کیا ویرات کوہلی اور روہت شرما 2027 ورلڈ کپ کھیلیں گے؟ رکی پونٹنگ کی بڑی پیشگوئی
کرکٹ کے دو عظیم ستون: کیا کوہلی اور روہت کا سفر ابھی باقی ہے؟
کرکٹ کی دنیا میں جب بھی بات لیجنڈری کھلاڑیوں کی ہو، تو ویرات کوہلی اور روہت شرما کے نام سب سے پہلے ذہن میں آتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں سابق آسٹریلوی کپتان رکی پونٹنگ نے ان دونوں کھلاڑیوں کے بارے میں ایک اہم رائے کا اظہار کیا ہے، جس نے کرکٹ کے حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ پونٹنگ کا ماننا ہے کہ ان جیسے چیمپئن کھلاڑیوں کو وقت سے پہلے کرکٹ سے ریٹائرڈ سمجھ لینا بڑی غلطی ہوگی۔
رکی پونٹنگ کا دو ٹوک موقف
ایک انٹرویو کے دوران رکی پونٹنگ نے کہا کہ میں دیکھ سکتا ہوں کہ یہ دونوں کھلاڑی 2027 کے ورلڈ کپ تک خود کو فٹ رکھنے اور ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔ پونٹنگ کے مطابق، چیمپئن کھلاڑیوں کے بارے میں ہمیشہ یہ کہا جاتا ہے کہ انہیں کبھی بھی ختم شدہ قرار نہ دیں۔ ویرات کوہلی نے آئی پی ایل میں اپنی کارکردگی سے اس بات کو بارہا ثابت کیا ہے کہ ان کا عزم آج بھی برقرار ہے۔
فٹنس اور فارم: کامیابی کی ضمانت
اگر ہم ویرات کوہلی کی بات کریں تو انہوں نے اپنی فٹنس کے معیار کو ہمیشہ بلند رکھا ہے۔ آئی پی ایل کے حالیہ سیزن میں کوہلی نے 13 میچوں میں 542 رنز بنائے ہیں، جس میں ایک شاندار سنچری بھی شامل ہے۔ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ اگرچہ وہ اب بین الاقوامی کرکٹ میں پہلے کی طرح زیادہ مصروف نہیں ہیں، لیکن ان کی فارم اور جیتنے کی خواہش اب بھی ماند نہیں پڑی ہے۔
دوسری جانب، روہت شرما کی فٹنس پر بات کرتے ہوئے پونٹنگ نے ان کی تعریف کی اور کہا کہ روہت پچھلے 10 سے 12 سالوں کے مقابلے میں اب زیادہ بہتر جسمانی حالت میں نظر آ رہے ہیں۔ اگرچہ روہت کو ہیمسٹرنگ انجری کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے وہ آئی پی ایل کے کچھ میچ نہیں کھیل سکے، لیکن جب بھی وہ میدان میں اترے، انہوں نے اپنی کلاس دکھائی۔ 8 میچوں میں 160 کے اسٹرائیک ریٹ سے 283 رنز بنانا ان کی جارحانہ بیٹنگ کی عکاسی کرتا ہے۔
چیلنجز اور مستقبل
یہ حقیقت ہے کہ عمر ایک ایسا عنصر ہے جو کسی بھی کھلاڑی کو متاثر کر سکتا ہے، لیکن کوہلی اور روہت جیسے کھلاڑی اپنی ٹیکنالوجی اور تجربے کی بنیاد پر اپنی جگہ برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ روہت شرما، جو ون ڈے فارمیٹ میں بھارت کے تیسرے سب سے بڑے رن اسکورر ہیں، اور کوہلی جو دوسرے نمبر پر ہیں، عالمی کرکٹ کے استاد مانے جاتے ہیں۔
کیا 2027 میں یہ جوڑی ایک بار پھر نظر آئے گی؟
بھارتی کرکٹ بورڈ (BCCI) کے لیے 2027 کا ورلڈ کپ ایک بڑا ہدف ہے۔ اگر کوہلی اور روہت اپنی فٹنس برقرار رکھتے ہیں، تو ان کا تجربہ ٹیم انڈیا کے لیے انتہائی قیمتی ثابت ہوگا۔ پونٹنگ کا ماننا ہے کہ ان کی موجودہ فارم اور کھیل کے لیے لگن اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ ابھی مزید کرکٹ کھیلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
آگے بڑھتے ہوئے، یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ سلیکٹرز اور ٹیم مینجمنٹ کس طرح ان کھلاڑیوں کو مستقبل کے منصوبوں میں شامل کرتے ہیں۔ روہت شرما کی انجری کے بعد ان کی واپسی اور کوہلی کا مسلسل نظم و ضبط ان کے مداحوں کے لیے امید کی کرن ہے۔ کرکٹ شائقین کے لیے یہ یقینی طور پر ایک خوش آئند بات ہے کہ عظیم کھلاڑیوں کا اثر ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور وہ بدستور کھیل کی سطح کو بلند کر رہے ہیں۔
خلاصہ یہ کہ رکی پونٹنگ کا یہ بیان نہ صرف ان کھلاڑیوں کے لیے ایک حوصلہ افزائی ہے بلکہ یہ اس حقیقت کو بھی تسلیم کرتا ہے کہ معیار اور تجربہ ہمیشہ عمر کے اعداد و شمار پر حاوی رہتے ہیں۔ آنے والے وقت میں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا یہ دو لیجنڈز واقعی 2027 کے ورلڈ کپ کے میدان میں ایک بار پھر جلوہ گر ہوتے ہیں یا نہیں۔
