کے خلاف بھی اچھے ہیں، ہر لمبائی کے خلاف بھی کامیاب ہوتے ہیں۔” وہ مزید کہتے ہیں، “وہ ذہنی طور پر بھی مضبوط ہیں۔ ان کا شاٹ سلیکشن بہترین ہے، خاص طور پر بیرونی ملک کے دیگر بیٹسمین کے مقابلے میں۔ مثلاً فن ایلن کو دیکھیں، جو نیو بال کا مقابلہ کرتے ہیں مگر بہت یک رخے ہیں۔ مگر جosh انگلِس ایسے نہیں ہیں۔ وہ وکٹ کے گرد ہر طرف شاٹس کھیل سکتے ہیں، خاص طور پر اسپن کے خلاف۔”

پاور پلے میں تباہ کن کارکردگی

مارک بوچر نے انگلِس کی پاور پلے میں کارکردگی کو سراہا، جہاں وہ 229 کے اسٹرائیک ریٹ سے رنز بنا رہے تھے۔ انہوں نے کہا، “آپ یہی سوچتے ہیں کہ وہ حل ہو سکتے ہیں، خاص طور پر اس طرح کے اختتام کو دیکھتے ہوئے۔” انہوں نے مزید کہا، “ان کا کھیل سمجھداری بھرا ہے۔ وہ فیلڈ کو حرکت دیتے رہتے ہیں۔ جب آپ باؤلرز کو پیچھے سے آگے لاتے ہیں، تو وہ انہیں واپس اوور ہیڈ شاٹس سے مار دیتے ہیں۔ وہ سیدھا نو بال کے اوپر بھی مار سکتے ہیں۔”

مستقبل کی امید

ایل ایس جی کے لیے آئندہ سیزن کے لیے بہت کچھ تبدیل ہو سکتا ہے۔ موڈی نے “ری سیٹ” کی بات کی ہے، خاص طور پر رشیبھ پانٹ کی کپتانی کے حوالے سے۔ مگر جosh انگلِس کی موجودگی ٹیم کے لیے ایک استحکام کی علامت ہے۔

جب باقی بیٹسمین ناکام رہے، تو صرف ایک نام نے امید کی کرن جگائی۔ اور اگر اگلے سیزن میں بھی وہ اسی طرح کی کارکردگی دکھاتے رہے، تو نہ صرف وہ اسٹارٹنگ الیون کا حصہ بنیں گے بلکہ ٹیم کی تعمیر نو کا مرکزی کردار بھی ہوں گے۔

خلاصہ: جosh انگلِس نے مایوس کن سیزن میں لاکھو سپر جائنٹس کے لیے ایک مضبوط پیغام چھوڑا ہے: کہ وہ نہ صرف ٹیم کے لیے ایک مستقل اثاثہ ہیں، بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی جگہ مضبوط کر رہے ہیں۔

Michael Chen-O'Brien

A specialist in video analysis and DRS (Decision Review System) technology, Michael Chen-O'Brien is known for decoding "ball-by-ball" controversies and umpiring errors. He has produced over 500 analytical videos, making complex topics like "LBW reviews," "field placements," and "cricket rules" accessible to casual fans. He is the go-to editor for anything related to technology in modern cricket.