News

رشبھ پنت کا عزم: آئی پی ایل 2026 میں لکھنؤ سپر جائنٹس کی مایوس کن کارکردگی کے باوجود بلند حوصلے

Priya K. Sharma · · 1 min read
Share

رشبھ پنت کا اٹوٹ اعتماد: لکھنؤ سپر جائنٹس کی جدوجہد

آئی پی ایل 2026 کے سیزن میں لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کے لیے حالات سازگار نہیں رہے، لیکن ٹیم کے کپتان رشبھ پنت کا ماننا ہے کہ شکستوں کا تسلسل ان کی ٹیم کی اصل صلاحیتوں کی عکاسی نہیں کرتا۔ 13 میچوں میں نویں شکست کے بعد پنت نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی ٹیم اب بھی ایک بہترین یونٹ ہے اور وہ اپنے آخری میچ کے لیے پوری طرح پرعزم ہیں۔

ٹیم کا حوصلہ برقرار

رشبھ پنت نے ایک انٹرویو کے دوران کہا: ‘ہم ایک بہترین ٹیم ہیں۔ سیزن میں ہماری پوزیشن جو بھی ہو، ہمیں اپنی ٹیم پر فخر ہے۔ ہمارے پاس جو کھلاڑی ہیں، ہم جانتے ہیں کہ ہم جیت سکتے ہیں۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے، بطور ٹیم اور انفرادی حیثیت سے ہم خود پر اعتماد رکھتے ہیں۔ نتائج ہمارے حق میں نہیں رہے، لیکن یہ حقیقت نہیں بدل سکتی کہ ہم ایک شاندار ٹیم ہیں۔’

کارکردگی میں تسلسل کا فقدان

لکھنؤ سپر جائنٹس کی مشکلات کی بنیادی وجہ بیٹنگ لائن کا غیر مستقل مزاج ہونا ہے۔ خود کپتان رشبھ پنت کا یہ سیزن بیٹنگ کے لحاظ سے کافی مایوس کن رہا ہے۔ ٹیم کے دیگر اہم ستون، جیسے نکولس پورن، بھی اپنی فارم کے حصول کے لیے جدوجہد کرتے دکھائی دیے۔ مچل مارش، جنہوں نے حالیہ میچوں میں سنچری اور 96 رنز کی اننگز کھیل کر واپسی کی کوشش کی، وہ بھی سیزن کے آغاز میں سست روی کا شکار تھے۔ ٹیم ڈائریکٹر ٹام موڈی نے بھی اعتراف کیا کہ مڈل آرڈر کی خراب کارکردگی پوائنٹس ٹیبل پر ٹیم کے پچھڑنے کی بڑی وجہ ہے۔

راجستھان رائلز کے خلاف مشکلات

حال ہی میں راجستھان رائلز کے خلاف میچ میں لکھنؤ کے گیند بازوں کو شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ ویبھو سوریہ ونشی (93 رنز، 38 گیندیں) اور یشسوی جیسوال (43 رنز، 23 گیندیں) نے لکھنؤ کے بالرز کو کوئی موقع نہیں دیا۔ راجستھان کے اوپنرز نے 221 رنز کے ہدف کا تعاقب انتہائی جارحانہ انداز میں کیا، جس نے لکھنؤ کی حکمت عملی کو درہم برہم کر دیا۔

پنت کا دفاعی موقف

گیند بازی کے حوالے سے ہونے والی تنقید پر پنت نے کہا کہ فلیٹ وکٹوں پر گیند بازوں کے لیے مارجن بہت کم ہوتا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بہت زیادہ تجاویز کے بجائے سادہ منصوبہ بندی اور ایک وقت میں ایک گیند پر توجہ مرکوز کرنا زیادہ موثر رہتا ہے۔ ویبھو سوریہ ونشی کی جارحانہ بیٹنگ نے پنت کو اپنے اہم سپنر شہباز احمد کا استعمال کرنے سے بھی روکے رکھا۔ پنت نے اس حوالے سے کہا: ‘بائیں ہاتھ کے بلے باز طویل عرصے سے بیٹنگ کر رہے تھے، اس لیے میں شہباز کو لانے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہتا تھا کیونکہ دگپیش رٹھی اچھی بولنگ کر رہے تھے۔’

مستقبل کی جانب نگاہ

پلے آف کی دوڑ سے باہر ہونے کے باوجود، لکھنؤ سپر جائنٹس کا مقصد اپنے آخری میچ میں پنجاب کنگز کے خلاف فتح حاصل کر کے سیزن کا اختتام وقار کے ساتھ کرنا ہے۔ رشبھ پنت کا یہ بیان ٹیم کے اندر موجود ہم آہنگی اور ڈریسنگ روم کے مثبت ماحول کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ یہ سیزن ان کے لیے ایک سبق رہا ہے، لیکن کھلاڑیوں کا آپس میں یہ اعتماد ہی انہیں آئندہ برسوں میں مضبوط واپسی کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

کرکٹ کے شائقین اب اس بات پر نظریں جمائے ہوئے ہیں کہ آیا لکھنؤ ٹیم اپنے آخری میچ میں اپنے کپتان کے اعتماد کو درست ثابت کر پاتی ہے یا نہیں۔

Priya K. Sharma

The fresh, youthful voice of Asian cricket, Priya K. Sharma focuses on backroom stories, transfer news, and rising stars. She is the author of the fan-favorite series "Beyond the Boundary," exploring the culture and socio-economic impact of the sport. With insider connections, Priya delivers exclusive interviews and breaking news on "cricket transfer rumors," "emerging talents," and "WPL updates."