رُتوراج گائیکواڈ کا مایوس کن ریکارڈ: دھونی اور روہت کی صف میں شامل
آئی پی ایل 2026: رُتوراج گائیکواڈ کی مشکل اننگز
چنئی سپر کنگز (CSK) کے کپتان رُتوراج گائیکواڈ کے لیے سن رائزرز حیدرآباد (SRH) کے خلاف چیپاک اسٹیڈیم میں کھیلا گیا میچ کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں تھا۔ آئی پی ایل 2026 کے اس سیزن میں یہ چنئی کا آخری ہوم میچ تھا، جہاں مداحوں کو اپنی ٹیم اور خاص طور پر کپتان سے ایک شاندار کارکردگی کی توقع تھی۔ تاہم، گائیکواڈ کی بلے بازی توقعات کے بالکل برعکس رہی۔
سست بیٹنگ اور ریکارڈ کا بوجھ
آئی پی ایل 2026 کا سیزن رُتوراج گائیکواڈ کے لیے اتار چڑھاؤ کا شکار رہا ہے۔ کئی مواقع پر ان کی فارم اور اسٹرائیک ریٹ پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ حیدرآباد کے خلاف میچ میں، جب ٹیم کو ایک جارحانہ آغاز کی ضرورت تھی، گائیکواڈ پیٹ کمنز کی قیادت میں بولنگ اٹیک کے سامنے بری طرح ناکام نظر آئے۔ انہوں نے 21 گیندوں کا سامنا کیا اور صرف 15 رنز بنا سکے۔ اس اننگز کا اسٹرائیک ریٹ 71.43 رہا، جو موجودہ آئی پی ایل سیزن کی سست ترین اننگز میں سے ایک ہے۔
سب سے زیادہ مایوس کن بات یہ رہی کہ اپنی اس اننگز کے دوران گائیکواڈ ایک بھی چوکا یا چھکا لگانے میں ناکام رہے۔ اس ‘بغیر باؤنڈری’ والی اننگز کے باعث وہ ایک ایسی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں جس میں کوئی بھی بلے باز شامل ہونا پسند نہیں کرتا۔
لیجنڈز کی صف میں شمولیت
کرکٹ کی تاریخ میں جہاں دھواں دار بیٹنگ کے ریکارڈز موجود ہیں، وہیں کچھ ایسی اننگز بھی ہیں جو اپنی سست روی کی وجہ سے یاد رکھی جاتی ہیں۔ رُتوراج گائیکواڈ اب ان کھلاڑیوں کی فہرست میں 8ویں نمبر پر آ گئے ہیں جنہوں نے آئی پی ایل کی ایک اننگز میں سب سے زیادہ گیندیں کھیل کر بھی ایک بھی باؤنڈری نہیں لگائی۔
- اسٹیو اسمتھ: آسٹریلوی اسٹار نے ماضی میں 39 گیندوں پر 34 رنز بنائے تھے لیکن کوئی باؤنڈری نہیں لگی تھی۔
- ایم ایس دھونی: سابق کپتان دھونی بھی اس فہرست میں چار مختلف اننگز کے ساتھ موجود ہیں۔
- روہت شرما: ‘ہٹ مین’ کے نام سے مشہور روہت شرما کا اس فہرست میں ہونا شائقین کے لیے حیران کن رہا ہے۔
میچ کا مجموعی منظرنامہ
بارہویں اوور میں پیٹ کمنز نے رُتوراج گائیکواڈ کو آؤٹ کر کے ٹیم کو ایک بڑا جھٹکا دیا۔ اس وقت ٹیم کا اسکور صرف 100 رنز تھا۔ گائیکواڈ کے آؤٹ ہونے کے بعد ڈیوالڈ بریوس (44 رنز، 27 گیندیں) اور کارتک شرما (32 رنز، 19 گیندیں) کی بدولت چنئی سپر کنگز 180 رنز تک پہنچنے میں کامیاب رہی۔
یہ ریکارڈ گائیکواڈ کے لیے اس وقت سامنے آیا جب ٹیم کو ٹورنامنٹ میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے 2 اہم پوائنٹس کی اشد ضرورت تھی۔ آئی پی ایل جیسے تیز رفتار فارمیٹ میں، کپتان سے بہتر کارکردگی کی توقع کی جاتی ہے، اور آنے والے میچوں میں رُتوراج کو اپنی تکنیک اور اسٹرائیک ریٹ پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہوگی تاکہ وہ ٹیم کو فتح سے ہمکنار کر سکیں۔
کرکٹ کے مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر رُتوراج گائیکواڈ اپنی اس کمزوری پر قابو پا لیتے ہیں تو وہ یقیناً اپنی فارم میں واپس آ سکتے ہیں، لیکن فی الحال، یہ اننگز ان کے کیریئر کا ایک تلخ باب بن کر رہے گی۔
