رشبھ پنت کے لیے مشکلات: سست اوور ریٹ پر بی سی سی آئی کا ایکشن
رشبھ پنت اور لکھنؤ سپر جائنٹس: ایک مایوس کن سیزن
آئی پی ایل 2026 کا سیزن لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) اور ان کے کپتان رشبھ پنت کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں رہا ہے۔ ٹیم کی خراب کارکردگی کے بعد اب رشبھ پنت کو میدان سے باہر بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ بی سی سی آئی نے حال ہی میں چنئی سپر کنگز (CSK) کے خلاف میچ میں سست اوور ریٹ کے باعث رشبھ پنت پر سخت ایکشن لیا ہے۔
میچ کے دوران کیا غلطی ہوئی؟
ایک ٹی 20 میچ میں اننگز مکمل کرنے کے لیے مقررہ وقت تقریباً 1 گھنٹہ اور 40 منٹ ہوتا ہے، جس میں اسٹریٹجک ٹائم آؤٹ بھی شامل ہیں۔ تاہم، لکھنؤ سپر جائنٹس کی ٹیم نے سی ایس کے کے خلاف اس مقررہ وقت کی پاسداری نہیں کی۔ سی ایس کے کی اننگز شام 7:30 بجے شروع ہوئی اور اسے ختم کرنے میں پوری دو گھنٹے لگ گئے۔ اس تاخیر نے آئی پی ایل کی ٹائم ریسٹرکشن پالیسی کی خلاف ورزی کی۔
نتیجتاً، فیلڈ امپائرز نے میچ کے آخری اوور کے دوران پنت کی ٹیم کو سزا دی اور انہیں صرف چار فیلڈرز کو 30 گز کے دائرے سے باہر رکھنے کی اجازت دی گئی۔ یہ فیصلہ ٹیم کی شکست میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔
بی سی سی آئی کا جرمانہ
آئی پی ایل کوڈ آف کنڈکٹ کے آرٹیکل 2.22 کے تحت، کم از کم اوور ریٹ کے جرائم پر کپتان کو جوابدہ ٹھہرایا جاتا ہے۔ چونکہ یہ اس سیزن میں ٹیم کی پہلی خلاف ورزی تھی، اس لیے رشبھ پنت پر 12 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ بی سی سی آئی نے واضح کیا ہے کہ اگر آنے والے میچوں میں بھی یہی غفلت برتی گئی تو جرمانے کی رقم دوگنی ہو کر 24 لاکھ روپے تک پہنچ سکتی ہے۔
کپتانی اور بیٹنگ کا دباؤ
سنجیو گوئنکا کی زیر ملکیت ایل ایس جی نے رشبھ پنت کو 27 کروڑ روپے کی بھاری قیمت پر خریدا تھا، لیکن اب تک یہ سرمایہ کاری کوئی خاطر خواہ نتائج نہیں دے سکی ہے۔ پنت کی انفرادی کارکردگی پر نظر ڈالی جائے تو وہ گزشتہ دو سیزنز سے جدوجہد کرتے نظر آ رہے ہیں۔ آئی پی ایل 2025 میں 14 میچوں میں صرف 269 رنز بنانے کے بعد، اس سال بھی وہ 12 میچوں میں محض 251 رنز ہی بنا پائے ہیں۔
کپتانی کا دباؤ ان کی بیٹنگ پر واضح طور پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ ٹیم کے اندرونی حالات اور ناقص حکمت عملی کے باعث ایل ایس جی اس سیزن میں پلے آف کی دوڑ سے باہر ہونے والی پہلی ٹیم بن گئی ہے۔
مستقبل کا لائحہ عمل
لکھنؤ سپر جائنٹس کے لیے اب سوال یہ ہے کہ کیا وہ اگلے سیزن میں اپنی ٹیم کی تشکیل نو کریں گے؟ رشبھ پنت کی قیادت پر اٹھنے والے سوالات اب صرف میدان تک محدود نہیں رہے بلکہ انتظامیہ کو بھی اب بڑے فیصلے کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ ٹیم کے پاس باصلاحیت کھلاڑیوں کی کمی نہیں ہے، لیکن درست قیادت اور ڈسپلن کا فقدان انہیں بار بار پچھاڑ رہا ہے۔
آئی پی ایل جیسے بڑے ٹورنامنٹ میں وقت کی پابندی اور اصولوں کی پاسداری بہت اہم ہوتی ہے۔ رشبھ پنت کے لیے یہ ایک سبق آموز لمحہ ہے کہ ایک کپتان کو نہ صرف اپنی بیٹنگ پر توجہ دینی ہوتی ہے بلکہ پوری ٹیم کے نظم و ضبط کو بھی برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ امید ہے کہ آنے والے میچوں میں ایل ایس جی اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے بہتر کھیل پیش کرے گی۔
