بی سی سی آئی کا آئی پی ایل میں کھلاڑیوں کے ورک لوڈ میں مداخلت سے انکار
آئی پی ایل میں کھلاڑیوں کی فٹنس کا بحران اور بی سی سی آئی کا موقف
انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے دوران کھلاڑیوں کی فٹنس اور ان کے ورک لوڈ کو لے کر جاری بحث میں نیا موڑ آ گیا ہے۔ بی سی سی آئی کے سیکرٹری دیواجیت سائیکا نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ بورڈ آئی پی ایل کے دوران فرنچائزز کے کام میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کئی کھلاڑی انجری کے باوجود میدان میں اتر رہے ہیں، جس سے قومی ٹیم کے مستقبل پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ورون چکرورتی کا معاملہ اور تشویش
کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) کے اسپنر ورون چکرورتی اس وقت بحث کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ پاؤں کے انگوٹھے میں فریکچر کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ ورون کو یہ انجری 3 مئی کو سن رائزرز حیدرآباد کے خلاف میچ کے دوران ہوئی تھی، جس میں وہ ‘پلیئر آف دی میچ’ بھی قرار پائے تھے۔ اس کے بعد سے انہیں لنگڑاتے ہوئے دیکھا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مکمل طور پر فٹ نہیں ہیں۔
دیگر کھلاڑی اور فٹنس کے مسائل
ورون چکرورتی واحد مثال نہیں ہیں۔ پنجاب کنگز کے ہیڈ آف اسپورٹس سائنس، اینڈریو لیپس نے بھی ارشدیپ سنگھ کی کارکردگی میں اتار چڑھاؤ کی وجہ ان کی جسمانی پابندیوں کو قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ، ممبئی انڈینز کے ہیڈ کوچ مہیلا جے وردھنے نے بھی انکشاف کیا تھا کہ جسپریت بمراہ ٹی 20 ورلڈ کپ سے چلی آ رہی معمولی انجری کے باوجود آئی پی ایل میں کھیل رہے ہیں۔
بی سی سی آئی کا واضح پیغام
دیواجیت سائیکا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ‘ہم کھلاڑیوں کے ورک لوڈ اور فٹنس کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر کے فرنچائزز کے کام میں مداخلت نہیں کر سکتے۔’ انہوں نے مزید وضاحت کی کہ آئی پی ایل کے دوران کھلاڑیوں کی ذمہ داری فرنچائزز پر ہوتی ہے۔ اگرچہ سینٹر آف ایکسیلنس (CoE) مرکزی معاہدہ شدہ کھلاڑیوں کی نگرانی کرتا ہے، لیکن آئی پی ایل کے دوران بورڈ کے پاس مداخلت کے اختیارات محدود ہیں۔
قومی انتخاب کے لیے فٹنس اولین ترجیح
سائیکا نے یقین دہانی کرائی کہ جب بات قومی ٹیم کی ہوتی ہے، تو بی سی سی آئی سخت مؤقف اپناتا ہے۔ حالیہ ٹیم کے انتخاب سے یہ واضح ہوتا ہے کہ فٹنس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا رہا۔ رویندرا جڈیجہ کا آئی پی ایل کے میچوں سے باہر رہنا اور ان کی قومی ٹیم سے عدم شمولیت اس کی ایک مثال ہے۔ اسی طرح محمد شامی کو بھی اس بنیاد پر ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا کہ وہ طویل دورانیے کی بولنگ کے لیے پوری طرح فٹ نہیں تھے۔
نتیجہ
یہ صورتحال کرکٹ کے شائقین اور ماہرین کے لیے باعث تشویش ہے۔ ایک طرف فرنچائزز اپنی کامیابی کے لیے کھلاڑیوں پر انحصار کرتی ہیں، تو دوسری طرف کھلاڑیوں کی طویل مدتی صحت قومی ٹیم کے لیے اہم ہے۔ بی سی سی آئی کا یہ دوٹوک موقف بتاتا ہے کہ آئی پی ایل کے دوران فرنچائزز کو خودمختاری حاصل ہے، تاہم کھلاڑیوں کو اپنی فٹنس کے حوالے سے محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ مستقبل میں ایسے واقعات کے بعد ورک لوڈ مینجمنٹ کے مزید سخت پروٹوکولز کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے تاکہ اہم کھلاڑیوں کو سنگین انجریز سے بچایا جا سکے۔
