ویبھو سوریا ونشی کا انڈیا اے اسکواڈ میں انتخاب: کیا سینئر ٹیم میں شمولیت اب صرف ایک قدم دور ہے؟
ویبھو سوریا ونشی: بھارتی کرکٹ کا ابھرتا ہوا ستارہ اور انڈیا اے کا چیلنج
بھارتی کرکٹ کی تاریخ میں بہت کم ایسے کھلاڑی گزرے ہیں جنہوں نے محض 15 سال کی عمر میں قومی سطح پر اتنی توجہ حاصل کی ہو جتنی ویبھو سوریا ونشی نے حاصل کر لی ہے۔ انڈر 19 کرکٹ اور انڈین پریمیئر لیگ (IPL) میں راجستھان رائلز کی نمائندگی کرتے ہوئے اس نوجوان نے اپنی جارحانہ بیٹنگ اور تکنیکی مہارت سے سلیکٹرز کو متاثر کیا ہے۔ اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ ان انڈیا (BCCI) ویبھو کو سینئر قومی ٹیم کے لیے تیار کرنا چاہتا ہے، لیکن اس کے لیے انہیں پہلے ‘انڈیا اے’ کے کڑے امتحان سے گزرنا ہوگا۔
سینئر کرکٹ کا سخت میدان اور بی سی سی آئی کی حکمت عملی
اس میں کوئی شک نہیں کہ جونیئر یا ڈومیسٹک کرکٹ اور سینئر بین الاقوامی کرکٹ کے درمیان ایک بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں کئی ایسے کھلاڑی دیکھے گئے ہیں جنہوں نے اپنی عمر کے گروپ میں تو شاندار کارکردگی دکھائی، لیکن بین الاقوامی کرکٹ کے دباؤ اور معیار کو برقرار نہ رکھ سکے۔ اسی خطرے کے پیش نظر، بی سی سی آئی ویبھو سوریا ونشی کے کیریئر کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ عجلت میں کرنے سے گریز کر رہا ہے۔ بورڈ کا مقصد انہیں مرحلہ وار ترقی دینا ہے تاکہ وہ سینئر لیول کی کرکٹ کے لیے ذہنی اور جسمانی طور پر مکمل تیار ہو سکیں۔
سری لنکا میں سہ فریقی سیریز: ویبھو سوریا ونشی کا ‘ایسڈ ٹیسٹ’
ویبھو سوریا ونشی کو براہ راست سینئر ٹیم میں شامل کرنے کے بجائے، بی سی سی آئی نے انہیں انڈیا اے کے اسکواڈ میں جگہ دی ہے جو جون میں سری لنکا اور افغانستان کی اے ٹیموں کے خلاف ایک سہ فریقی سیریز کھیلے گی۔ یہ 50 اوورز کی سیریز 9 جون سے سری لنکا میں شروع ہوگی۔ کرکٹ مبصرین اس سیریز کو ویبھو کے لیے ایک ‘ایسڈ ٹیسٹ’ قرار دے رہے ہیں۔ اگر وہ اس مشکل دورے پر اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہتے ہیں، تو سینئر ٹیم میں ان کے ڈیبیو کے امکانات مزید روشن ہو جائیں گے۔
سیریز کے فارمیٹ کے مطابق، ہر ٹیم کو فائنل تک پہنچنے کے لیے ابتدائی مرحلے میں دوسری دو ٹیموں کا دو دو بار سامنا کرنا ہوگا۔ سب سے زیادہ فتوحات حاصل کرنے والی دو ٹیمیں فائنل میں مدمقابل ہوں گی، جو کھلاڑیوں کو اپنی مستقل مزاجی ثابت کرنے کا بھرپور موقع فراہم کرے گا۔
انڈیا اے اسکواڈ کی تشکیل اور مستقبل کا وژن
بی سی سی آئی نے اس دورے کے لیے جس اسکواڈ کا انتخاب کیا ہے، وہ انتہائی دلچسپ اور مستقبل کی سوچ کا عکاس ہے۔ اسکواڈ کی اوسط عمر تقریباً 23 سال رکھی گئی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بورڈ کا ارادہ نوجوان کھلاڑیوں کی ایک ایسی کھیپ تیار کرنا ہے جو طویل عرصے تک سینئر ٹیم کی خدمت کر سکے۔ اسکواڈ میں صرف ارشد خان، یدھ ویر سنگھ اور یش ٹھاکر ہی ایسے کھلاڑی ہیں جن کی عمر 25 سال سے زیادہ ہے، جبکہ 30 سال سے زائد عمر کا کوئی بھی کھلاڑی اس گروپ میں شامل نہیں ہے۔
سلیکشن کے عمل میں نہ صرف آئی پی ایل کے حالیہ سیزن کو مدنظر رکھا گیا بلکہ وجے ہزارے ٹرافی (ون ڈے فارمیٹ) میں کھلاڑیوں کی کارکردگی کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ بورڈ صرف مختصر فارمیٹ کے ٹیلنٹ پر اکتفا نہیں کر رہا بلکہ کھلاڑیوں کی طویل فارمیٹ میں تکنیک کو بھی جانچ رہا ہے۔
انڈیا اے کا مکمل اسکواڈ
سری لنکا میں ہونے والی اس سہ فریقی سیریز کے لیے بھارت کے 15 رکنی اسکواڈ کی قیادت تلک ورما کریں گے، جبکہ ریان پراگ کو نائب کپتان مقرر کیا گیا ہے۔ اسکواڈ کی تفصیل درج ذیل ہے:
- تلک ورما (کپتان)
- پرینش آریہ
- ویبھو سوریا ونشی
- ریان پراگ (نائب کپتان)
- آیوش بدونی
- نشانت سندھو
- ہرش دوبے
- سورینش شیڈگے
- پربھسمرن سنگھ (وکٹ کیپر)
- کمار کشانگرا (وکٹ کیپر)
- وِپراج نگم
- یش ٹھاکر
- یدھ ویر سنگھ
- انشل کمبوج
- ارشد خان
وائٹ بال اور ریڈ بال کرکٹ کے چیلنجز
محدود اوورز کی اس سہ فریقی سیریز کے بعد، انڈیا اے کی ٹیم سری لنکا اے کے خلاف دو کثیر روزہ (ملٹی ڈے) میچز بھی کھیلے گی۔ بی سی سی آئی کے مطابق، ریڈ بال کرکٹ کے لیے اسکواڈ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ شیڈول کے مطابق، وائٹ بال سیریز کے میچز دمبولا میں کھیلے جائیں گے، جبکہ طویل فارمیٹ کے میچز گال کے تاریخی میدان میں منعقد ہوں گے۔
خلاصہ یہ ہے کہ ویبھو سوریا ونشی کے لیے یہ دورہ ان کے کیریئر کا اہم ترین موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر وہ سری لنکا کی کنڈیشنز میں اے ٹیم کے بہترین گیند بازوں کے خلاف رنز بنانے میں کامیاب رہتے ہیں، تو وہ بہت جلد بھارتی کرکٹ کے سب سے کم عمر ڈیبیو کرنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہو سکتے ہیں۔ اب تمام نظریں 9 جون پر جمی ہیں جب یہ نوجوان ٹیلنٹ میدان میں اترے گا۔
