کیمرون گرین پر آئی پی ایل میں ‘خود غرضانہ’ بیٹنگ کا الزام
کیمرون گرین کی بیٹنگ پر اٹھتے سوالات
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے جاری سیزن میں کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کے آسٹریلوی آل راؤنڈر کیمرون گرین اپنی کارکردگی اور بیٹنگ کے انداز کی وجہ سے سخت تنقید کا سامنا کر رہے ہیں۔ حال ہی میں رائے پور میں رائل چیلنجرز بنگلورو (آر سی بی) کے خلاف ہونے والے میچ میں ان کی سست رفتار بیٹنگ نے سابق بھارتی کپتان کرس سری کانت کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ گرین اب ٹیم کے لیے نہیں بلکہ صرف اپنے لیے کھیل رہے ہیں۔
25 کروڑ کا بھاری بوجھ اور مایوس کن کارکردگی
کیمرون گرین کو کے کے آر نے نیلامی میں 25.20 کروڑ روپے کی بھاری قیمت پر خریدا تھا، جس کے بعد وہ آئی پی ایل کی تاریخ کے مہنگے ترین غیر ملکی کھلاڑی بن گئے۔ تاہم، اس بھاری قیمت کے تناسب سے ان کی کارکردگی میں تسلسل کا فقدان نظر آیا ہے۔ آر سی بی کے خلاف میچ میں جب ٹیم کو تیز رفتاری سے رنز درکار تھے، گرین نے 24 گیندوں پر صرف 32 رنز بنائے۔ اس سست روی نے کے کے آر کے مڈل آرڈر کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔
کرس سری کانت کی سخت تنقید
اپنے یوٹیوب چینل پر تبصرہ کرتے ہوئے، کرس سری کانت نے کہا: ‘انگکریش رگھوونشی نے بہت عمدہ بیٹنگ کی، لیکن گرین نے بہت زیادہ گیندیں ضائع کیں۔ وہ ایک ایسے کھلاڑی بن گئے ہیں جو صرف اپنے لیے بیٹنگ کرتے ہیں۔ جب رگھوونشی نے ٹیم کو اتنا اچھا آغاز فراہم کیا تھا، تو گرین کو چاہیے تھا کہ وہ رفتار برقرار رکھتے، لیکن انہوں نے ٹیم کو نیچے کی طرف کھینچا۔’
سری کانت کا مزید کہنا تھا کہ اگر گرین نے ذمہ داری سے بیٹنگ کی ہوتی تو کے کے آر کا اسکور 210 تک پہنچ سکتا تھا۔ میچ کے اہم لمحات میں، خاص طور پر پانچویں سے دسویں اوور کے درمیان، گرین کی سست بیٹنگ کے کے آر کی شکست کا سبب بنی۔
آئی پی ایل 2026 میں گرین کا اب تک کا سفر
کیمرون گرین کے اعداد و شمار پر نظر ڈالی جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کی کارکردگی ان کے معاوضے کے مطابق نہیں رہی۔ 11 میچوں میں 33 کی اوسط اور 145 کے اسٹرائیک ریٹ سے 264 رنز بنانا کسی بھی بڑے کھلاڑی کے لیے معمولی بات ہے۔ صرف ایک نصف سنچری اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ بڑی اننگز کھیلنے میں ناکام رہے ہیں۔
- میچز: 11
- رنز: 264
- اوسط: 33
- اسٹرائیک ریٹ: 145
- وکٹیں: 4
- اکانومی ریٹ: 11.28
بولنگ میں بھی جدوجہد
ٹورنامنٹ کے ابتدائی دنوں میں گرین کی فٹنس اور بولنگ کی صلاحیتوں پر بہت سے سوالات اٹھائے گئے تھے۔ اب تک وہ 11 میچوں میں صرف 14 اوورز کروا سکے ہیں، جس میں 41.25 کی اوسط سے انہوں نے صرف 4 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ 11.28 کا اکانومی ریٹ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ گیند بازی میں بھی مخالف بلے بازوں کے لیے زیادہ خطرہ ثابت نہیں ہو رہے۔
نتیجہ
آر سی بی نے وراٹ کوہلی کی شاندار سنچری کی بدولت کے کے آر کے ہدف کو آسانی سے حاصل کر لیا۔ جہاں کے کے آر کے دیگر کھلاڑی جیسے رگھوونشی اور رنکو سنگھ نے لڑنے کی کوشش کی، وہیں گرین کا دفاعی انداز ٹیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔ اگر کیمرون گرین کو اپنی ساکھ برقرار رکھنی ہے تو انہیں اپنے بیٹنگ کے انداز میں جارحیت اور ٹیم کے لیے قربانی کا جذبہ دکھانا ہوگا۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا کے کے آر ٹیم انتظامیہ مستقبل کے میچوں میں گرین کی پوزیشن پر نظرثانی کرتی ہے یا نہیں۔
