رشبھ پنت کے حادثے کا تذکرہ: سابق سلیکٹر کرن مورے کا جذباتی اور مخلصانہ بیان
رشبھ پنت کی زندگی اور کیریئر کی جدوجہد: کرن مورے کا جذباتی بیان
بھارتی کرکٹ کے اسٹار وکٹ کیپر بلے باز رشبھ پنت حالیہ دنوں میں ایک انتہائی مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ آئی پی ایل 2026 میں مایوس کن کارکردگی اور لکھنؤ سپر جائنٹس کے پلے آف میں نہ پہنچ پانے کے بعد، انہیں نہ صرف نائب کپتانی سے ہٹا دیا گیا ہے بلکہ افغانستان کے خلاف آئندہ تین میچوں کی ون ڈے سیریز سے بھی باہر کر دیا گیا ہے۔ ایسے نازک موڑ پر، جب بہت سے لوگ ان کی صلاحیتوں پر سوال اٹھا رہے ہیں، سابق بھارتی سلیکٹر اور تجربہ کار وکٹ کیپر کرن مورے رشبھ پنت کی حمایت میں کھڑے ہو گئے ہیں۔ انہوں نے پنت کے اس خوفناک کار حادثے کو یاد دلایا جس میں وہ بال بال بچے تھے، اور کہا کہ جو شخص موت کو شکست دے کر میدان میں واپس آ سکتا ہے، اس کے لیے یہ خراب فارم کوئی معنی نہیں رکھتی۔
مشکلات کا سامنا اور کپتانی سے محرومی
رشبھ پنت کے لیے آئی پی ایل کا حالیہ سیزن انتہائی مایوس کن رہا ہے، جہاں انہوں نے 13 میچوں میں صرف 286 رنز بنائے۔ ان کی قیادت میں لکھنؤ سپر جائنٹس مسلسل دوسرے سیزن میں بھی پلے آف کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکام رہی۔ اس خراب فارم کا اثر ان کے بین الاقوامی کیریئر پر بھی پڑا، جہاں انہیں افغانستان کے خلاف ون ڈے اسکواڈ سے ڈراپ کر دیا گیا اور ان کی جگہ ایشان کشن کو کے ایل راہول کے متبادل وکٹ کیپر کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔ اس سے قبل، جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں مایوس کن کارکردگی اور کلین سویپ کے بعد، پنت سے ٹیسٹ ٹیم کی نائب کپتانی بھی واپس لے کر کے ایل راہول کو سونپ دی گئی تھی۔ ان تمام واقعات نے پنت کے مداحوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
کرن مورے کا غیر متزلزل یقین اور جذباتی ردعمل
رشبھ پنت کی موجودہ صورتحال پر بات کرتے ہوئے، سابق سلیکٹر کرن مورے نے انتہائی مخلصانہ اور جذباتی انداز میں پنت کی حمایت کی۔ ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا: “نہیں، ایسی کوئی بات نہیں ہے؛ میں بالکل بھی مایوس نہیں ہوں۔ پنت ٹیم کا حصہ ہیں، اور میں اس سے بہت خوش ہوں۔ وہ ایک فائٹر ہیں، ایک ایسے کھلاڑی ہیں جن کے پاس بے پناہ ہمت اور بڑا دل ہے، اور انہوں نے ماضی میں تنہا اپنے دم پر ٹیسٹ میچز جتوائے ہیں۔ میں نے ان کے ساتھ بہت قریب سے کام کیا ہے، اور میں انہیں بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔”
مورے نے مزید کہا کہ ہر عظیم کرکٹر کی زندگی میں ایسا وقت آتا ہے جب وہ خراب فارم سے گزرتا ہے۔ انہوں نے پنت کے ماضی کے اس ہولناک حادثے کا ذکر کرتے ہوئے کہا: “جب ان کی جان بچ گئی اور وہ ٹیم میں واپس آئے، تو انہوں نے اتنی شاندار کارکردگی دکھائی۔ اس معجزاتی واپسی کے سامنے یہ موجودہ خراب فارم کچھ بھی نہیں ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ وہ ایک بار پھر زبردست اور مضبوط واپسی کریں گے۔”
ابھرتے ہوئے ستارے ویبھو سوریاونشی کی تعریف
رشبھ پنت کے ساتھ ساتھ، کرن مورے نے بھارتی کرکٹ کے ایک اور نوجوان اور باصلاحیت بائیں ہاتھ کے بلے باز، ویبھو سوریاونشی کی کارکردگی کو بھی سراہا۔ ویبھو نے آئی پی ایل میں اپنی جارحانہ بیٹنگ اور بہترین کھیل سے دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کو حیران کر دیا ہے۔ انہوں نے اس سیزن میں 13 میچوں میں 236.22 کے شاندار اسٹرائیک ریٹ کے ساتھ 579 رنز بنائے ہیں۔
ویبھو کے بارے میں بات کرتے ہوئے کرن مورے نے کہا: “وہ ایک خاص کھلاڑی ہیں، جنہیں خدا نے ایک خاص مقصد کے لیے بھیجا ہے، اور یہ بھارت کے لیے بہت خوش آئند بات ہے۔ آپ انہیں مستقبل میں بہت سے رنز بناتے ہوئے دیکھیں گے۔ یہاں تک کہ اگر وہ فوری طور پر بھارتی ٹیم میں منتخب نہیں بھی ہوتے، تب بھی وہ میرے لیے ایک انتہائی خاص کھلاڑی رہیں گے۔ ہمیں ان پر زیادہ دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے اور انہیں آزادی سے کھیلنے دینا چاہیے، کیونکہ اتنی کم عمری میں اس طرح کی کارکردگی غیر معمولی ہے۔” مورے نے خواہش ظاہر کی کہ وہ ویبھو کو بھارت کے لیے ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی، تینوں فارمیٹس میں کھیلتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔
ٹینس بال کرکٹ اور گراس روٹ لیول کی اہمیت
سابق سلیکٹر نے نوجوان ٹیلنٹ کو تلاش کرنے کے لیے ایک نئے منصوبے کا بھی آغاز کیا ہے۔ ان کی نگرانی میں ‘بیونڈ ریچ پریمیئر لیگ’ (Beyond Reach Premier League) کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جو خاص طور پر ٹینس بال کرکٹرز کے لیے ڈیزائن کی گئی ہے۔ اس لیگ کے لیے حال ہی میں ٹرائلز منعقد کیے گئے، جس میں بڑی تعداد میں نوجوانوں نے شرکت کی۔
کرن مورے نے اس اقدام کے بارے میں بتایا: “یہ ایک خاص لیگ ہے اور ہم کچھ مختلف کرنا چاہتے ہیں۔ یہ ہمارا پہلا ٹرائل تھا، اور بڑی تعداد میں لڑکے اس میں شریک ہوئے۔ ہمیں یہاں چند انتہائی دلچسپ اور باصلاحیت کھلاڑی دیکھنے کو ملے۔” ٹینس بال کرکٹ نے ہمیشہ سے بھارتی کرکٹ کو بہترین ٹیلنٹ فراہم کیا ہے۔ پرنس یادو جیسے کھلاڑی اس کی بہترین مثال ہیں، جنہوں نے ٹینس بال کرکٹ سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور بعد میں سفید گیند کی کرکٹ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے بھارتی قومی ٹیم تک رسائی حاصل کی۔
نتیجہ: رشبھ پنت کی واپسی کا انتظار
رشبھ پنت کا کیریئر ہمیشہ سے اتار چڑھاؤ اور غیر معمولی واپسیوں کی داستان رہا ہے۔ حادثے کے بعد ان کا دوبارہ میدان میں اترنا ہی کسی معجزے سے کم نہیں تھا، اور یہی وجہ ہے کہ کرکٹ برادری کو اب بھی ان کی صلاحیتوں پر پورا بھروسہ ہے۔ کرن مورے کے الفاظ اس بات کا ثبوت ہیں کہ پنت جیسے فائٹر کو کبھی بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بھارتی کرکٹ شائقین کو امید ہے کہ رشبھ جلد ہی اپنی کھوئی ہوئی فارم حاصل کر کے میدان میں چوکوں اور چھکوں کی برسات کریں گے اور ناقدین کو اپنے بلے سے جواب دیں گے۔
