Players like Rohit, Inzamam: Vaibhav Sooryavanshi’s restricted growth in IPL concerns
کرکٹ میں آل راؤنڈ کارکردگی کا زوال
انڈین پریمیئر لیگ (IPL) کے حالیہ ایڈیشنز میں ‘امپیکٹ پلیئر’ کے قاعدے نے جہاں کھیل میں تیزی لائی ہے، وہیں ماہرین اور سابق کھلاڑیوں کی جانب سے اس کے طویل مدتی اثرات پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ سابق بھارتی بلے باز اور تجزیہ کار سنجے منجریکر کا ماننا ہے کہ یہ اصول ابھرتے ہوئے ستاروں، خاص طور پر ویبھو سوریونشی جیسے نوجوان ٹیلنٹ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔
ویبھو سوریونشی: ایک شاندار آغاز مگر نامکمل تربیت
ویبھو سوریونشی نے راجستھان رائلز کی جانب سے کھیلتے ہوئے 14 میچوں میں 583 رنز بنا کر سب کو متاثر کیا ہے، جس میں ان کا اسٹرائیک ریٹ 200 سے زائد رہا ہے۔ تاہم، منجریکر کا کہنا ہے کہ ان کی ترقی محدود ہو رہی ہے کیونکہ انہیں صرف ایک ‘امپیکٹ سب’ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ میدان میں فیلڈنگ کی مشق سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ایک کھلاڑی کی مکمل نشوونما کے لیے ضروری ہے کہ وہ کھیل کے ہر شعبے میں حصہ لے۔
روہت شرما اور انضمام الحق سے موازنہ
سنجے منجریکر نے اس بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ جب ہم ماضی کے عظیم کھلاڑیوں جیسے انضمام الحق کی بات کرتے ہیں، تو ہم صرف ان کی بیٹنگ ہی نہیں بلکہ فیلڈنگ میں ان کی شمولیت کو بھی یاد رکھتے ہیں۔ آج کل کے دور میں، منجریکر کے مطابق، کھلاڑیوں کو صرف ایک محدود کردار تک محدود کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے روہت شرما کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی کھلاڑی صرف 15 گیندیں کھیل کر پویلین لوٹ جاتا ہے اور باقی وقت آرام کرتا ہے، تو یہ طویل مدتی کامیابی کے لیے درست طریقہ کار نہیں ہے۔
امپیکٹ پلیئر اصول کا خاتمہ کیوں ضروری ہے؟
منجریکر کا موقف ہے کہ کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جو کھلاڑی کی مجموعی صلاحیتوں کا امتحان لیتا ہے۔ انہوں نے مندرجہ ذیل نکات پر زور دیا:
- آل راؤنڈ مہارت: ایک بولر کو صرف چار اوورز نہیں کروانے چاہئیں، بلکہ فیلڈنگ میں بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
- بین الاقوامی کامیابی: بھارت نے آئی پی ایل میں امپیکٹ پلیئر اصول کے بغیر دو بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اس اصول کے بغیر بھی بہترین ٹیمیں بن سکتی ہیں۔
- پیشہ ورانہ رویہ: کھلاڑیوں کو صرف ‘کیمیو’ کھیلنے کے لیے نہیں بلکہ میچ کے ہر لمحے میں فعال رہنے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔
کرکٹ کے مستقبل کے لیے خطرہ
سنجے منجریکر نے بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (BCCI) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اصول پر نظر ثانی کرے۔ اگر ویبھو سوریونشی جیسے نوجوان کھلاڑی اسی طرح صرف بیٹنگ تک محدود رہے تو ان کی فیلڈنگ کی مہارتیں کبھی بہتر نہیں ہو سکیں گی۔ منجریکر کے مطابق، کھیل کی خوبصورتی اس بات میں ہے کہ کھلاڑی خود کو ہر صورتحال میں ثابت کرے، نہ کہ کسی مخصوص رعایت کے تحت خود کو محفوظ سمجھے۔
آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کرکٹ صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں ہے بلکہ یہ کھلاڑی کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کے نکھار کا نام ہے۔ اگر ہم نے آج نوجوان کھلاڑیوں کو صرف ایک پہلو تک محدود رکھا، تو مستقبل میں ہمیں وہ مکمل آل راؤنڈرز دیکھنے کو نہیں ملیں گے جو کرکٹ کی تاریخ کی پہچان رہے ہیں۔
