راچن رویندرا کا آئی پی ایل جلد چھوڑنے اور انگلینڈ دورے کی تیاریوں پر بڑا انکشاف
نیوزی لینڈ کے باصلاحیت آل راؤنڈر راچن رویندرا نے انکشاف کیا ہے کہ آئی پی ایل 2026 کو جلدی الوداع کہنے سے انہیں اپنے ملک میں کچھ قیمتی وقت گزارنے اور آئرلینڈ اور انگلینڈ کے خلاف آنے والی اہم ترین ٹیسٹ سیریز سے قبل خود کو ذہنی اور جسمانی طور پر تازہ دم کرنے کا ایک بہترین موقع ملا ہے۔ طویل اور تھکا دینے والے شیڈول کے بعد، اپنے گھر پر گزارے گئے یہ چند دن ان کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں تھے، اور وہ اب سرخ گیند کی کرکٹ کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
آئی پی ایل سے جلد واپسی: کولکتہ نائٹ رائیڈرز کا شاندار تعاون
راچن رویندرا نے آئرلینڈ روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کولکتہ نائٹ رائیڈرز (KKR) کی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ فرنچائز کا رویہ انتہائی ہمدردانہ اور صورتحال کو سمجھنے والا تھا۔ رویندرا کا کہنا تھا، “کے کے آر کی انتظامیہ نے میری صورتحال کو بہت اچھے انداز میں سمجھا۔ چونکہ میں پلیئنگ الیون کا حصہ نہیں بن پا رہا تھا، اس لیے میں نے ٹیم کے سی ای او اور کوچ سے بات کی کہ کیوں نہ میں وقت سے پہلے گھر جا کر خود کو ریفریش کروں۔”
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا، “ہمارا مستقبل کا شیڈول اتنا مصروف ہے کہ میں اگست کے آخر تک دوبارہ گھر نہیں جا سکوں گا۔ ایسے میں فرنچائز کی طرف سے یہ کہنا کہ ‘آپ گھر جائیں، آرام کریں اور آئرلینڈ جانے سے پہلے اپنی انفرادی ٹریننگ مکمل کریں’ واقعی ایک شاندار اقدام تھا۔ چونکہ میں کھیل نہیں رہا تھا، اس لیے اس فیصلے پر عمل درآمد آسان ہو گیا۔ ہم کھلاڑی سال کا زیادہ تر حصہ اپنے گھروں سے دور گزارتے ہیں، اس لیے گھر پر گزارے گئے چار سے پانچ دن بھی ہمارے لیے بے حد توانائی بخش ثابت ہوتے ہیں۔”
آئی پی ایل بینچ پر بیٹھ کر بھی سیکھنے کا عمل جاری رہا
اگرچہ راچن رویندرا کو آئی پی ایل 2026 کے دوران کولکتہ نائٹ رائیڈرز کی جانب سے میدان میں اترنے کا زیادہ موقع نہیں ملا، لیکن ان کا ماننا ہے کہ اس دوران ملنے والے تجربات ان کے لیے انتہائی کارآمد ثابت ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود کو میچ پریکٹس سے دور محسوس نہیں کر رہے کیونکہ وہ مسلسل نیٹ پر سخت محنت کر رہے تھے اور دنیا کے بہترین کھلاڑیوں کے ساتھ وقت گزار رہے تھے۔
رویندرا نے کہا، “میں نے کچھ عرصے سے باقاعدہ میچ نہیں کھیلا، اور آئی پی ایل میں زیادہ تر وقت ساتھی کھلاڑیوں کو پانی پلانے اور ٹریننگ سیشنز میں ہی گزرا، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ میں فارم سے باہر ہوں۔ اس سے قبل کا شیڈول بے حد مصروف تھا۔ گھر پر گزارے گئے پانچ دنوں میں، میں نے کرائسٹ چرچ میں بہترین گھاس والی پچوں پر ٹریننگ کی تاکہ خود کو انگلینڈ کی وکٹوں کے لیے تیار کر سکوں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ آئی پی ایل صرف ٹی ٹوئنٹی کرکٹ تک محدود نہیں ہے بلکہ وہاں کھیل کے لیجنڈز سے سیکھنے کا جو موقع ملتا ہے وہ بے مثال ہے۔ “میں نے اجنکیا رہانے سے طویل گفتگو کی، جنہوں نے لارڈز میں سنچری بنائی ہے اور انگلینڈ اور آسٹریلیا میں کھیلنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ کے کے آر کے اسسٹنٹ بیٹنگ کوچ ابھیشیک نائر اور بیٹنگ کوچ شین واٹسن نے بھی میری بہت رہنمائی کیا۔ یہاں تک کہ ویرات کوہلی اور کے ایل راہول جیسے مایہ ناز بلے بازوں کے ساتھ بیٹنگ پر بات چیت کرنا ایک شاندار تجربہ تھا جس سے میری ریڈ بال کرکٹ کی تیاریوں کو بہت فائدہ پہنچا۔”
نیوزی لینڈ کا خطرناک پیس اٹیک: حریف ٹیموں کے لیے وارننگ
نیوزی لینڈ نے انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے ایک انتہائی مضبوط اور تیز گیند بازوں سے لیس اسکواڈ کا انتخاب کیا ہے۔ کائل جیمیسن اور طویل قامت فاسٹ بولر ول او رورک کی واپسی سے کیوی پیس اٹیک انتہائی خطرناک شکل اختیار کر چکا ہے۔ راچن رویندرا اپنی ٹیم کے تیز گیند بازوں کی گہرائی اور معیار کو دیکھ کر کافی پرجوش دکھائی دیے۔
انہوں نے کہا، “گزشتہ سیزن میں ہمارے کئی اہم کھلاڑی انجری کا شکار تھے، لیکن اب ان کی واپسی سے ٹیم کا حوصلہ بہت بلند ہے۔ میٹ ہنری، بلیئر ٹکنر، نیتھن اسمتھ اور بین سیئرز جیسے باصلاحیت بولرز اب مکمل فٹ ہیں۔ ہمارے پاس ایک بہترین پیس بیٹری موجود ہے جس کا سامنا میں خود نیٹ پر کرنے کے لیے بے تاب ہوں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ول او رورک نے زمبابوے اور انگلینڈ کے خلاف ہوم سیریز میں کیسی تباہ کن بولنگ کی تھی۔ انہیں دوبارہ میدان میں ایکشن میں دیکھنا واقعی شاندار ہوگا، یہ نیوزی لینڈ کرکٹ کے لیے ایک بہترین دور ہے۔”
اسپن بولنگ کی ذمہ داری: رویندرا اور گلین فلپس کا گٹھ جوڑ
دلچسپ بات یہ ہے کہ نیوزی لینڈ نے برطانیہ کے اس دورے کے لیے کسی ماہر (اسپیشلسٹ) اسپنر کو ٹیم میں شامل نہیں کیا ہے۔ ایسے میں اسپن بولنگ کا سارا بوجھ راچن رویندرا اور گلین فلپس کے کندھوں پر ہوگا۔ رویندرا اپنی بائیں ہاتھ کی فنگر اسپن پر سخت محنت کر رہے ہیں اور وہ گلین فلپس کی آف اسپن کے ساتھ مل کر حریف بلے بازوں کو پریشان کرنے کے لیے پرامید ہیں۔
یاد رہے کہ 2026 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کو فائنل تک پہنچانے میں راچن رویندرا کا کردار کلیدی تھا، جہاں وہ 12 وکٹوں کے ساتھ ٹیم کے سب سے کامیاب بولر رہے تھے اور ان کا اکانومی ریٹ صرف 7.84 رہا تھا۔ رویندرا نے بولنگ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا، “میں ہمیشہ اپنی بولنگ میں بہتری لانے کی کوشش کرتا ہوں۔ کبھی کبھی یہ پس منظر میں چلی جاتی ہے، لیکن اب میں اس پر زیادہ توجہ دے رہا ہوں۔ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں مجھے اچھے مواقع ملے، لیکن ٹیسٹ کرکٹ بالکل مختلف ہے جہاں آپ کو لال گیند کے ساتھ زیادہ مستقل مزاجی دکھانی ہوتی ہے۔ میں اس سلسلے میں گلین فلپس کے ساتھ مل کر کام کروں گا۔”
آئرلینڈ کے خلاف ٹیسٹ: ایک اہم چیلنج
انگلینڈ کے خلاف تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز شروع ہونے سے قبل، نیوزی لینڈ کی ٹیم 27 مئی سے 30 مئی تک آئرلینڈ کے خلاف ایک واحد چار روزہ ٹیسٹ میچ کھیلے گی۔ اگرچہ یہ میچ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ (WTC) کا حصہ نہیں ہے اور آئرش ٹیم اپنے کچھ اہم کھلاڑیوں کی انجری سے پریشان ہے، لیکن رویندرا حریف کو ہلکا لینے کے حق میں نہیں ہیں۔
انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا، “آئرلینڈ ایک ٹیسٹ کھیلنے والا ملک ہے اور ان کے پاس باصلاحیت کرکٹرز موجود ہیں۔ اگرچہ مجھے وہاں کی پچ کی صورتحال کا ابھی علم نہیں ہے، لیکن یہ انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لیے ایک بہترین تیاری ثابت ہوگی۔ حالیہ عالمی مقابلوں کو دیکھ کر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ دورِ حاضر میں آپ کسی بھی ٹیم کو آسان حریف نہیں سمجھ سکتے۔ ہمیں پوری سنجیدگی اور قوت کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا۔”
