Ignore his birth certificate: Gavaskar demands Team India’s debut for Sooryavans – سنیل گواسکر کا مطالبہ: ویبھو سوریہ ونشی کو فوری طور پر ٹیم انڈیا میں شامل کیا جائے
آئی پی ایل 2026 کا نیا سپر اسٹار: ویبھو سوریہ ونشی
آئی پی ایل 2026 کے موجودہ سیزن میں ایک نام جو زبانِ زدِ عام ہے، وہ ویبھو سوریہ ونشی کا ہے۔ اس نوجوان بلے باز نے ٹورنامنٹ میں اب تک 600 سے زائد رنز بنا کر اپنے ناقدین کے منہ بند کر دیے ہیں۔ ان کی جارحانہ بیٹنگ اور خوف سے عاری انداز نے نہ صرف شائقین کرکٹ کو متاثر کیا ہے بلکہ کرکٹ کے لیجنڈز کی توجہ بھی حاصل کر لی ہے۔ خاص طور پر سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف ایلیمینیٹر میچ میں محض 29 گیندوں پر 97 رنز کی اننگز نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ کھلاڑی کسی بڑے اسٹیج کے لیے تیار ہے۔
سنیل گواسکر کا دو ٹوک موقف
بھارتی کرکٹ کے لیجنڈ سنیل گواسکر کا ماننا ہے کہ ویبھو سوریہ ونشی کو اب بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھنے کی ضرورت ہے۔ گواسکر نے سلیکٹرز کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کھلاڑی کی عمر یا پیدائش کے سرٹیفکیٹ کو دیکھنے کے بجائے ان کی کارکردگی اور میدان میں دکھائی دینے والے اعتماد کو اہمیت دیں۔ گواسکر نے ‘اسپورٹس تک’ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ‘وہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ جب انگلینڈ کے دورے کے لیے ٹیم کا انتخاب ہو تو ویبھو کو اس میں شامل ہونا چاہیے۔ اگر آپ اب اسے موقع نہیں دیں گے تو کب دیں گے؟’
عمر محض ایک ہندسہ ہے
گواسکر کا کہنا ہے کہ ویبھو کی عمر کے حوالے سے خدشات بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ویبھو ایسے بولرز کے خلاف چھکے اور چوکے لگا رہے ہیں جو ان سے 15 سال بڑے اور بین الاقوامی تجربہ رکھتے ہیں۔ گواسکر نے مزید کہا کہ: ‘اس کے ذہن میں کوئی خوف نہیں ہے۔ جب آپ عمر میں بڑے ہوتے ہیں تو دفاعی انداز آپ کی بیٹنگ کا حصہ بن جاتا ہے، لیکن ویبھو کے اندر وہ بچپن کی بے خوفی برقرار ہے جو اسے ایک منفرد بلے باز بناتی ہے۔’
تکنیک اور طاقت کا حسین امتزاج
بہت سے لوگ ویبھو کو محض ایک ‘سلاگر’ سمجھتے ہیں، لیکن سنیل گواسکر اس رائے سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ ویبھو ایک بہترین ہٹر ہے، سلاگر نہیں۔ ‘وہ ایک تکنیکی کھلاڑی ہے جو سیدھے بلے (straight bat) کے ساتھ کھیلتا ہے۔ گیند کو سیدھا بولر کے سر کے اوپر سے مارنے کی اس کی صلاحیت ہی اس کی کامیابی کا راز ہے۔’
مستقبل کا لائحہ عمل
جولائی 2026 میں ٹیم انڈیا کو انگلینڈ کے خلاف اہم سیریز کھیلنی ہے۔ اگرچہ اب تک سلیکٹرز کی جانب سے ویبھو کو شامل کرنے کے حوالے سے کوئی ٹھوس اشارہ نہیں ملا، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر بھارت کو مستقبل کے لیے ایک جارحانہ اوپنر یا مڈل آرڈر بلے باز درکار ہے، تو ویبھو سوریہ ونشی سے بہتر کوئی انتخاب نہیں ہو سکتا۔ گواسکر کی اس حمایت نے سلیکٹرز پر دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ نوجوان ٹیلنٹ کو نظر انداز نہ کریں۔
کیا ویبھو ٹیم انڈیا میں جگہ بنا پائیں گے؟
آئی پی ایل میں راجستھان رائلز کے لیے کھیلتے ہوئے ویبھو نے جو میچورٹی دکھائی ہے، وہ قابل ستائش ہے۔ وہ اپنی ٹیم کو کوالیفائر 2 تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا بی سی سی آئی کے سلیکٹرز گواسکر کے مشورے پر کان دھرتے ہیں یا نہیں۔ بہر حال، ویبھو سوریہ ونشی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ بڑے مقابلوں کے کھلاڑی ہیں اور بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
