ویبھو سوریہ ونشی: کیا وہ فیلڈنگ میں کمزور ہیں؟ راجستھان رائلز کے کوچ کا بڑا بیان
ویبھو سوریہ ونشی: ایک ابھرتا ہوا ستارہ اور فیلڈنگ کا معمہ
انڈین پریمیئر لیگ (IPL) 2025 کا سیزن بہت سے نوجوان کھلاڑیوں کے لیے امید کی کرن بن کر ابھرا ہے، اور ان میں سب سے نمایاں نام 15 سالہ ویبھو سوریہ ونشی کا ہے۔ راجستھان رائلز (RR) کی نمائندگی کرتے ہوئے اس نوجوان کھلاڑی نے اپنی شاندار بیٹنگ اور چھکے لگانے کی صلاحیت سے دنیا بھر کے کرکٹ شائقین کو اپنا دیوانہ بنا لیا ہے۔ تاہم، اس کی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ایک سوال مسلسل گردش کر رہا ہے: کیا ویبھو سوریہ ونشی ایک خراب فیلڈر ہیں؟
امپیکٹ پلیئر کے طور پر استعمال کیوں؟
اب تک کے میچوں میں راجستھان رائلز نے ویبھو کو صرف ایک ‘امپیکٹ پلیئر’ کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اس فیصلے پر سوشل میڈیا اور کرکٹ کے حلقوں میں کافی تنقید دیکھنے میں آئی ہے۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اگر وہ ٹیم کا مکمل حصہ نہیں بن رہے تو اس کی وجہ ان کی فیلڈنگ میں کمزوری ہو سکتی ہے۔ کیا واقعی ٹیم انتظامیہ ان پر فیلڈنگ میں بھروسہ نہیں کر پا رہی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب جاننا ہر کرکٹ مداح کی خواہش ہے۔
راجستھان رائلز کے کوچ کا موقف
ممبئی انڈینز کے خلاف اہم میچ سے قبل، راجستھان رائلز کے اسسٹنٹ کوچ ٹریور پینی نے ان تمام قیاس آرائیوں پر بات کی۔ پینی نے واضح کیا کہ ویبھو کے حوالے سے ٹیم کی حکمت عملی کا مقصد ان کی فیلڈنگ کی کمزوری نہیں بلکہ ان کی توانائی کو محفوظ رکھنا ہے۔
ٹریور پینی نے کہا، “ویبھو سوریہ ونشی ایک بہت ہی باصلاحیت کھلاڑی ہے۔ وہ ایک اچھا فیلڈر ہے اور ٹریننگ کے دوران بھی اس نے اپنی قابلیت ثابت کی ہے۔ جہاں تک اس کی رننگ بٹوین دی وکٹس کی بات ہے، وہ اس میں بھی بہت ماہر ہے۔”
کم عمر کھلاڑی پر دباؤ سے گریز
کوچ کا مزید کہنا تھا کہ ٹیم انتظامیہ نہیں چاہتی کہ اس 15 سالہ کھلاڑی پر ضرورت سے زیادہ بوجھ ڈالا جائے۔ پینی نے وضاحت کرتے ہوئے کہا: “ویبھو اپنی ہی ایک دنیا میں رہتا ہے۔ وہ سخت محنت کرتا ہے، کھیل کا لطف اٹھاتا ہے، اور ہم بطور انتظامیہ اس نوجوان کی مکمل دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ ہم اسے امپیکٹ پلیئر کے طور پر اس لیے استعمال کر رہے ہیں تاکہ وہ بیٹنگ کے وقت مکمل طور پر تروتازہ رہے۔”
بین الاقوامی کرکٹ اور مستقبل
ویبھو سوریہ ونشی کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے یہ خبریں بھی گرم ہیں کہ بی سی سی آئی (BCCI) جلد ہی انہیں قومی ٹیم میں شامل کرنے پر غور کر سکتا ہے۔ حال ہی میں انہیں انڈیا اے ٹیم کے اسکواڈ میں بھی شامل کیا گیا تھا۔
جب ٹریور پینی سے یہ پوچھا گیا کہ کیا 15 سال کی عمر میں انہیں بین الاقوامی کرکٹ میں جلد بازی میں شامل کرنا درست ہوگا، تو انہوں نے محتاط رویہ اختیار کیا۔ پینی نے کہا، “کیا ویبھو کو بین الاقوامی کرکٹ کے لیے فوری طور پر تیار کرنا چاہیے یا انہیں مزید پختگی حاصل کرنے کے لیے کچھ اور سیزن کھیلنے چاہئیں، یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب دینا میرے لیے مشکل ہے۔”
نتیجہ
ویبھو سوریہ ونشی بلاشبہ ایک ‘فریکش’ (غیر معمولی) ٹیلنٹ ہیں، جیسا کہ ان کے کوچ نے ذکر کیا۔ کرکٹ میں صرف بیٹنگ ہی سب کچھ نہیں ہوتی، لیکن ایک نوجوان کھلاڑی کے لیے سیکھنے کا عمل جاری رہتا ہے۔ فی الحال، راجستھان رائلز کی حکمت عملی انہیں ایک ماہر بلے باز کے طور پر تیار کرنے کی ہے، اور ان کی فیلڈنگ پر اٹھنے والے سوالات کو کوچ نے صرف ایک غلط فہمی قرار دیا ہے۔ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ کیا یہ نوجوان کھلاڑی اپنی فیلڈنگ سے بھی اسی طرح دنیا کو متاثر کر پائے گا جس طرح وہ اپنی بیٹنگ سے کر رہا ہے۔
