“Miles Ahead”: Ex-BCCI Selector claims Krunal Pandya offers more than Axar Patel – کرنل پانڈیا کا ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں واپسی کا مطالبہ: کرس سریکانت نے اکثر پٹیل سے بہتر قرار دے دیا
آر سی بی کی شاندار فتح اور کرنل پانڈیا کا جادو
آئی پی ایل 2026 کے پہلے کوالیفائر میں رائل چیلنجرز بنگلورو (RCB) نے گجرات ٹائٹنز کے خلاف جس طرح کا کھیل پیش کیا، اس نے کرکٹ کے ماہرین کو داد دینے پر مجبور کر دیا ہے۔ اس فتح میں اہم کردار ادا کرنے والے آل راؤنڈر کرنل پانڈیا پر اب بحث چھڑ گئی ہے کہ کیا انہیں ایک بار پھر ہندوستانی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ کا حصہ بننا چاہیے۔ سابق چیف سلیکٹر کرس سریکانت کا ماننا ہے کہ پانڈیا اب واپسی کے لیے بالکل تیار ہیں۔
سریکانت کا واضح موقف: اکثر پٹیل سے بہتر انتخاب
اپنے یوٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے کرس سریکانت نے کہا کہ کرنل پانڈیا کی آل راؤنڈ صلاحیتیں انہیں موجودہ ٹیم میں اکثر پٹیل کے مقابلے میں ایک بہتر انتخاب بناتی ہیں۔ سریکانت کے مطابق، گزشتہ دو آئی پی ایل سیزن میں پانڈیا کی کارکردگی کا موازنہ کیا جائے تو وہ اکثر پٹیل سے کہیں آگے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ سلیکٹرز کو اب پانڈیا، بھونیشور کمار اور رجت پاٹیدار جیسے کھلاڑیوں کو قومی ٹیم میں موقع دینے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
آر سی بی کی بیٹنگ کا طوفان
گجرات ٹائٹنز کے خلاف میچ میں آر سی بی کی بیٹنگ لائن اپ کسی رکاوٹ کو ماننے کو تیار نہیں تھی۔ وراٹ کوہلی اور دیودت پڈیکل نے شاندار شراکت داری قائم کی، جبکہ رجت پاٹیدار نے 33 گیندوں پر ناقابل شکست 93 رنز بنا کر مخالف باؤلرز کے ہوش اڑا دیے۔ سریکانت نے اس کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ آر سی بی کے بلے باز جس طرح جارحانہ انداز میں بیٹنگ کر رہے ہیں، اس سے مخالف کپتان بھی پریشان نظر آتا ہے۔
کرنل پانڈیا: ایک مکمل پیکج
اس سیزن میں کرنل پانڈیا نے خود کو ایک ‘فلوٹر’ کے طور پر ثابت کیا ہے۔ وہ نہ صرف مڈل آرڈر میں آکر تیزی سے رنز بناتے ہیں بلکہ باؤلنگ میں بھی اہم وکٹیں حاصل کر رہے ہیں۔ اعدادوشمار پر نظر ڈالیں تو پانڈیا نے اب تک 15 میچوں میں 45 کی اوسط اور 147 کے اسٹرائیک ریٹ سے 225 رنز بنائے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے 13 وکٹیں بھی حاصل کی ہیں، جو ان کی افادیت کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں۔
کیا ٹیم انڈیا کو تبدیلی کی ضرورت ہے؟
کرنل پانڈیا نے آخری بار 2021 میں ہندوستان کے لیے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں حصہ لیا تھا۔ اس کے بعد سے انہیں ٹیم سے باہر رکھا گیا ہے۔ تاہم، موجودہ فارم کو دیکھتے ہوئے سریکانت کا یہ دعویٰ بے بنیاد نہیں کہ انہیں ایک بار پھر موقع ملنا چاہیے۔ ٹیم انڈیا کو طویل عرصے سے ایک ایسے آل راؤنڈر کی تلاش ہے جو باؤلنگ کے ساتھ ساتھ بیٹنگ میں بھی گہرائی فراہم کر سکے۔
دیگر اہم کھلاڑیوں کا کردار
گجرات ٹائٹنز کے خلاف فتح میں جیکب ڈفی، بھونیشور کمار اور راسخ سلام کی باؤلنگ بھی اہم رہی، جنہوں نے گجرات کی بیٹنگ لائن اپ کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔ سائی سدرشن کا ہٹ وکٹ ہونا اس بات کی علامت تھا کہ آر سی بی کی ٹیم نفسیاتی طور پر حریف پر حاوی تھی۔ اگرچہ راہول تیوتیا نے مزاحمت کرنے کی کوشش کی، لیکن آر سی بی کے مقرر کردہ 254 رنز کے پہاڑ کے سامنے یہ کوشش ناکافی رہی۔
مختصراً، یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آر سی بی کی موجودہ فارم اور کرنل پانڈیا جیسے کھلاڑیوں کی کارکردگی سلیکٹرز کے لیے نئے دروازے کھولنے کا باعث بن سکتی ہے۔ کرس سریکانت کے تبصرے نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، اور اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا بورڈ کی جانب سے آنے والے وقت میں کوئی تبدیلی دیکھنے کو ملے گی یا نہیں۔
