‘No one is going to point fingers’ – Pollard on Hardik’s captaincy
ممبئی انڈینز کا آئی پی ایل 2026 کا سفر: ایک مایوس کن اختتام
آئی پی ایل 2026 کا سیزن ممبئی انڈینز کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں رہا۔ راجستھان رائلز کے ہاتھوں آخری میچ میں شکست کے بعد، پانچ بار کی چیمپئن ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر نویں نمبر پر رہی۔ ممبئی انڈینز کے بیٹنگ کوچ کیرون پولارڈ نے اس صورتحال کو ‘کیا ہوتا اگر’ کا سیزن قرار دیا ہے۔
کیرون پولارڈ کا ردعمل
پریس کانفرنس کے دوران پولارڈ نے ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کا کھل کر اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پورے ٹورنامنٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے اور نہ ہی جیت کا تسلسل برقرار رکھ پائے۔ تاہم، پولارڈ کا ماننا ہے کہ ابھی کسی پر انگلی اٹھانے یا تنقید کرنے کا وقت نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا: ‘ابھی وقت نہیں ہے کہ ہم کوتاہیوں کی نشاندہی کریں۔ یہ جذباتی فیصلے ہوں گے، اور ہمیں ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کہاں غلطی ہوئی۔ اگر ہم ابھی بیٹھ کر یہ کہنا شروع کر دیں کہ یہ کرو یا وہ کرو، تو یہ انتظامیہ کی جانب سے غیر ذمہ دارانہ رویہ ہوگا۔’
ہاردک پانڈیا کی کپتانی پر بحث
سیزن کے دوران سب سے زیادہ بحث ہاردک پانڈیا کی کپتانی پر رہی۔ اس حوالے سے پولارڈ نے واضح موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ‘No one is going to point fingers’ – Pollard on Hardik’s captaincy کا مطلب یہ ہے کہ شکست کی ذمہ داری انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی ہوتی ہے۔ ہاردک نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی، لیکن بدقسمتی سے نتائج ہمارے حق میں نہیں رہے۔ ہم نے انہیں فرنچائز کو لیڈ کرنے کا بہترین موقع فراہم کرنے کی پوری کوشش کی۔’
جسپریت بمراہ کی فارم اور فٹنس
جسپریت بمراہ، جو عام طور پر اپنی وکٹ ٹیکنگ صلاحیتوں کے لیے جانے جاتے ہیں، اس سیزن میں کچھ خاص متاثر نہ کر سکے۔ پولارڈ نے انکشاف کیا کہ بمراہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد معمولی انجری کا شکار تھے اور مکمل فٹ نہیں تھے۔ ان کا اکانومی ریٹ (8.37) اگرچہ اچھا رہا، لیکن وہ صرف چار وکٹیں حاصل کر سکے۔
آخری میچ میں بمراہ کو نہ کھلانے پر پولارڈ نے کہا کہ ہم کھلاڑی کی ضرورت کو سمجھتے ہیں۔ ‘بمراہ بھارتی کرکٹ کا اثاثہ ہیں، اور کبھی کبھی آپ کو سمجھداری کا مظاہرہ کرنا پڑتا ہے۔ ہم نے بینچ پر موجود دیگر کھلاڑیوں کو موقع دینے کا فیصلہ کیا تاکہ ٹیم کی گہرائی کو جانچا جا سکے۔’
مستقبل کی حکمت عملی
پولارڈ نے اس بات پر زور دیا کہ ممبئی انڈینز اب اپنی حکمت عملی پر گہرائی سے کام کرے گی۔ 2020 کے بعد سے ٹائٹل نہ جیت پانا ٹیم کے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ آنے والے دنوں میں ٹیم کے تمام پہلوؤں کا مکمل جائزہ لیا جائے گا تاکہ مستقبل میں بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔
نتیجہ
ممبئی انڈینز کے لیے یہ سیزن سیکھنے کا ایک سخت سبق رہا ہے۔ چاہے وہ قیادت کے مسائل ہوں یا اہم کھلاڑیوں کی فٹنس، ٹیم کو اب ایک نئے سرے سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ کرکٹ شائقین کو امید ہے کہ ٹیم اپنی پرانی شان دوبارہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔
