ویرات کوہلی نے بھارت کے تاریخی ٹیسٹ دور پر بات کی؛ ٹیم کی شاندار کامیابی کے پیچھے اہم عنصر کا انکشاف
ویرات کوہلی، جو عالمی کرکٹ کے ایک عظیم نام ہیں، بھلے ہی اب ٹیسٹ کپتانی سے دستبردار ہو چکے ہوں، لیکن ان کے دورِ کپتانی کے یادگار لمحات آج بھی بھارتی کرکٹ شائقین کے ذہنوں میں تازہ ہیں۔ حال ہی میں، آئی پی ایل 2026 کے دوران، جہاں وہ رائل چیلنجرز بنگلور (آر سی بی) کے لیے بلے سے شاندار کارکردگی دکھا رہے ہیں، کوہلی نے اپنے بین الاقوامی کیریئر کے کچھ شاندار دنوں کو یاد کیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ آر سی بی نے آئی پی ایل 2026 کے پلے آف میں تقریباً اپنی جگہ پکی کر لی ہے، اور 400 سے زائد رنز کے ساتھ کوہلی کا اس میں کلیدی کردار رہا ہے۔ 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں کھیلنے کا عزم ظاہر کرنے کے بعد، اس دائیں ہاتھ کے بلے باز نے اپنے ٹیسٹ کپتانی کے دنوں کی طرف رخ کیا۔
ویرات کوہلی کی ٹیسٹ کپتانی کا سنہری دور
آر سی بی کے تازہ ترین پوڈکاسٹ پر بات کرتے ہوئے، ویرات کوہلی نے اپنی ٹیسٹ کپتانی کے دوران بھارتی کرکٹ ٹیم کے ڈریسنگ روم کے ماحول پر کھل کر بات کی اور وضاحت کی کہ کس طرح اس نوجوان ٹیم نے آہستہ آہستہ دنیا کی مضبوط ترین ٹیموں میں سے ایک کی شکل اختیار کی۔ ان سالوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کوہلی کافی جذباتی نظر آئے اور تسلیم کیا کہ اتنے طویل عرصے تک ٹیسٹ کرکٹ میں بھارت کی قیادت کرنا ہمیشہ ان کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابیوں میں سے ایک رہے گا۔
کوہلی نے پوڈکاسٹ پر کہا، “میں نے دراصل ان لمحات کو دیکھا ہے کہ میں اتنے طویل عرصے تک ٹیسٹ کرکٹ کھیل سکا، اور اتنے طویل عرصے تک بھارت کی قیادت کرنے کا موقع ملا، جس سے ہمیں کچھ حیرت انگیز فتوحات اور ہماری ٹیسٹ جرنی میں ایک سنہری دور دیکھنے کو ملا۔ یہ نوجوان لڑکوں کا ایک گروپ تھا جو ہمیشہ بھارت کے لیے ٹیسٹ کرکٹ کھیلنا چاہتا تھا اور انہیں ایک نوجوان گروپ کے طور پر اپنی زندگی کا موقع ملا۔” یہ الفاظ ان کے دور کی گہرائی اور اس سے ان کی جذباتی وابستگی کو بخوبی بیان کرتے ہیں۔
ٹیم کے مضبوط رشتے: کامیابی کی بنیاد
37 سالہ کوہلی نے یہ بھی بتایا کہ کس طرح نوجوان کرکٹرز کے ایک گروپ نے مل کر بھارتی ٹیسٹ کرکٹ کا چہرہ بدل دیا۔ سابق بھارتی کپتان نے وضاحت کی کہ اس بھارتی کرکٹ ٹیم کی سب سے بڑی طاقت کھلاڑیوں کے درمیان مضبوط رشتہ تھا۔ یہ تعلق محض میدان تک محدود نہیں تھا بلکہ ڈریسنگ روم میں بھی ایک گہرا اور دوستانہ ماحول پیدا کرتا تھا۔
کوئی سینئر-جونیئر ماحول نہیں
کوہلی نے نشاندہی کی کہ چیتشور پجارا، اجنکیا رہانے، روی چندرن اشون، ایشانت شرما، محمد شامی اور رویندر جڈیجا جیسے بنیادی کھلاڑیوں کے درمیان عمر کا کوئی بڑا فرق نہیں تھا۔ چونکہ سب تقریباً ایک ہی نسل سے تھے، اس لیے ڈریسنگ روم کے اندر کوئی سینئر-جونیئر ماحول نہیں تھا، اور ہر کھلاڑی نے اپنی ذمہ داری کو بخوبی نبھایا۔ یہ وہ اہم عنصر تھا جس نے ٹیم کو ایک خاندان کی طرح جوڑا۔
- مشترکہ مقصد: ہر کھلاڑی کا واحد مقصد ٹیم کو بہتر بنانا تھا۔
- ذاتی ذمہ داری: ہر رکن نے ٹیم کی بہتری کے لیے خود کو ذاتی طور پر ذمہ دار محسوس کیا۔
- برابر کا حصہ: سینئر یا جونیئر ہونے کی بجائے، سب نے محسوس کیا کہ وہ ٹیم کی کامیابی میں برابر کے حصہ دار ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ہر کھلاڑی نے ٹیم کو بہتر بنانے کے لیے ذاتی طور پر ذمہ داری محسوس کی اور اس ذہنیت نے آہستہ آہستہ بھارت کو گھر اور بیرون ملک دونوں جگہوں پر ایک خطرناک ٹیم میں تبدیل کر دیا۔ کوہلی کا ماننا تھا کہ یہ اس دور میں ٹیسٹ کرکٹ میں بھارت کی کامیابی کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک تھی۔ اس خود مختار اور ذمہ دارانہ رویے نے ٹیم کی کارکردگی کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔
ویرات کوہلی کی قیادت میں تاریخی فتوحات
آر سی بی کے آئیکن نے مزید کہا، “ہم دوستوں کے ایک گروپ کی طرح تھے۔ تو کیا ہوا کہ، ٹھیک ہے، میں قیادت کر رہا تھا، اور انتظامیہ ٹیم کو ایک خاص طریقے سے آگے لے جا رہی تھی، لیکن سب سے اہم بات یہ تھی کہ گروپ کی اوسط عمر کی وجہ سے، ہر ایک نے محسوس کیا کہ ان کی ذمہ داریاں اور ملکیت ہے۔” یہ احساسِ ملکیت ہی تھا جس نے ٹیم کو ایک یونٹ کے طور پر کام کرنے پر مجبور کیا۔
کوہلی کی کپتانی میں، بھارت نے کئی تاریخی لمحات حاصل کیے۔ سب سے بڑا لمحہ 2018-19 کے سیزن میں آیا جب بھارت نے پہلی بار آسٹریلیا میں ٹیسٹ سیریز جیتی۔ یہ ایک غیر معمولی کامیابی تھی جس نے پوری دنیا کو حیران کر دیا۔ کوہلی جنوبی افریقہ، انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں سب سے زیادہ ٹیسٹ فتوحات حاصل کرنے والے ایشیائی کپتان بھی بن گئے۔ ان فتوحات نے بھارتی کرکٹ کی عالمی ساکھ کو نئی اونچائیوں پر پہنچا دی۔
نئے انداز، نئی شناخت
ان کی کپتانی نے بیرون ملک بھارتی کرکٹ کے پورے انداز کو بدل دیا۔ بھارت نے ہر حالت میں جارحانہ انداز میں لڑنا شروع کیا۔ کوہلی کی فٹنس پر مضبوط توجہ نے بھی بھارتی ٹیم کے اندر کے پورے کلچر کو مکمل طور پر بدل دیا۔ کھلاڑیوں کی جسمانی اور ذہنی حالت میں نمایاں بہتری آئی، جس سے وہ دباؤ میں بھی بہتر کارکردگی دکھانے کے قابل ہوئے۔ انہوں نے بے خوف کرکٹ کھیلی، بیرون ملک غلبہ حاصل کیا، اور ایک جارحانہ رویہ اپنایا جس نے عالمی کرکٹ میں ٹیم کی شناخت کو مکمل طور پر بدل دیا۔
کوہلی نے اپنے الفاظ کا اختتام ان جملوں کے ساتھ کیا، “یہ ایسا نہیں تھا کہ، ہاں، یہ لوگ ٹیم کا خیال رکھیں گے اور، ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ ایسا محسوس ہوا کہ، ٹھیک ہے، ہم نوجوان ہیں، ہم اگلے چھ، سات، آٹھ سالوں کے لیے یہ ٹیم بنانا چاہتے ہیں۔ میں ٹیم کو بہتر بنانے کے لیے کیا کر سکتا ہوں؟ تو لوگوں نے خود سے سوال پوچھنا شروع کر دیے۔” یہ خود احتسابی کا عمل ہی تھا جس نے ٹیم کو مسلسل ترقی کی راہ پر گامزن رکھا اور اسے ایک ناقابل شکست قوت میں بدل دیا۔ ویرات کوہلی کا دور صرف فتوحات کا دور نہیں تھا بلکہ ایک ایسی ٹیم کی تعمیر کا دور تھا جس نے ہر کھلاڑی کو اپنی ذمہ داری اور ملکیت کا احساس دلایا، اور یہی حقیقی کامیابی تھی۔
