IPL 2026: جیکب بیتھل کی واپسی پر مائیکل وان کا مطالبہ
آئی پی ایل 2026: جیکب بیتھل کے لیے انگلینڈ واپسی کا مطالبہ
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے جاری سیزن 2026 کے اہم مرحلے میں جہاں رائل چیلنجرز بنگلورو (RCB) پلے آف میں اپنی پوزیشن مستحکم کر چکی ہے، وہیں انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے ایک اہم بیان دے کر کرکٹ حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔ وان کا ماننا ہے کہ آر سی بی کے بلے باز جیکب بیتھل کو فوری طور پر بھارت سے انگلینڈ واپس چلے جانا چاہیے۔
انجری اور ٹیسٹ سیریز کے تقاضے
مائیکل وان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب جیکب بیتھل انگلی کی انجری کے باعث سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف اہم میچ میں حصہ نہ لے سکے۔ وان کا کہنا ہے کہ بیتھل کے لیے اب آئی پی ایل میں رکنے کے بجائے انگلینڈ واپس جانا زیادہ بہتر ہے تاکہ وہ 4 جون سے لارڈز میں شروع ہونے والی نیوزی لینڈ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے خود کو فٹ ثابت کر سکیں۔
ایک نجی اسپورٹس چینل سے گفتگو کرتے ہوئے وان نے واضح کیا کہ اگر بیتھل زخمی ہیں، تو انہیں اگلی دستیاب فلائٹ سے وطن واپس پہنچنا چاہیے۔ انگلش ٹیم کا ٹریننگ کیمپ آئندہ ہفتے شروع ہو رہا ہے، اور ٹیم انتظامیہ کو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آیا وہ ٹیسٹ میچ کے لیے دستیاب ہوں گے یا نہیں۔
آر سی بی میں بیتھل کی کارکردگی اور صورتحال
جیکب بیتھل کو آر سی بی نے 2025 میں اپنی ٹیم کا حصہ بنایا تھا۔ گزشتہ سیزن میں وہ فل سالٹ کی انجری کے بعد ٹیم میں شامل ہوئے تھے۔ اس سال بھی انہیں کچھ مواقع ملے، لیکن وہ ان کا خاطر خواہ فائدہ اٹھانے میں ناکام رہے۔ اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو بیتھل کی کارکردگی اس سیزن میں کافی مایوس کن رہی ہے۔
- کل میچز: 7
- کل رنز: 96
- اوسط: 13.71
- اسٹرائیک ریٹ: 124.67
- بہترین اسکور: 27
آر سی بی پوائنٹس ٹیبل پر سرفہرست ہے، لیکن بیتھل کی فارم ٹیم کے لیے ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ اب جبکہ فل سالٹ مکمل فٹ ہو کر واپس آ چکے ہیں، توقع کی جا رہی ہے کہ پلے آف کے اہم میچوں میں انہیں ہی ٹیم میں ترجیح دی جائے گی۔
وان کا ‘اولڈ اسکول’ مشورہ
مائیکل وان نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ آئی پی ایل کے بڑے حامی ہیں اور نوجوان کھلاڑیوں کے لیے اس پلیٹ فارم کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے کہا کہ جب ایک کھلاڑی انجری کا شکار ہو اور ٹیم کے پلان کا حصہ نہ بن پا رہا ہو، تو اسے ڈریسنگ روم میں بیٹھنے کے بجائے اپنے ملک کے کیمپ میں رپورٹ کرنا چاہیے۔
وان نے مزید کہا، ‘میں ایک پرانے اسکول سے تعلق رکھتا ہوں، شاید لوگ کہیں کہ اسے آخر تک رہنا چاہیے، لیکن اگر وہ نہیں کھیل رہا اور انگلینڈ کا ٹریننگ کیمپ شروع ہو رہا ہے، تو اسے واپس جانا چاہیے۔ برینڈن میکلم اتوار کی صبح یو کے پہنچ رہے ہیں اور پیر سے کیمپ شروع ہو رہا ہے۔ اسے وہاں اپنی ٹیم کے ساتھ ہونا چاہیے۔’
ٹیسٹ سیریز کے متبادل
اگر جیکب بیتھل انجری کے باعث لارڈز ٹیسٹ میں حصہ نہیں لے پاتے ہیں، تو انگلینڈ کے پاس متبادل کھلاڑیوں کے طور پر جیمز ریو یا جو روٹ جیسے نام موجود ہیں جو تیسرے نمبر پر بیٹنگ کی ذمہ داری سنبھال سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا کرکٹ بورڈ اور کھلاڑی خود اس مشورے پر عمل کرتے ہیں یا بیتھل پلے آف کے اختتام تک بھارت میں ہی قیام کریں گے۔
یہ صورتحال ایک بار پھر بین الاقوامی کرکٹ اور لیگ کرکٹ کے درمیان توازن قائم کرنے کی بحث کو تازہ کر دیتی ہے، جہاں کھلاڑیوں کی فٹنس اور قومی فرائض کو اولیت دینا ہمیشہ ایک اہم موضوع رہتا ہے۔
