Vaibhav Sooryavanshi in line for India ODI call-up for England tour: Report – ویبھو سوریاونشی: کیا 15 سالہ نوجوان کو انگلینڈ کے خلاف ون ڈے ٹیم میں موقع ملے گا؟
ویبھو سوریاونشی: کیا 15 سالہ نوجوان انگلینڈ کے خلاف ون ڈے ٹیم میں جگہ بنا پائے گا؟
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے ہر سیزن میں کوئی نہ کوئی ایسا نوجوان کھلاڑی سامنے آتا ہے جو اپنی غیر معمولی صلاحیتوں سے سب کو حیران کر دیتا ہے۔ لیکن آئی پی ایل 2026 میں راجستھان رائلز (RR) کے اوپنر ویبھو سوریاونشی نے جو کارنامہ انجام دیا ہے، اس نے ہندوستانی کرکٹ کے حلقوں میں ایک نیا طوفان کھڑا کر دیا ہے۔ صرف 15 سال کی عمر میں، ویبھو سوریاونشی نے نہ صرف اپنی جارحانہ بیٹنگ سے سب کو متاثر کیا ہے بلکہ اب وہ سینئر انڈین ٹیم میں شمولیت کے لیے بھی مضبوط امیدوار بن کر ابھرے ہیں۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، انگلینڈ کے خلاف آئندہ ون ڈے سیریز کے لیے ان کے نام پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔
مستقبل کے دورے اور ویبھو سوریاونشی کے لیے مواقع
ہندوستانی ٹیم کے لیے آنے والا وقت انتہائی مصروف اور اہم ہے۔ ٹیم انڈیا کو یکے بعد دیگرے افغانستان، آئرلینڈ اور پھر انگلینڈ کے خلاف سیریز کھیلنی ہے۔ اگرچہ ویبھو سوریاونشی کو افغانستان کے خلاف ون ڈے اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا ہے، لیکن ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ آئرلینڈ اور انگلینڈ کے خلاف سیریز کے لیے سلیکٹرز کی نظروں میں ہیں۔
توقع کی جا رہی ہے کہ آئرلینڈ کے خلاف دو میچوں کی ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیے اس ابھرتے ہوئے نوجوان بلے باز کو اسکواڈ کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستانی کرکٹ بورڈ (BCCI) انگلینڈ جیسی مضبوط ٹیم کے خلاف ون ڈے سیریز میں اس نوجوان ٹیلنٹ پر بھروسہ کرے گا؟ اس حوالے سے کچھ شکوک و شبہات ضرور موجود ہیں، لیکن ان کی حالیہ کارکردگی نے سلیکٹرز کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔
روہت جگلان کا دعویٰ اور سلیکٹرز کی مشاورت
کھیلوں کے مشہور پلیٹ فارم ‘ریو اسپورٹس’ (RevSportz) کے رپورٹر روہت جگلان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ پر ایک اہم دعویٰ کیا ہے۔ ان کے مطابق، سلیکٹرز اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ویبھو سوریاونشی کو انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے اسکواڈ میں فٹ کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔
روہت جگلان نے اپنی پوسٹ میں لکھا: “انگلینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے سوریاونشی کے نام پر بحث جاری ہے۔ اگر کسی کو بھی ان کی صلاحیتوں پر کوئی شک ہے، تو دباؤ کے وقت کھیلی گئی یہ شاندار اننگز اس کا منہ توڑ جواب ہے۔ بہت اچھا کھیلے، بیبی مونسٹر۔”
گجرات ٹائٹنز کے خلاف تاریخی اننگز اور کٹھن حالات
ویبھو سوریاونشی کی جس اننگز کی ہر طرف تعریف ہو رہی ہے، وہ انہوں نے گجرات ٹائٹنز (GT) کے خلاف ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن میچ میں کھیلی۔ یہ راجستھان رائلز کے لیے ایک ‘لازمی جیت’ والا میچ تھا، اور پچ کے حالات بالکل بھی بیٹنگ کے موافق نہیں تھے۔ پہلی اننگز میں گجرات ٹائٹنز کے تیز گیند بازوں نے پچ کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔
گجرات ٹائٹنز کے پاس کگیسو ربادا، محمد سراج، اور جیسن ہولڈر جیسے عالمی معیار کے تیز گیند باز موجود تھے، جنہیں پچ سے اضافی باؤنس مل رہا تھا۔ اس باؤنس نے ویبھو کو شروع میں ان کا قدرتی اور جارحانہ کھیل کھیلنے سے روکا۔ گجرات کے گیند بازوں نے اس نوجوان بلے باز کو رنز بنانے سے روکنے کے لیے ‘باڈی لائن’ (جسم کو نشانہ بنانے والی) حکمت عملی بھی اپنائی۔
مشکلات کا سامنا اور شاندار مزاج کا مظاہرہ
ان تمام چیلنجز اور خطرناک گیند بازی کے باوجود، 15 سالہ کھبے ہاتھ کے بلے باز نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے کریز پر جم کر بیٹنگ کی اور ناقابل یقین صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا۔ یہ ایک نادر موقع تھا جب شائقین کرکٹ کو ان کی جارحانہ بیٹنگ کے ساتھ ساتھ ان کا ٹھنڈا مزاج اور سمجھداری بھی دیکھنے کو ملی۔
جب انہوں نے پچ کے باؤنس کو اچھی طرح سمجھ لیا، تو انہوں نے ایک ایک کر کے اپنے شاٹس کھیلنا شروع کیے اور حریف گیند بازوں کے خلاف جوابی حملہ کر دیا۔ ویبھو نے اپنی اس بہترین اور متوازن اننگز کا اختتام صرف 47 گیندوں پر 96 رنز بنا کر کیا۔ ان کی اس سنسنی خیز اننگز میں 8 چوکے اور 7 فلک شگاف چھکے شامل تھے، اور ان کا اسٹرائیک ریٹ 204.26 رہا۔
میچ کا نتیجہ اور فائنل کی دوڑ
ویبھو سوریاونشی کی اس یادگار 96 رنز کی اننگز کی بدولت راجستھان رائلز نے مجموعی طور پر 214 رنز کا بڑا اسکور بورڈ پر سجایا۔ تاہم، بدقسمتی سے یہ اسکور گجرات ٹائٹنز کو روکنے کے لیے کافی ثابت نہ ہو سکا، اور وہ یہ میچ جیت کر آئی پی ایل 2026 کے فائنل میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ لیکن اس شکست کے باوجود، ویبھو سوریاونشی نے دنیا بھر کے کرکٹ ماہرین اور سلیکٹرز کے دل جیت لیے۔
انگلینڈ کا دورہ اور نوجوان کھلاڑیوں کے لیے چیلنجز
انگلینڈ کی سرزمین پر کرکٹ کھیلنا ہمیشہ سے ہی کسی بھی نئے اور نوجوان کھلاڑی کے لیے سب سے بڑا امتحان سمجھا جاتا ہے۔ وہاں کی سوئنگ ہوتی ہوئی گیندیں اور ہوا کا دباؤ اچھے اچھے تجربہ کار بلے بازوں کے لیے مشکلات پیدا کر دیتا ہے۔ ایسے میں ویبھو سوریاونشی جیسے 15 سالہ نوجوان کو ٹیم میں شامل کرنا ایک بڑا فیصلہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، جس طرح انہوں نے کگیسو ربادا اور محمد سراج جیسے تجربہ کار باؤلرز کے خلاف دباؤ کا سامنا کیا، اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ذہنی طور پر بین الاقوامی کرکٹ کے لیے تیار ہو رہے ہیں۔
اگر سلیکٹرز آنان کو موقع دینے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو یہ ہندوستانی کرکٹ کی تاریخ میں ایک تاریخی قدم ہوگا۔ ماضی میں بھی عظیم کھلاڑیوں نے بہت کم عمر میں بین الاقوامی کرکٹ میں قدم رکھا تھا اور تاریخ رقم کی تھی۔ ویبھو کی بیٹنگ تکنیک اور دباؤ کے حالات میں رنز بنانے کی صلاحیت انہیں دیگر کھلاڑیوں سے منفرد بناتی ہے۔ اب تمام نظریں سلیکشن کمیٹی کے حتمی فیصلے پر لگی ہوئی ہیں کہ آیا وہ اس نوجوان ٹیلنٹ کو انگلینڈ کے خلاف میدان میں اتارتے ہیں یا انہیں مزید پختہ ہونے کا وقت دیتے ہیں۔
