News

‘Really special’ – Yastika flourishes after her long road back – یاستیکا بھاٹیا کا جذباتی سفر اور شاندار واپسی: بھارت کی یادگار فتح

James H. Porterfield · · 1 min read
Share

مشکل حالات میں جمائمہ اور یاستیکا کی جرات مندانہ شراکت داری

چیمسفورڈ میں کھیلے گئے اس میچ میں بھارتی ٹیم کی شروعات انتہائی مایوس کن رہی۔ باقاعدہ کپتان ہرمن پریت کور کو آرام دیا گیا تھا، اور ٹیم صرف 7 رنز پر اپنے دو اہم ترین کھلاڑیوں، اسمرتی مندھانا اور شفیعہ ورما سے محروم ہو چکی تھی۔ انگلینڈ کی تیز گیند باز لارین بیل نے پہلے ہی اوور میں دوہری ضرب لگا کر بھارتی کیمپ میں کھلبلی مچا دی۔ ایسے نازک وقت پر یاستیکا بھاٹیا کا ساتھ دینے کے لیے جمائمہ روڈریگز کریز پر آئیں۔

جمائمہ نے یاستیکا کا حوصلہ بڑھایا اور ان سے کہا، “آؤ، مل کر ایک اچھی شراکت داری قائم کرتے ہیں۔” اور پھر دنیا نے ایک شاندار تال میل دیکھا۔ دونوں نے مل کر تیسری وکٹ کے لیے صرف 76 گیندوں پر 126 رنز کی ناقابل یقین شراکت قائم کی۔ جمائمہ روڈریگز نے جارحانہ انداز اپنائے رکھا اور 40 گیندوں پر 69 رنز کی بہترین اننگز کھیلی، جبکہ دوسری طرف یاستیکا نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے 40 گیندوں پر ہی 54 رنز بنائے۔ یہ جرات مندانہ شراکت داری بھارت کی 38 رنز سے فتح کی بنیاد بنی۔

گھٹنے کی سرجری سے میدان تک: یاستیکا کا جذباتی اور کٹھن سفر

یاستیکا بھاٹیا کے لیے یہ اننگز محض رنز بنانے سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی تھی۔ اکتوبر 2024 کے بعد یہ ان کا پہلا بین الاقوامی میچ تھا اور دو سال سے زائد عرصے میں ان کا پہلا ٹی20 انٹرنیشنل تھا۔ پچھلے سال ایک تربیتی کیمپ کے دوران ان کا گھٹنا شدید زخمی ہو گیا تھا، جس کے بعد انہیں اے سی ایل (ACL) سرجری کروانی پڑی۔ اس سنگین انجری کی وجہ سے وہ 50 اوورز کے ورلڈ کپ اور ویمنز پریمیئر لیگ (WPL) سے بھی باہر ہو گئی تھیں۔ بعد میں وہ ورلڈ کپ اسکواڈ کا حصہ تو بنیں لیکن کوئی میچ نہ کھیل سکیں اور پھر کلائی کی انجری کا شکار ہو گئیں۔

اپنی اس جذباتی واپسی پر گفتگو کرتے ہوئے یاستیکا نے کہا:

“یہ اننگز میرے لیے واقعی بہت خاص ہے اور میں دل سے شکر گزار ہوں۔ میں ایک طویل عرصے کے بعد ٹیم میں واپس آ رہی ہوں، اور ساتھی کھلاڑیوں نے جس طرح میرا استقبال کیا، اس نے میرا حوصلہ بڑھایا۔”

یاستیکا نے بحالی (Rehab) کے تکلیف دہ عمل کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب آپ اے سی ایل سرجری سے گزرتے ہیں، تو آپ کی ٹانگ کے تمام پٹھے (muscles) ختم ہو جاتے ہیں۔ آپ کو ہر چیز بالکل صفر سے دوبارہ بنانی پڑتی ہے۔ ان کے لیے سرجری کے بعد بحالی کے اس پورے عمل سے گزرنا ذہنی اور جسمانی طور پر انتہائی مشکل تھا۔ کچھ دن ایسے بھی آتے تھے جب انہیں کوئی بہتری نظر نہیں آتی تھی اور وہ مایوسی کا شکار ہو جاتی تھیں۔ لیکن ٹیم مینجمنٹ، اسٹاف اور خاص طور پر جمائمہ نے ان سے مسلسل رابطہ برقرار رکھا اور حوصلہ افزائی کی۔ ان سب کی مدد کے بغیر ان کی واپسی ممکن نہیں تھی۔

بھارتی اننگز کا اتار چڑھاؤ اور ہدف کا دفاع

پاور پلے کے بعد بھارت کا اسکور 2 وکٹوں کے نقصان پر 73 رنز تھا اور ایسا لگ رہا تھا کہ ٹیم ایک بہت بڑا اسکور بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ لیکن 14ویں اوور میں کہانی کا رخ بدل گیا۔ یاستیکا بھاٹیا ایک خطرناک رن لینے کی کوشش میں رن آؤٹ ہو گئیں، اور اسی اوور میں جمائمہ روڈریگز کو چارلی ڈین نے اپنی ہی گیند پر کیچ آؤٹ کر دیا۔

ان دونوں اہم وکٹوں کے گرنے کے بعد انگلینڈ کے گیند بازوں نے شاندار واپسی کی اور رن ریٹ پر قابو پا لیا۔ مڈل آرڈر میں صرف دیپتی شرما ہی دہائی کے ہندسے تک پہنچ سکیں، جس کی وجہ سے بھارتی ٹیم توقع سے کم اسکور تک محدود رہی۔ تاہم، ہرمن پریت کور کی عدم موجودگی کے باوجود ایک مسابقتی اسکور بورڈ پر سجانا بھارتی ٹیم کی بیٹنگ لائن اپ کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے، جو آئندہ ٹی20 ورلڈ کپ سے قبل ایک بہت ہی مثبت اشارہ ہے۔

نندنی شرما کا خوابوں جیسا ڈیبیو اور جذباتی لمحات

اس میچ کی ایک اور بڑی خاص بات 24 سالہ تیز گیند باز نندنی شرما کا بین الاقوامی ڈیبیو تھا۔ انہوں نے اپنے پہلے ہی میچ میں بہترین باؤلنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 34 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔ نندنی نے انگلینڈ کی مڈل آرڈر بلے باز ایمی جونز کو آؤٹ کیا، جو 67 رنز بنا کر انگلینڈ کی واحد امید بنی ہوئی تھیں۔ اس کے فوراً بعد نندنی نے ڈینی گبسن کو پویلین کی راہ دکھائی اور پھر اسی وانگ کو اپنی بہترین سلو گیند پر بولڈ کر دیا۔

نندنی شرما کی کارکردگی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے یاستیکا نے کہا کہ نندنی نے واقعی خوبصورت گیند بازی کی۔ انہوں نے اپنی طاقت یعنی سلو گیندوں کا بہترین استعمال کیا۔ اپنے ڈیبیو میچ میں اس طرح کا مظاہرہ کرنا غیر معمولی ہے۔ نندنی ویمنز پریمیئر لیگ (WPL) کی دریافت ہیں جہاں انہوں نے دہلی کیپٹلز کے لیے 17 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ جب انہیں ڈیبیو کیپ ملی تو وہ بہت جذباتی تھیں، اور پوری ٹیم ان کے لیے خوش تھی۔ یہ بھارتی کرکٹ کے لیے ایک بہترین وقت ہے کہ جو بھی نیا کھلاڑی ٹیم میں آ رہا ہے، وہ اپنا اثر چھوڑ رہا ہے۔

انگلینڈ کی حکمت عملی اور برسٹل کا چیلنج

دوسری طرف، انگلینڈ کی ٹیم کو اس شکست کے بعد دوسرے میچ میں لازمی فتح حاصل کرنی ہوگی تاکہ وہ سیریز میں برقرار رہ سکیں۔ انگلینڈ کی قائم مقام کپتان چارلی ڈین نے میچ کے بعد کہا کہ ان کا مقصد ان کھلاڑیوں کو موقع دینا تھا جو ورلڈ کپ میں ٹاپ اور مڈل آرڈر میں کھیلیں گے۔ نیٹ اسکیور برنٹ کی انجری کی وجہ سے غیر موجودگی ٹیم کے لیے ایک بڑا نقصان ہے، لیکن ٹیم انتظامیہ دیگر کھلاڑیوں کی صلاحیتوں پر بھی مکمل بھروسہ کرتی ہے۔

انگلینڈ کے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ اگلے میچ میں ڈینی وائٹ ہاج انتخاب کے لیے دستیاب ہوں گی، جبکہ بھارت کی کپتان ہرمن پریت کور بھی دوسرے میچ میں واپسی کے لیے تیار ہیں۔ دونوں ٹیموں کے درمیان اگلا مقابلہ ہفتے کے روز برسٹل میں ہوگا، جو یقیناً ایک سنسنی خیز اور سخت مقابلہ ثابت ہوگا۔

James H. Porterfield

With over 15 years of experience covering major tournaments like the IPL, The Ashes, and the World Cup, James H. Porterfield is our lead tactical writer. A former data analyst for a County Championship club, he brings a metrics-driven perspective on player form and pitch behavior. He specializes in "cricket tactics," "player form guides," and "pitch reports," helping readers understand the strategic story behind every delivery.