سنیل گواسکر کا آکاش سنگھ کے جشن پر لائیو ٹی وی پر سخت تبصرہ
آئی پی ایل 2026 کا سیزن اپنے پورے جوبن پر ہے، جہاں روزانہ شائقین کو سنسنی خیز اور غیر متوقع مقابلے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ جے پور کے سوائی مان سنگھ اسٹیڈیم میں راجستھان رائلز (RR) اور لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کے درمیان کھیلا گیا حالیہ میچ بھی ایک ایسے ہی سنسنی خیز ڈرامے کا گواہ بنا۔ اس میچ میں جہاں راجستھان رائلز نے 221 رنز کا پہاڑ جیسا ہدف کامیابی سے حاصل کر کے خود کو پلے آف کی دوڑ میں برقرار رکھا، وہیں لکھنؤ سپر جائنٹس کے نوجوان اور ابھرتے ہوئے بائیں ہاتھ کے تیز گیند باز آکاش سنگھ کے لیے یہ میچ کسی ڈراؤنے خواب میں تبدیل ہو گیا۔ میچ کے دوران آکاش سنگھ کی مہنگی گیند بازی اور ان کے جارحانہ رویے پر ہندوستان کے لیجنڈری بلے باز اور معروف مبصر سنیل گواسکر نے سخت برہمی کا اظہار کیا اور لائیو کمنٹری کے دوران ان کے وائرل جشن کا شدید مذاق اڑایا۔
آکاش سنگھ کا وائرل جشن اور گواسکر کا سخت تبصرہ
آئی پی ایل 2026 کے اس سیزن میں نوجوان کھلاڑیوں کا جوش و خروش دیدنی ہے، لیکن بعض اوقات یہ جوش حد سے تجاوز کر جاتا ہے۔ چنئی سپر کنگز (CSK) کے خلاف کھیلے گئے گزشتہ میچ میں آکاش سنگھ نے شاندار گیند بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھنؤ کی جیت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے صرف 26 رنز دے کر 3 اہم وکٹیں حاصل کی تھیں، جس کے بعد انہوں نے اپنی جیب سے ایک فرضی پرچی یا ‘چٹ’ نکال کر دیکھنے کا منفرد جشن منایا تھا۔ یہ جشن سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گیا اور شائقین نے اسے خوب پسند کیا۔ لیکن راجستھان رائلز کے خلاف میچ میں جب آکاش سنگھ کی بری طرح پٹائی ہوئی، تو سنیل گواسکر نے اسی جشن کو بنیاد بنا کر ان پر طنز کے تیر چلا دیے۔
کمنٹری باکس میں موجود سنیل گواسکر آکاش سنگھ کی مایوس کن گیند بازی اور ان کے رویے سے شدید ناخوش نظر آئے۔ جب راجستھان کے بلے باز آکاش سنگھ کی گیندوں پر لگاتار چوکے اور چھکے برسا رہے تھے، تو گواسکر نے مائیک پر کہا: “میں صرف یہ پوچھ رہا ہوں کہ اب وہ چٹ کہاں ہے؟ چٹ اب جیب میں ہی ہے نا؟ آپ کو ایک اوور میں چھ گیندیں ملتی ہیں، اور ہو سکتا ہے کہ آپ ان میں سے کسی ایک گیند پر وکٹ حاصل کر لیں۔ لیکن باقی پانچ گیندوں پر آپ کی بری طرح پٹائی ہو رہی ہے۔ اس نے صرف 17 گیندوں پر 48 رنز دے دیے ہیں۔” گواسکر کا یہ تبصرہ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور شائقین کرکٹ اس پر مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔
جے پور میں آکاش سنگھ کی مایوس کن کارکردگی
اگرچہ آکاش سنگھ نے راجستھان رائلز کے مایہ ناز اوپنر یشسوی جیسوال کو آؤٹ کرنے میں کامیابی حاصل کی، لیکن اس کے باوجود وہ راجستھان کے بلے بازوں کو لگام دینے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔ انہوں نے اپنے 3 اوورز کے اسپیل میں 18.00 کی اوسط سے 54 رنز لٹا دیے۔ جیسوال کو آؤٹ کرنے کے بعد آکاش سنگھ نے ایک بار پھر روایتی عاجزی کے بجائے ایک نیا جشن منایا۔ اس بار انہوں نے مشہور فٹ بالر مارکس رشفورڈ کے انداز میں اپنے سر کی طرف اشارہ کیا اور پھر انگلی آسمان کی طرف اٹھائی۔ لیکن ان کا یہ نیا جشن بھی ان کی خراب گیند بازی پر پردہ نہ ڈال سکا، کیونکہ راجستھان کے دیگر بلے بازوں نے ان کے خلاف رنز بنانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔
ویببھو سوریاونشی کا طوفانی حملہ اور راجستھان کی تاریخی فتح
راجستھان رائلز کی اس یادگار فتح کے اصل معمار نوجوان سنسنی خیز بلے باز ویببھو سوریاونشی تھے، جنہوں نے اپنی بے خوف بیٹنگ سے لکھنؤ کے باؤلنگ اٹیک کو تہس نہس کر دیا۔ 221 رنز کے بڑے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے، سوریاونشی نے گراؤنڈ کے چاروں طرف شاندار اور دلیرانہ شاٹس کھیلے۔ انہوں نے صرف 38 گیندوں پر 93 رنز کی ناقابل یقین اننگز کھیلی، جس میں کئی فلک شگاف چھکے اور شاندار چوکے شامل تھے۔ خاص طور پر آکاش سنگھ کے خلاف سوریاونشی نے بے رحمانہ بیٹنگ کی اور نوجوان باؤلر کے اعتماد کو ہلا کر رکھ دیا۔ سوریاونشی کی اس طوفانی باری کی بدولت راجستھان رائلز نے 19.1 اوورز میں صرف 3 وکٹیں کھو کر ہدف حاصل کر لیا اور پلے آف کی ریس میں اپنی امیدیں برقرار رکھیں۔
لکھنؤ سپر جائنٹس کا پلے آف کا سفر ختم
اس شکست کے ساتھ ہی لکھنؤ سپر جائنٹس (LSG) کا آئی پی ایل 2026 کے پلے آف میں پہنچنے کا خواب چکنا چور ہو گیا ہے اور وہ اب باضابطہ طور پر ٹورنامنٹ سے باہر ہو چکے ہیں۔ لکھنؤ کی ٹیم اس پورے سیزن میں مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہی، جس کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑا۔ تاہم، ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے باوجود لکھنؤ کی ٹیم اب بھی دوسری ٹیموں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ لکھنؤ کا آخری لیگ میچ 23 مئی کو پنجاب کنگز کے خلاف شیڈول ہے۔ اگر لکھنؤ کی ٹیم پنجاب کنگز کو شکست دینے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو یہ پنجاب کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا، جو مسلسل چھ شکستوں کے بعد پہلے ہی نازک صورتحال سے دوچار ہیں اور ان کا پلے آف کا سفر بھی ختم ہو سکتا ہے۔
نوجوان کھلاڑیوں کے لیے عاجزی کا سبق
سنیل گواسکر کی جانب سے آکاش سنگھ پر کی جانے والی تنقید دراصل تمام نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ایک اہم سبق ہے۔ کرکٹ، اور خاص طور پر ٹی 20 فارمیٹ، انتہائی غیر یقینی کا شکار رہتا ہے جہاں ایک دن آپ ہیرو ہوتے ہیں اور دوسرے ہی دن آپ کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گواسکر جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کا ماننا ہے کہ کامیابی کے دنوں میں کھلاڑیوں کو اپنے پاؤں زمین پر رکھنے چاہئیں اور عاجزی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ آکاش سنگھ جیسے باصلاحیت گیند باز کے لیے یہ میچ اور گواسکر کی تنقید یقیناً ایک بہترین سبق ثابت ہوگی، جس سے سیکھ کر وہ مستقبل میں ایک بہتر اور سمجھدار کرکٹر بن کر ابھر سکتے ہیں۔
