Latest Cricket News

محمد شامی چیک باؤنس کیس میں بری، کرکٹ کیریئر اور واپسی پر بڑی اپڈیٹ

Priya K. Sharma · · 1 min read
Share

محمد شامی کو چیک باؤنس کیس میں بڑی کامیابی: کولکتہ عدالت نے بری کر دیا

بھارتی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز اور تجربہ کار فاسٹ بولر محمد شامی کے لیے ایک بڑی قانونی راحت سامنے آئی ہے۔ کولکتہ کی علی پور عدالت نے شامی کو ان کی ناراض اہلیہ حسیں جہاں کی جانب سے دائر کردہ 1 لاکھ روپے کے چیک باؤنس کیس میں مکمل طور پر بری کر دیا ہے۔ یہ قانونی تنازع گزشتہ چار سالوں سے عدالت میں زیر سماعت تھا، جس کا فیصلہ اب شامی کے حق میں آیا ہے۔

بھارتی کرکٹرز کی ذاتی زندگیاں ہمیشہ سے میڈیا اور مداحوں کی توجہ کا مرکز رہی ہیں، اور محمد شامی بھی اس سے مستثنیٰ نہیں رہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران شامی کو شدید ذاتی اور خاندانی مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کی وجہ سے ان کا کرکٹ کیریئر بھی متاثر ہوا۔ تاہم، اس حالیہ عدالتی فیصلے نے انہیں ایک بڑی ذہنی فکر سے نجات دلا دی ہے۔

چار سالہ طویل قانونی جنگ کا اختتام

تفصیلات کے مطابق، علی پور کی چیف جوڈیشل مجسٹریٹ عدالت نے بدھ کے روز اس مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے محمد شامی پر عائد تمام الزامات کو خارج کر دیا۔ یہ کیس حسیں جہاں نے سال 2022 میں درج کروایا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ شامی کی جانب سے دیا گیا 1 لاکھ روپے کا چیک باؤنس ہو گیا تھا۔

یہ مقدمہ دراصل ایک طویل قانونی جنگ کا حصہ تھا جس نے شامی کو ذہنی طور پر کافی پریشان کیے رکھا۔ عدالت کے اس فیصلے سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ان پر لگائے گئے الزامات میں صداقت نہیں تھی۔ چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے اور تمام شواہد کا باریک بینی سے جائزہ لینے کے بعد شامی کو بری کرنے کا حکم صادر کیا۔ اس فیصلے سے شامی کے حامیوں اور کرکٹ کے حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ اب وہ بغیر کسی ذہنی دباؤ کے اپنے کھیل پر توجہ دے سکتے ہیں۔

محمد شامی کے وکیل سلیم رحمان نے خبر رساں ادارے آئی اے این ایس (IANS) سے گفتگو کرتے ہوئے اس فیصلے کی تصدیق کی اور بتایا: “کرکٹر محمد شامی کو ان کی اہلیہ کی جانب سے دائر کیے گئے چار سال پرانے چیک باؤنس کیس میں عدالت نے بری کر دیا ہے۔”

عدالتی نظام پر محمد شامی کا ردعمل اور اعتماد

اس اہم عدالتی کامیابی کے بعد محمد شامی نے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہیں ہمیشہ سے ملک کے عدالتی نظام پر پورا بھروسہ تھا اور وہ جانتے تھے کہ سچائی کی جیت ہوگی۔

شامی نے کہا: “مجھے ہمیشہ یقین تھا کہ فیصلہ میرے حق میں آئے گا۔ میں نے وہ تمام واجب الادا رقم ادا کر دی تھی جو مجھ پر لازم تھی۔ میدان کے اندر ہو یا میدان سے باہر، میں ہمیشہ ہر صورتحال کو اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق سنبھالنے کی کوشش کرتا ہوں۔”

حسیں جہاں کے ساتھ دیگر قانونی تنازعات کی تاریخ

چیک باؤنس کا یہ معاملہ محمد شامی کی زندگی کا واحد قانونی مسئلہ نہیں تھا۔ سال 2018 سے حسیں جہاں نے شامی اور ان کے خاندان کے خلاف متعدد مقدمات درج کروا رکھے ہیں، جن میں گھریلو تشدد اور مناسب مالی امداد نہ فراہم کرنے جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔

حسیں جہاں نے اپنی بیٹی کی پرورش اور اخراجات کے لیے علیحدہ سے بھاری گزارہ الاؤنس (Alimony) کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ تاہم، کلکتہ ہائی کورٹ نے اس مطالبے کو غیر معقول قرار دیا تھا کیونکہ محمد شامی پہلے ہی اپنی سابقہ اہلیہ اور بیٹی کی دیکھ بھال کے لیے بالترتیب 1.5 لاکھ اور 2.5 لاکھ روپے ماہانہ ادا کر رہے ہیں۔

محمد شامی کا کرکٹ کیریئر اور مستقبل کی امیدیں

ذاتی زندگی کے ان تمام تر طوفانوں کے باوجود، محمد شامی نے میدانِ کرکٹ میں ہمیشہ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ آئی سی سی ٹورنامنٹس میں بھارت کی جانب سے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے گیند باز بن چکے ہیں۔ ان کی سوئنگ اور بہترین لائن و لینتھ نے دنیا بھر کے بلے بازوں کو پریشان کیا ہے۔

محمد شامی کو ہندوستانی کرکٹ کی تاریخ کے بہترین فاسٹ بولرز میں شمار کیا جاتا ہے۔ خاص طور پر آئی سی سی کے بڑے ایونٹس جیسے کہ ورلڈ کپ اور چیمپئنز ٹرافی میں ان کا ریکارڈ بے مثال رہا ہے۔ انہوں نے نازک مواقع پر ہمیشہ بھارت کے لیے اہم وکٹیں حاصل کیں اور ٹیم کو فتوحات سے ہمکنار کروایا۔ تاہم، گزشتہ کچھ عرصے سے انجریز نے ان کے کیریئر کو بریک لگا رکھا تھا، جس کی وجہ سے وہ تسلسل کے ساتھ بین الاقوامی میچز نہیں کھیل پا رہے تھے۔ فٹنس کے مسائل پر قابو پانے کے لیے شامی نے انتھک محنت کی ہے اور ان کی حالیہ ڈومیسٹک کارکردگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کے اندر اب بھی بہت کرکٹ باقی ہے۔

تاہم، حالیہ دنوں میں شامی کا بین الاقوامی کیریئر انجری (زخمی ہونے) کے مسائل کا شکار رہا ہے۔ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی 2025 کے بعد سے، جہاں وہ مشترکہ طور پر سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے کھلاڑی رہے تھے، وہ ہندوستانی ٹیم میں جگہ بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ سال 2025 کے اوائل میں فٹنس مسائل ان کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ثابت ہوئے، لیکن انہوں نے ڈومیسٹک کرکٹ میں واپسی کر کے اپنی فٹنس اور فارم کا بہترین ثبوت دیا ہے۔

ڈومیسٹک کرکٹ اور آئی پی ایل میں شاندار کارکردگی

اپنی فارم کو بحال کرنے کے لیے محمد شامی نے ڈومیسٹک کرکٹ کا رخ کیا جہاں ان کی شاندار بولنگ نے سلیکٹرز کی توجہ حاصل کی۔ اس کے علاوہ، انڈین پریمیئر لیگ (IPL) میں انہوں نے لکھنؤ سپر جائنٹس کی نمائندگی کرتے ہوئے نئی گیند کے ساتھ شاندار اسپیل پھینکے اور اپنی وکٹیں لینے کی صلاحیت کو برقرار رکھا۔

اگرچہ شامی نے اپنی بہترین فٹنس اور بولنگ فارم کا مظاہرہ کیا ہے، لیکن اس کے باوجود انہیں افغانستان کے خلاف آنے والی سیریز کے لیے بھارتی اسکواڈ میں شامل نہیں کیا گیا۔ تاہم، مایہ ناز پیسر نے ہمت نہیں ہاری اور وہ قومی ٹیم میں دوبارہ شاندار واپسی کے لیے پرعزم ہیں۔ قانونی مسائل سے نجات ملنے کے بعد اب شامی اپنی پوری توجہ صرف اور صرف کرکٹ اور اپنی فٹنس پر مرکوز کر سکیں گے، جو کہ بھارتی کرکٹ کے مداحوں کے لیے ایک انتہائی خوش آئند بات ہے۔

Priya K. Sharma

The fresh, youthful voice of Asian cricket, Priya K. Sharma focuses on backroom stories, transfer news, and rising stars. She is the author of the fan-favorite series "Beyond the Boundary," exploring the culture and socio-economic impact of the sport. With insider connections, Priya delivers exclusive interviews and breaking news on "cricket transfer rumors," "emerging talents," and "WPL updates."