روہت شرما اور ویرات کوہلی کے لیے فٹنس وارننگ: اجیت اگرکر کا سخت پیغام
بھارتی کرکٹ میں فٹنس کا نیا معیار: اجیت اگرکر کا دو ٹوک پیغام
بھارتی کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر اجیت اگرکر کی سربراہی میں سلیکشن کمیٹی جلد ہی ایک اہم اجلاس منعقد کرنے والی ہے، جس میں افغانستان کے خلاف ہونے والی ون ڈے سیریز کے لیے ٹیم کا انتخاب کیا جائے گا۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد نہ صرف آئندہ سیریز کے لیے بہترین کھلاڑیوں کا انتخاب ہے بلکہ 2027 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے لیے ایک جامع اور طویل مدتی حکمت عملی تیار کرنا بھی ہے۔ اس حکمت عملی کے مرکز میں بھارت کے دو لیجنڈری بلے باز، روہت شرما اور ویرات کوہلی ہیں، جن کے مستقبل کے حوالے سے کمیٹی اہم فیصلے کرے گی۔
افغانستان کے خلاف سیریز کا شیڈول اور قیادت
بھارت اور افغانستان کے درمیان کرکٹ کے ایک مصروف سیزن کا آغاز ہونے والا ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان ایک واحد ٹیسٹ میچ 6 جون کو ملان پور میں شروع ہوگا۔ اس کے فوری بعد، تین میچوں پر مشتمل ون ڈے سیریز کا آغاز ہوگا جس میں ٹیم کی قیادت کے لیے شبمن گل کا نام سب سے نمایاں ہے۔ ون ڈے سیریز کا پہلا میچ 14 جون کو دھرم شالہ میں، دوسرا 17 جون کو لکھنؤ میں اور تیسرا 20 جون کو چنئی میں کھیلا جائے گا۔ یہ سیریز نوجوان کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ سینئر کھلاڑیوں کے لیے بھی خود کو ثابت کرنے کا ایک بڑا موقع ہے۔
2027 ورلڈ کپ: فٹنس پر کوئی سمجھوتہ نہیں
ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق، سلیکشن کمیٹی 2027 کے ورلڈ کپ کے لیے کھلاڑیوں کے پول کی تیاری کے دوران صرف دو چیزوں پر توجہ مرکوز کرے گی: فٹنس اور موجودہ فارم۔ سلیکٹرز کا ارادہ ہے کہ روہت شرما اور ویرات کوہلی کے مستقبل کے حوالے سے جاری قیاس آرائیوں کو ختم کیا جائے۔ کمیٹی نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ وہ فٹنس کے تقاضوں پر ذرہ برابر بھی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ ہر آنے والا میچ مینجمنٹ کو ورلڈ کپ کے لیے بہترین امتزاج کو حتمی شکل دینے میں مدد دے گا، اور کھلاڑیوں کو اسکواڈ میں اپنی جگہ برقرار رکھنے کے لیے مستقل کارکردگی دکھانی ہوگی۔
روہت شرما: انجری کے مسائل اور کارکردگی کا چیلنج
بھارتی کپتان روہت شرما کو حال ہی میں ہیمسٹرنگ کی انجری کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کی وجہ سے وہ ممبئی انڈینز کے کئی میچوں سے باہر رہے۔ آئی پی ایل کے دوران بھی وہ اکثر ‘امپیکٹ پلیئر’ کے طور پر ہی نظر آئے، جس سے ان کی مکمل فٹنس پر سوالات کھڑے ہوئے ہیں۔ سلیکٹرز انہیں اسکواڈ میں صرف اسی صورت میں شامل کرنے پر غور کریں گے جب وہ 100 اوور کے کرکٹ کے جسمانی تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے مکمل طور پر فٹ ہوں گے۔
روہت شرما کی حالیہ فارم بھی سلیکٹرز کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ نیوزی لینڈ کے خلاف حالیہ ون ڈے سیریز میں ان کی اوسط صرف 20.33 رہی۔ اگرچہ روہت شرما بھارت کے عظیم ترین ون ڈے بلے بازوں میں سے ایک ہیں، جنہوں نے 282 میچوں میں 48.85 کی اوسط سے 11,577 رنز بنائے ہیں جن میں 33 سنچریاں شامل ہیں، لیکن 2027 کے ورلڈ کپ تک ان کی 40 سالہ عمر ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔
ویرات کوہلی: رنز کی مشین اور بہترین فارم
دوسری جانب، ویرات کوہلی نے آئی پی ایل 2026 کے سیزن میں اپنی شاندار فارم کو جاری رکھا ہے۔ ان کی حالیہ کارکردگی نے افغانستان کے خلاف تینوں ون ڈے میچوں کے لیے ان کی جگہ کو یقینی بنا دیا ہے۔ کوہلی بھارت کے سب سے قابل اعتماد ون ڈے بلے باز بنے ہوئے ہیں۔ نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز میں ان کی اوسط 80 اور اسٹرائیک ریٹ 105 سے زیادہ رہا۔
ویرات کوہلی کے اعداد و شمار ان کی عظمت کی گواہی دیتے ہیں۔ انہوں نے 311 ون ڈے میچوں میں 58.72 کی اوسط سے 14,797 رنز بنائے ہیں، جس میں ریکارڈ ساز 54 سنچریاں شامل ہیں۔ 2023 کے ورلڈ کپ کے دوران انہوں نے سچن ٹنڈولکر کا سب سے زیادہ ون ڈے سنچریوں کا ریکارڈ توڑ کر کرکٹ کی تاریخ میں اپنا نام سنہری حروف میں درج کرایا تھا۔ تاہم، 2027 کے ورلڈ کپ کے وقت وہ بھی 38 سال کے ہوں گے، جو سلیکشن کمیٹی کے لیے ایک اہم بحث کا نکتہ ہے۔
مستقبل کی منصوبہ بندی: تجربہ بمقابلہ نوجوان خون
روہت شرما اور ویرات کوہلی دونوں نے ٹیسٹ اور ٹی 20 فارمیٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد اب اپنی پوری توجہ صرف ون ڈے کرکٹ پر مرکوز کر رکھی ہے۔ سلیکشن کمیٹی کا ماننا ہے کہ اگرچہ دونوں کھلاڑی اب بھی ون ڈے کرکٹ میں مضبوط فارم دکھا رہے ہیں، لیکن 2027 تک ان کی بڑھتی ہوئی عمر کے پیش نظر ان کے کردار پر دوبارہ غور کرنا ضروری ہے۔ بھارتی کرکٹ مینجمنٹ اب انفرادی ریکارڈز کے بجائے ٹیم کی طویل مدتی ضرورتوں اور کھلاڑیوں کی جسمانی استعداد کو ترجیح دے رہی ہے۔
خلاصہ
اجیت اگرکر کی قیادت میں یہ نئی پالیسی بھارتی کرکٹ میں ایک واضح پیغام ہے کہ نام سے زیادہ کارکردگی اور فٹنس اہمیت رکھتی ہے۔ روہت شرما کو اپنی فٹنس ثابت کرنے کے لیے سخت محنت کرنی ہوگی، جبکہ ویرات کوہلی کو اپنی رنز بنانے کی رفتار کو برقرار رکھنا ہوگا۔ افغانستان کے خلاف سیریز ان دونوں ستاروں کے مستقبل کی سمت متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
