Latest Cricket News

Rohit Sharma’s phone call costs Yashasvi Jaiswal ODI spot; Gautam Gambhir remove – روہت شرما کی واپسی، یشسوی جیسوال ٹیم سے باہر: گوتم گمبھیر کا بڑا فیصلہ

Priya K. Sharma · · 1 min read
Share

روہت شرما کی ٹیم میں واپسی: ایک اہم فون کال جس نے یشسوی جیسوال کا پتا کاٹ دیا

بھارتی کرکٹ میں اس وقت ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا ہے جب یہ انکشاف ہوا کہ تجربہ کار اوپنر روہت شرما کی بی سی سی آئی (BCCI) کے اعلیٰ حکام کے ساتھ آخری لمحات میں ہونے والی ایک فون کال نے نوجوان اسٹار یشسوی جیسوال کو ٹیم سے باہر کر دیا۔ رپورٹس کے مطابق، افغانستان کے خلاف آئندہ ون ڈے سیریز کے لیے یشسوی جیسوال کو ٹیم میں شامل کیا جانا تھا، لیکن روہت شرما کی ٹیم میں واپسی کی خواہش کے بعد سلیکٹرز کو اپنا فیصلہ تبدیل کرنا پڑا۔ یہ پیش رفت بھارتی کرکٹ کے مستقبل اور سینئر کھلاڑیوں کے کردار کے حوالے سے کئی سوالات کھڑے کرتی ہے۔

بھارت اور افغانستان کے مابین 13 جون 2026 سے دھرم شالہ میں تین میچوں پر مشتمل ون ڈے سیریز شروع ہونے جا رہی ہے۔ اس سیریز کے لیے روہت شرما کو اسکواڈ میں شامل تو کر لیا گیا ہے، لیکن ان کی شرکت مکمل طور پر ان کی فٹنس سے مشروط ہوگی۔ روہت شرما حالیہ آئی پی ایل 2026 (IPL 2026) کے دوران ممبئی انڈینز کے لیے کھیلتے ہوئے ہیمسٹرنگ انجری کا شکار ہوئے تھے اور انہوں نے آخری چند میچز صرف ایک “امپیکٹ پلیئر” کے طور پر کھیلے تھے۔

یشسوی جیسوال کی محرومی اور سلیکشن کا تضاد

ذرائع کے مطابق، یشسوی جیسوال کو ابتدائی طور پر سینئر ون ڈے اسکواڈ کا حصہ بنانے کا منصوبہ تھا، یہی وجہ تھی کہ انہیں سری لنکا اور افغانستان کے خلاف سہ ملکی سیریز کے لیے انڈیا اے (India A) اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ بی سی سی آئی نے 14 مئی کو انڈیا اے کے اسکواڈ کا اعلان کیا تھا، اور اس کے ٹھیک پانچ دن بعد، سلیکٹرز نے افغانستان کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے قومی ٹیم کا اعلان کیا۔

ایک باخبر ذریعے کا کہنا ہے کہ “اب ہمیں معلوم ہو چکا ہے کہ جیسوال ون ڈے اسکواڈ کا حصہ کیوں نہیں ہیں۔” روہت شرما نے سلیکٹرز کے اجلاس سے قبل بورڈ کے عہدیداروں سے رابطہ کیا اور سیریز کے لیے اپنی دستیابی کی تصدیق کی، جس کے بعد سلیکٹرز نے نوجوان جیسوال کی جگہ سینئر اوپنر کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا۔

فٹنس کے مسائل اور این سی اے کا غائب جائزہ

سلیکٹرز کے لیے روہت شرما کی فٹنس ایک بڑا معمہ بنی ہوئی تھی۔ آئی پی ایل کے دوران ہیمسٹرنگ کی انجری کی وجہ سے وہ کئی میچز نہیں کھیل سکے تھے۔ مزید برآں، انہوں نے نیشنل کرکٹ اکیڈمی (NCA) میں اپنا شیڈول فٹنس ٹیسٹ اور اسیسمنٹ بھی مکمل نہیں کیا تھا، جس کی وجہ سے سلیکٹرز ٹیم کے انتخاب کے وقت ان کی حقیقی فٹنس سے لاعلم اور تذبذب کا شکار تھے۔ تاہم، روہت کے ذاتی یقین اور ٹیم کی نمائندگی کی یقین دہانی کے بعد انہیں اسکواڈ میں شامل کر لیا گیا۔

گوتم گمبھیر کا 2027 ورلڈ کپ پلان اور روہت کا مستقبل

بھارتی ٹیم کے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر اب ٹیم کی طویل مدتی تعمیر نو پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، گمبھیر کا واضح ہدف 2027 کا آئی سی سی کرکٹ ورلڈ کپ (2027 CWC) ہے، اور ان کے اس مستقبل کے منصوبے میں روہت شرما شامل نہیں ہیں۔ کوچ کا ماننا ہے کہ ٹیم کو اب نوجوان خون کی ضرورت ہے تاکہ آنے والے میگا ایونٹ کے لیے ایک مضبوط اور متحرک ٹیم تیار کی جا سکے۔

ایک اور ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ “گوتم گمبھیر کے اس سخت موقف کے بعد، روہت شرما کو جلد ہی ون ڈے کرکٹ کو الوداع کہنا پڑ سکتا ہے۔” بی سی سی آئی نے پہلے ہی قیادت کی تبدیلی کا عمل شروع کر دیا ہے، جس کے تحت روہت شرما کی جگہ نوجوان شبمن گل کو ون ڈے فارمیٹ کا نیا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ اس حقیقت کے باوجود کیا گیا کہ روہت شرما نے بھارت کو چیمپئنز ٹرافی 2025 کا ٹائٹل جتوایا تھا۔

روہت شرما کی حالیہ فارم اور گرتی ہوئی اوسط

روہت شرما نے اپنی آخری ون ڈے سیریز رواں سال کے شروع میں نیوزی لینڈ کے خلاف ہوم گراؤنڈ پر کھیلی تھی، جہاں ان کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔ تین میچوں کی اس سیریز میں انہوں نے محض 20.33 کی اوسط سے صرف 61 رنز بنائے تھے۔ اس خراب فارم اور بڑھتی ہوئی عمر کے پیش نظر، ان کے لیے 2027 کے ورلڈ کپ تک ٹیم میں جگہ برقرار رکھنا ایک مشکل ترین چیلنج ہوگا۔ اوپننگ پوزیشن کے لیے شبمن گل، یشسوی جیسوال اور دیگر نوجوان کھلاڑیوں کی موجودگی نے مسابقت کو مزید سخت کر دیا ہے۔

بھارتی کرکٹ میں قیادت کی تبدیلی اور شبمن گل کا کردار

بی سی سی آئی کا شبمن گل کو نیا ون ڈے کپتان مقرر کرنا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ بورڈ اب مستقبل کی طرف دیکھ رہا ہے۔ روہت شرما کی قیادت میں بھارت نے کئی تاریخی کامیابیاں حاصل کیں، جن میں چیمپئنز ٹرافی 2025 کی فتح بھی شامل ہے۔ تاہم، سلیکٹرز کا خیال ہے کہ 2027 کے ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے ابھی سے ایک نوجوان قائد کو ذمہ داری سونپنا ضروری ہے۔ شبمن گل کو گوتم گمبھیر کی سرپرستی میں ایک نئی جارحانہ سوچ کے ساتھ ٹیم کو آگے لے جانا ہوگا۔ لیکن اس عبوری دور میں روہت شرما جیسے قد آور کھلاڑی کی ٹیم میں موجودگی نئے کپتان کے لیے دباؤ کا باعث بھی بن سکتی ہے اور رہنمائی کا ذریعہ بھی۔

کیا روہت شرما کا فیصلہ درست ہے؟

کرکٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ روہت شرما کا بغیر کسی لڑائی کے ہتھیار ڈالنے سے انکار ان کے مضبوط اعصاب اور کھیل سے محبت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ دباؤ کی حالت میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ لیکن دوسری طرف، یشسوی جیسوال جیسے باصلاحیت نوجوان کھلاڑی کو قربانی کا بکرا بنانا بھارتی کرکٹ کے مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ جیسوال نے مختصر وقت میں خود کو تینوں فارمیٹس میں ثابت کیا ہے، اور انہیں مستقل مواقع نہ دینا ان کی حوصلہ شکنی کا سبب بن سکتا ہے۔ گوتم گمبھیر اور بی سی سی آئی کو سینئرز کے احترام اور جونیئرز کی ترقی کے درمیان ایک نازک توازن برقرار رکھنا ہوگا، ورنہ ٹیم میں گروپ بندی اور عدم اطمینان کی فضا پیدا ہو سکتی ہے۔

روہت شرما کا شاندار کیریئر اور لڑنے کا عزم

ان تمام چیلنجز کے باوجود، روہت شرما اتنی آسانی سے ہار ماننے والے کھلاڑی نہیں ہیں۔ انہوں نے بی سی سی آئی کے سامنے واضح کیا ہے کہ وہ اب بھی بین الاقوامی سطح پر پرفارم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور وہ لڑے بغیر اپنی جگہ چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔

اگر روہت شرما کے ون ڈے کیریئر پر نظر ڈالی جائے تو وہ بلاشبہ اس فارمیٹ کے عظیم ترین کھلاڑیوں میں سے ایک ہیں:

  • کل میچز: 282
  • کل رنز: 11,577
  • بیٹنگ اوسط: 48.84
  • سنچریاں: 33 (بشمول سری لنکا کے خلاف ریکارڈ ساز 264 رنز کی اننگز)
  • نصف سنچریاں: 61

روہت شرما کا یہ شاندار ریکارڈ ان کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے، لیکن کیا ماضی کا یہ شاندار ریکارڈ انہیں مستقبل کی ٹیم میں جگہ دلانے کے لیے کافی ہوگا؟ گوتم گمبھیر کے سخت فیصلے اور نوجوان کھلاڑیوں کا دباؤ یہ ظاہر کرتا ہے کہ روہت کے لیے اب ہر ایک میچ اور ہر ایک اننگز ان کے کیریئر کے بقا کی جنگ بن چکی ہے۔ اب یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ دھرم شالہ میں افغانستان کے خلاف سیریز میں روہت شرما اپنے ناقدین کو بلے سے جواب دینے میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں۔

Priya K. Sharma

The fresh, youthful voice of Asian cricket, Priya K. Sharma focuses on backroom stories, transfer news, and rising stars. She is the author of the fan-favorite series "Beyond the Boundary," exploring the culture and socio-economic impact of the sport. With insider connections, Priya delivers exclusive interviews and breaking news on "cricket transfer rumors," "emerging talents," and "WPL updates."