Latest Cricket News

محمد شامی کو نظر انداز: وسیم جعفر نے اجیت اگرکر کے انتخاب پر سخت تنقید کی | کرکٹ خبریں

David R. Finch · · 1 min read
Share

ہندوستانی کرکٹ میں ایک بار پھر سلیکشن کے حوالے سے گرما گرم بحث چھڑ گئی ہے۔ افغانستان کے خلاف آئندہ سیریز کے لیے ہندوستانی اسکواڈ کے اعلان کے بعد، سابق ہندوستانی بلے باز وسیم جعفر نے چیف سلیکٹر اجیت اگرکر کی سربراہی میں سلیکشن کمیٹی کو تیز گیند باز محمد شامی کو نظر انداز کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ جعفر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس فیصلے کو ‘بکواس’ قرار دیا اور سلیکٹرز پر دہرا معیار اپنانے کا الزام بھی لگایا۔ یہ فیصلہ کرکٹ حلقوں میں بحث کا موضوع بن چکا ہے، جہاں شامی کے مداح اور کئی سابق کرکٹرز سلیکٹرز کے اس رویے پر حیرانی کا اظہار کر رہے ہیں۔

افغانستان سیریز کے لیے اسکواڈ کا اعلان اور اہم فیصلے

منگل کو اجیت اگرکر کی سربراہی میں سلیکشن پینل نے افغانستان کے خلاف آئندہ ایک ٹیسٹ اور تین ایک روزہ میچوں کی سیریز کے لیے ہندوستانی ٹیم کا اعلان کیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی کئی غیر متوقع فیصلے بھی سامنے آئے جنہوں نے کرکٹ کے ماہرین اور شائقین کو حیران کر دیا۔ محمد شامی کو نظر انداز کرنے کے علاوہ، کئی دیگر سخت فیصلے بھی کیے گئے۔

  • روہت شرما اور ہاردک پانڈیا: دونوں کو ون ڈے اسکواڈ میں شامل کیا گیا، لیکن ان کی فٹنس کی بنیاد پر۔
  • رویندر جدیجا اور اکشر پٹیل: رویندر جدیجا کو ٹیسٹ سیریز سے آرام دیا گیا، جبکہ بظاہر انہیں ون ڈے ٹیم سے باہر کر دیا گیا۔ اکشر پٹیل کو بھی اسی طرح نظر انداز کیا گیا۔
  • جسپریت بمراہ: ملک کے اہم ترین تیز گیند باز جسپریت بمراہ کو بھی اس سیریز سے آرام دیا گیا، جو کہ ورک لوڈ مینجمنٹ کا حصہ ہو سکتا ہے۔
  • وکٹ کیپر بلے باز: رشبھ پنت کو ون ڈے اسکواڈ سے مکمل طور پر ڈراپ کر دیا گیا، اور کے ایل راہل کو ٹیسٹ ٹیم کا نائب کپتان نامزد کیا گیا۔ شبمن گل دونوں ٹیموں کے کپتان برقرار رہے۔
  • نئے چہرے: شامی کے لکھنؤ سپر جائنٹس کے ساتھی پرنس یادو کو ون ڈے اسکواڈ میں بلایا گیا، جبکہ جموں و کشمیر کے تیز گیند باز عاقب نبی کو نظر انداز کر دیا گیا۔ تیز گیند باز گرنور برار اور بائیں ہاتھ کے اسپنر ہرش دوبے کو دونوں اسکواڈز میں جگہ ملی، جبکہ ایک اور بائیں ہاتھ کے اسپنر مانو سوتار کو ٹیسٹ ٹیم میں شامل کیا گیا۔

ان تمام فیصلوں میں سب سے زیادہ حیران کن اور متنازعہ فیصلہ محمد شامی کو ٹیم سے باہر رکھنا رہا، جس پر وسیم جعفر نے فوری ردعمل دیا۔

اجیت اگرکر کا محمد شامی پر بیان

محمد شامی کو نظر انداز کرنے کے بارے میں چیئرمین آف سلیکٹرز اجیت اگرکر سے سوال کیا گیا تو انہوں نے ایک ایسا بیان دیا جس نے مزید بحث کو جنم دیا۔ اگرکر نے کہا کہ سلیکٹرز کو بتایا گیا تھا کہ شامی صرف چار اوورز فی دن باؤلنگ کرنے کے لیے فٹ ہیں۔

اگرکر نے رپورٹرز کو بتایا، “جی ہاں، میرا مطلب ہے نہیں، کیونکہ جہاں تک ہمیں بتایا گیا ہے، اس وقت ان کا جسم انہیں اس کی اجازت دے رہا ہے… میں جانتا ہوں کہ انہوں نے اس سال ڈومیسٹک سیزن کھیلا ہے، لیکن مجھے جو معلومات ملی ہیں وہ یہ ہے کہ اس وقت، آپ جانتے ہیں، T20 کرکٹ کے لیے وہ تیار ہیں۔ تو نہیں، ان کے نام کے بارے میں کوئی بحث نہیں ہوئی تھی۔”

یہ بیان شامی کے حالیہ کارکردگی کو دیکھتے ہوئے کرکٹ ماہرین کے لیے ناقابل فہم تھا، خاص طور پر جب وہ ڈومیسٹک کرکٹ میں شاندار کارکردگی دکھا رہے تھے۔

محمد شامی کی حالیہ کارکردگی اور اعداد و شمار

اجیت اگرکر کے اس بیان کے بعد، محمد شامی کی حالیہ کارکردگی پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے تاکہ صورتحال کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔ محمد شامی نے آخری بار ہندوستان کے لیے ون ڈے میچ مارچ 2025 میں کھیلا تھا اور ٹیسٹ میچ جون 2023 میں کھیلا تھا۔

حالانکہ ان کی بین الاقوامی شرکت میں کچھ وقت کا وقفہ رہا ہے، لیکن ڈومیسٹک کرکٹ میں ان کی کارکردگی شاندار رہی ہے۔ آئی پی ایل 2026 میں، انہوں نے 12 میچوں میں 10 وکٹیں حاصل کیں، ان کی باؤلنگ اوسط 41 اور اکانومی ریٹ 8.80 رہا۔ تاہم، یہ صرف ایک پہلو ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ انہوں نے رنجی ٹرافی میں بنگال کی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے شاندار کھیل پیش کیا، جہاں انہوں نے 40 سے زائد وکٹیں حاصل کیں اور اپنی ٹیم کو رنجی ٹرافی کے سیمی فائنل تک پہنچایا۔ ان کی یہ کارکردگی ایک تجربہ کار تیز گیند باز کی فٹنس اور فارم کی واضح دلیل ہے۔

وسیم جعفر کا شدید ردعمل: “یہ تو بکواس ہے”

محمد شامی کو نظر انداز کیے جانے اور اجیت اگرکر کے بیان کے بعد، سابق ہندوستانی بلے باز وسیم جعفر نے اپنے یوٹیوب چینل پر سلیکٹرز کو آڑے ہاتھوں لیا۔ جعفر نے شامی کو ان کی حالیہ ڈومیسٹک کارکردگی کے باوجود نظر انداز کرنے پر شدید تنقید کی اور ٹیم انڈیا کے لیے شامی کی ماضی کی کارکردگی کا بھی حوالہ دیا۔

جعفر نے غصے میں کہا، “یہ تو بکواس ہے (It’s rubbish)۔” انہوں نے مزید کہا کہ “ایک کھلاڑی جس نے پورے سیزن میں کارکردگی دکھائی، 40 سے زیادہ وکٹیں حاصل کیں – وہ اور کیا کر سکتا ہے؟ ہم محمد شامی کی بات کر رہے ہیں، کسی عام کھلاڑی کی نہیں۔ ایک ایسا کھلاڑی جس نے ہمیں اتنے میچز جتوائے ہیں۔ انہوں نے ہمیں 2023 ورلڈ کپ فائنل تک پہنچایا۔ یہ محمد شامی کی توہین ہے۔ آپ اسے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے اور فٹنس ثابت کرنے کا کہتے ہیں۔”

جعفر نے سلیکٹرز کے موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، “آپ دیکھتے ہیں، یہ لڑکا بہترین کارکردگی دکھا کر واپس آتا ہے، اور آپ کہتے ہیں کہ وہ صرف T20 کے لیے فٹ ہے۔ یہ محض اسے منتخب نہ کرنے کا ایک بہانہ ہے۔ اگر آپ اسے منتخب نہیں کرنا چاہتے تو واضح طور پر بتائیں – کہیں، ‘ہم نے اسے نظر انداز کر دیا ہے۔’ یہ ایک منصفانہ بیان ہوگا۔ وہ بنگال کو تنہا رنجی ٹرافی کے سیمی فائنل تک پہنچانے کے بعد آ رہے ہیں، جس طرح انہوں نے باؤلنگ کی قیادت کی۔”

ان کے الفاظ میں محمد شامی کے ساتھ ہونے والی ناانصافی اور سلیکشن کمیٹی کی بے بنیاد وضاحتوں پر شدید ناراضگی جھلک رہی تھی۔

سلیکٹرز پر دہرا معیار اپنانے کا الزام

وسیم جعفر نے سلیکٹرز پر دہرا معیار اپنانے کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ جسپریت بمراہ جیسے کھلاڑی کے ساتھ کبھی ایسا سلوک نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شامی کی خدمات اور ان کی کارکردگی کو بمراہ کے برابر دیکھا جانا چاہیے۔

جعفر نے وضاحت کی، “مثال کے طور پر، اگر بمراہ زخمی ہو کر واپس آتے ہیں تو کیا آپ ان کے ساتھ ایسا ہی سلوک کریں گے؟ محمد شامی اسی زمرے میں آتے ہیں۔ کسی بھی بین الاقوامی بلے باز سے پوچھیں، اور وہ انہیں ٹاپ پر رکھیں گے۔ یہ ان خدمات کے لیے بے عزتی ہے جو انہوں نے ہندوستان کے لیے فراہم کی ہیں۔” یہ بیان کرکٹ حلقوں میں ایک اہم سوال کھڑا کرتا ہے کہ کیا سلیکٹرز کھلاڑیوں کے ساتھ یکساں سلوک کر رہے ہیں یا بعض کھلاڑیوں کو زیادہ ترجیح دی جا رہی ہے۔ محمد شامی جیسے تجربہ کار اور میچ ونر کی خدمات کو اس طرح نظر انداز کرنا یقینی طور پر ان کے مداحوں اور کرکٹ ماہرین کے لیے باعث تشویش ہے۔

نتیجہ

محمد شامی جیسے عالمی معیار کے تیز گیند باز کو افغانستان سیریز کے اسکواڈ سے باہر کرنا ایک ایسا فیصلہ ہے جس نے نہ صرف وسیم جعفر جیسے سابق کرکٹرز بلکہ کرکٹ کے شائقین کو بھی حیران کر دیا ہے۔ سلیکٹرز کی جانب سے دی گئی “صرف T20 کے لیے فٹ” کی وضاحت شامی کی حالیہ ڈومیسٹک کارکردگی اور ماضی کی بین الاقوامی کامیابیوں کے پیش نظر غیر اطمینان بخش لگتی ہے۔ یہ واقعہ ہندوستانی کرکٹ سلیکشن میں شفافیت اور مستقل مزاجی کے بارے میں اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ امید ہے کہ سلیکٹرز مستقبل میں اپنے فیصلوں کے بارے میں مزید واضح اور قابل قبول وضاحتیں فراہم کریں گے تاکہ کھلاڑیوں اور شائقین میں اعتماد برقرار رہ سکے۔

David R. Finch

A former First-class cricketer from the Sheffield Shield, David R. Finch moved into journalism after an injury ended his playing career. Offering a dressing-room perspective, he provides sharp commentary on "team morale," "captaincy pressure," and "match-fixing scandals." He is best known for his podcast "The Long Room" and accurate match predictions based on "home/away stats" and historical data.